قومی خبریں

پد یاترا کے ذریعے ملک کو جوڑنے کی تپسیا کر رہا ہوں: راہل گاندھی

راہل گاندھی نے کہا کہ بھارت جوڈو یاترا تپسیا ہے۔ اس تپسیا کے ذریعے میں ملک سے ڈر، خوف اور نفرت کو ختم کرنے کا کام کر رہا ہوں، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس شخصی پوجا کو اہمیت دیتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>بھارت جوڈو یاترا</p></div>

بھارت جوڈو یاترا

 
ali

کروکشیتر (ہریانہ): کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے 'بھارت جوڑو یاترا' کو تپسیا بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس تپسیا کے ذریعہ وہ کنیا کماری سے کشمیر تک نفرت اور خوف کے ماحول کو ختم کرکے بھائی چارے اور ہم آہنگی کو بڑھانے کا کام کر رہے ہیں اور کروڑوں لوگ ان کی یاترا میں شامل ہو رہے ہیں۔

Published: undefined

راہل گاندھی نے ہریانہ میں کروکشیتر کے قریب سامنا میں بھارت جوڑو یاترا کے درمیان اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے کسان، مزدور، چھوٹے تاجر سبھی تپسوی ہیں لیکن ان کی تپ کو اہمیت نہیں دی جا رہی ہے اور شخصی پوجا کی حمایتی تنظیم کی حکومت میں انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

انہوں نے کہا، "بھارت جوڈو یاترا تپسیا ہے۔ اس تپسیا کے ذریعے میں ملک سے ڈر، خوف اور نفرت کو ختم کرنے کا کام کر رہا ہوں، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس شخصی پوجا کو اہمیت دیتے ہیں۔ اس کے لیے شخصی پوجا کی اہم ہے اور کسی تپ اور تپسیا سے ان کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

Published: undefined

کانگریس کو تپسوی تنظیم بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں تپسیا سے تبدیلی لائی جاسکتی ہے لیکن بی جے پی میں پوجا کو اہمیت دی جاتی ہے اور آر ایس ایس ایک ایسی تنظیم ہے جو اپنی پوجا چاہتی ہے اس لیے آر ایس ایس کو بھارت جوڑو یاترا نکال کر ہی جواب دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس یاترا میں لاکھوں لوگ تپسیا کر رہے ہیں۔

Published: undefined

بی جے پی اور کانگریس کے درمیان بنیادی فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس میں تپسیا کا احترام کیا جاتا ہے جبکہ بی جے پی میں پوجا کو اہمیت دی جاتی ہے۔ بی جے پی ڈرا دھمکا کر آگے بڑھنا چاہتی ہے، لیکن کانگریس بغیر کسی خوف کے تپسیا کرکے آگے بڑھتی ہے۔ انہوں نے کانگریس کے ہاتھ کے نشان کو بھی خوف سے آزادی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہاتھ کا نشان بے خوفی کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح سے گرو نانک دیو، مہاتما بدھ، بھگوان شیو کے ہاتھوں کی پوزیشن بھی بے خوفی کی علامت ہے۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا کا مقصد ملک کے لوگوں کو سچائی سے روشناس کرانا ہے۔ کانگریس کو یاترا کا فائدہ ملے یا نہ ملے، لیکن اس کا مقصد نفرت نہ کرو، یہ یاترا اس معاشی ناہمواری اور تمام دولت جو دوچار لوگوں کے ہاتھوں میں دے کر مہنگائی میں اضافہ کیا جا رہا ہے اس کے خلاف ہے۔ یاترا کا پیغام ہر جگہ پہنچ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یاترا میں لگاتار لوگ جمع ہو رہے ہیں۔ راجستھان، مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور ہریانہ میں یاترا کو جو پذیرائی مل رہی ہے وہ حیرت انگیز ہے اور عوام کے جوش و خروش سے یہ واضح ہے کہ کانگریس مدھیہ پردیش، ہریانہ میں حکومت بنائے گی اور عوام کے سوالات کو حل کرے گی۔

Published: undefined

راہل گاندھی نے کسانوں کو ملک کی ریڑھ کی ہڈی بتاتے ہوئے ان کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس اپنی پالیسیوں سے ان پر حملہ کر رہی ہے، اسے روکا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جہاں بھی کانگریس کی حکومت آئے گی وہاں کسانوں کو تحفظ ملے گا اور ان کی مدد کی جائے گی۔ انہوں نے کم از کم سہارا قیمت-ایم ایس پی کو ضروری قرار دیا اور کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ وہ بھارت جوڑو یاترا کے دوران ہزاروں بچوں سے ملے اور اس دوران انہیں احساس ہوا کہ ملک کے بچوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جتنے بچوں سے وہ ملے ان میں 90 فیصد بچوں نے کہا کہ وہ انجینئر، ڈاکٹر، وکیل، آئی اے ایس وغیرہ بننا چاہتے ہیں۔ ملک میں اتنی نوکریاں نہیں ہیں، اس لیے انہیں لگا کہ بچوں سے جھوٹ بولا جا رہا ہے اور ان کے خوابوں کو توڑنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزگار کے لیے فیکٹریوں کی ضرورت ہوتی ہے، فوڈ پروسیسنگ اداروں اور چھوٹی صنعتوں کی ضرورت ہوتی ہے جہاں بڑی تعداد میں نوکریاں دی جا سکیں لیکن یہاں چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو ختم کیا گیا ہے۔

Published: undefined

کانگریس لیڈر نے کہا، ''جو چھوٹے تاجر ہیں ان کے کام کو مارا جا رہا ہے۔ اگر چھوٹی صنعتوں کو زندہ رکھا جاتا، انہیں ٹیکنالوجی سے جوڑا جاتا تو ملک میں ایک نیا صنعتی انقلاب آتا اور لاکھوں ملازمتوں کے دروازے کھلتے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہنر مندی کی ترقی کا احترام ضروری ہے اور جب بڑھئی، کسان، لوہار کو ان کے کام کے لئے احترام دیا جائے گا تو بڑی تعداد میں روزگار پیدا ہوگا اور میڈ ان انڈیا ایک تحریک بن جائے گی۔

Published: undefined

چھتیس گڑھ میں خوف کے ماحول کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہاں کچھ معاملات ہو سکتے ہیں، لیکن وہاں کی حکومت کی پالیسی خوف اور تقسیم کی نہیں ہے، کچھ مسائل ہیں، وہ حل ہو جائیں گے، لیکن اگر کوئی کمی نظر آئی تو وہ خود وہاں جائیں گے اور کمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined