پٹنہ کے گرلس ہاسٹل میں نیٹ طالبہ کی عصمت دری اور موت معاملے میں 2 سینئر پولیس افسر معطل

معطل ہونے والے ایس ایچ او اور ایڈیشنل تھانہ انچارج پر الزام ہے کہ واردات کی اطلاع ملنے کے باوجود انہوں نے بروقت اور مناسب کارروائی نہیں کی، جس کی وجہ سے ابتدائی تفتیش میں رکاوٹ پیدا ہوئی

بہار پولیس، تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

پٹنہ: بہار کی راجدھانی پٹنہ کے شمبھو گرلس ہاسٹل میں نیٹ یعنی قومی اہلیتی داخلہ ٹیسٹ (این ای ای ٹی) کی تیاری کر رہی طالبہ کے مبینہ عصمت دری اور اس کے بعد قتل کے معاملے میں بہار پولیس نے بڑی کارروائی کی ہے۔ ایف ایس ایل (فارنسک سائنس لیباریٹری) رپورٹ کے جاری ہونے کے بعد پٹنہ پولیس نے لاپرواہی کے الزام میں 2 سینئر پولیس افسران کو فوری اثر سے معطل کر دیا ہے۔ تازہ کارروائی کی زد میں آئے افسران میں کدم کنواں پولیس اسٹیشن کے ایڈیشنل تھانہ انچارج ہیمنت جھا اور چترگپت نگر پولیس اسٹیشن کی ایس ایچ او روشنی کماری شامل ہیں۔ دونوں پر الزام ہے کہ اطلاع ملنے کے باوجود انہوں نے بروقت اور مناسب کارروائی نہیں کی جس کی وجہ سے ابتدائی تفتیش میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔

’اے بی پی نیوز‘ پولیس کی رپورٹ کے مطابق معلومات حاصل کرنے اور بروقت کارروائی کرنے میں ناکامی سامنے آئی ہے۔ اسی وجہ سے معاملے کی ابتدائی سمت واضح نہیں ہو پائی اور جانچ میں تاخیر ہوئی۔ ایف ایس ایل کی رپورٹ جاری ہونے کے بعد حقائق کا جائزہ لیا گیا تو ذمہ دار افسران کے کردار پر سوال کھڑے ہو گئے۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ پٹنہ کے شمبھو گرلس ہاسٹل سے متعلق ہے۔ یہاں نیٹ ی تیاری کرنے والی ایک طالبہ کی مبینہ طور پر عصمت دری کی گئی اور بعد میں اس کی موت ہو گئی۔ ابتدائی مرحلے میں پولیس نے معاملے کو مشتبہ قرار دیا جس سے اہل خانہ اور طلباء میں غم و غصہ پھیل گیا۔


واقعے کے بعد اہل خانہ اور طلباء نے پولیس پر پردہ پوشی کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو حقیقت جلد سامنے آ سکتی تھی۔ احتجاج اور بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد سینئر حکام نے پورے معاملے کا دوبارہ جائزہ لیا۔ واردات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پٹنہ پولیس نے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے جواب ہر پہلو کی تفتیش کر رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا اور تحقیقات کو غیر جانبداری اور تیزی سے مکمل کیا جائے گا۔ وہیں معطلی کی کارروائی کو جوابدہی طے کرنے کی سمت میں اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔