آتشی معاملہ: پنجاب پولیس کے خلاف دہلی اسمبلی کی کارروائی، استحقاق کمیٹی کو تحقیقات کا حکم
اسپیکر نے پنجاب کے ڈی جی پی اور جالندھر پولیس کمشنر کی تحریری وضاحتوں کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پنجاب پولیس نے قانون کے مطابق کام کیا ہے

دہلی اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا نے اپوزیشن لیڈرآتشی سے متعلق ویڈیو تنازعہ میں پنجاب پولیس کی کارروائیوں کو ایوان کی استحقاق کمیٹی کو تفصیلی تحقیقات کے لیے بھیج دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی نظرمیں اس سلسلے میں استحقاق کی خلاف ورزی اورایوان کی توہین کا معاملہ بنتا ہے۔ دہلی کے کابینہ وزیرکپل مشرا کی طرف سے دائر کی گئی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے گپتا نے کہا کہ استحقاق کمیٹی پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اورجالندھر پولیس کمشنر کے کردارکی تحقیقات کرے گی۔
یہ معاملہ پنجاب پولیس کی طرف سے 6 جنوری 2026 کو دہلی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر آتشی کے بیانات کے مبینہ طور پر آڈٹ شدہ یا چھیڑچھاڑ کئے گئے ویڈیو کلپ کے بارے میں اقبال سنگھ کی شکایت پر درج کی گئی ایف آئی آر سے متعلق ہے۔ پنجاب پولیس کی طرف سے پیش جواب اور مشرا کی شکایت پرغور کرنے کے بعد اسمبلی اسپیکر نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ معاملہ براہ راست ایوان کی کارروائی سے متعلق ہے، جو قانون سازی کے استحقاق کے دائرے میں آتا ہے۔
اس سلسلے میں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے پنجاب پولیس کو مطلع کرنے کے باوجود کہ اسپیکر اور ایوان نے معاملے کا نوٹس لیا ہے، ایف آئی آر درج کی گئی اور اسمبلی کی کارروائی میں مداخلت کا الزام لگا کر عوامی بیانات دئیے گئے۔ اسپیکر نے پنجاب کے ڈی جی پی اور جالندھر پولیس کمشنر کی طرف سے جمع کرائی گئی تحریری وضاحتوں کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پنجاب پولیس نے قانون کے مطابق کام کیا ہے اور یہ مبینہ کارروائیاں دہلی اسمبلی سے باہر کے افراد نے کی ہیں۔
پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا کہ بار بار یاددہانی کے باوجود پنجاب پولیس دہلی اسمبلی سیکرٹریٹ کو ضروری دستاویزات فراہم کرانے میں ناکام رہی، جس میں شکایت کی کاپیاں، ایف آئی آر، پنجاب پولیس کی سوشل میڈیا ایکسپرٹ کی رپورٹ اور پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) فرانزک رپورٹ شامل ہیں۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ پنجاب ایف ایس ایل کے ڈائریکٹر سے خط و کتابت سے معلوم ہوا کہ فرانزک رپورٹ صرف متعلقہ پولیس افسران کے ساتھ شیئر کی گئی تھی۔