بجٹ اجلاس میں ہنگامہ جاری، وزیر اعظم کی تقریر کے بغیر لوک سبھا میں شکریہ کی تحریک منظور
پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں شدید ہنگامے کے دوران لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک وزیر اعظم کی تقریر کے بغیر منظور کر لی گئی، جبکہ راجیہ سبھا میں بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نوک جھونک ہوئی

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں جمعرات کو ایک بار پھر ہنگامہ آرائی کے سبب کارروائی متاثر ہوئی۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایوانوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور متعدد مواقع پر کارروائی روکنی پڑی۔ سب سے اہم پیش رفت یہ رہی کہ لوک سبھا میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر پیش کی گئی شکریہ کی تحریک وزیر اعظم نریندر مودی کی مجوزہ تقریر کے بغیر ہی منظور کر لی گئی۔
لوک سبھا کی کارروائی جیسے ہی شروع ہوئی، اپوزیشن اراکین ایوان کے وسط میں آ کر احتجاج کرنے لگے۔ شور شرابے کے باعث اسپیکر اوم برلا نے کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی۔ جب ایوان کی نشست دوبارہ شروع ہوئی تو صورت حال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی اور اپوزیشن نے ایک بار پھر نعرے بازی کی۔ اسی ہنگامے کے دوران اسپیکر نے صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کو رائے شماری کے لیے پیش کیا، جسے صوتی ووٹ کے ذریعے منظور کر لیا گیا۔ وزیر اعظم کو اس بحث کا جواب دینا تھا اور پہلے اس کے لیے وقت بھی مقرر کیا گیا تھا، تاہم مسلسل ہنگامے کی وجہ سے وہ ایوان میں تقریر نہیں کر سکے۔
ادھر راجیہ سبھا میں بھی ماحول کشیدہ رہا۔ قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے ایوان میں کہا کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف کو بولنے کا موقع نہیں دیا جا رہا، جو جمہوری روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پارلیمنٹ دونوں ایوانوں کا مجموعہ ہے اور ایک ایوان میں پیش آنے والے واقعات پر دوسرے ایوان میں اظہار خیال کیا جانا چاہیے۔ ان کے بیان پر قائد ایوان جے پی نڈا نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ راجیہ سبھا میں لوک سبھا کی کارروائی پر بحث قواعد کے خلاف ہے اور ہر ایوان اپنی حدود میں کام کرتا ہے۔ اس معاملے پر دونوں رہنماؤں کے درمیان تکرار بھی دیکھنے میں آئی۔
قبل ازیں، اپوزیشن جماعتوں کے فلور لیڈروں کی ایک میٹنگ پارلیمنٹ کے احاطے میں قائد حزب اختلاف کے دفتر میں منعقد ہوئی۔ اس نشست میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی بھی شریک تھے۔ مطابق اجلاس میں بجٹ اجلاس کے دوران مشترکہ حکمت عملی اور ایوان میں احتجاج کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ چند دنوں سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں وقفے وقفے سے ہنگامہ جاری ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ اسے اہم قومی معاملات پر بات کرنے کا پورا موقع نہیں دیا جا رہا، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ایوان کی کارروائی قواعد کے مطابق چل رہی ہے اور غیر ضروری ہنگامہ آرائی سے پارلیمانی کام متاثر ہو رہا ہے۔ موجودہ صورت حال میں بجٹ اجلاس کی کارروائی مسلسل دباؤ کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔