باچا خان: انتقام کی سرزمین پر امن کا سب سے بڑا علمبردار

باچا خان نے پختون برادری میں انتقام کی روایت کے خلاف کھڑے ہو کر عدم تشدد کی تحریک شروع کی۔ انہوں نے آزادی کے بعد بھی اصولوں پر قائم رہے اور عمر کا بڑا حصہ جیل میں گزارا، مگر نظریہ نہیں بدلا

<div class="paragraphs"><p>خان عبدالغفار خان / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز تجزیہ

6 فروری 1890 کو پشاور وادی کے عثمان زئی گاؤں میں پیدا ہونے والے خان عبدالغفار خان کا بچپن ایسی روایات میں گزرا جہاں انتقام لینا عزت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ پختون برادری بہادری کے لیے جانی جاتی تھی مگر یہ بہادری اکثر باہمی دشمنیوں کی نذر ہو جاتی تھی۔ نوجوان عبدالغفار نے جلد ہی سمجھ لیا کہ انگریزوں کی غلامی سے بڑی غلامی جہالت ہے۔

ان کی زندگی میں ایک فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب دسویں جماعت کے بعد انہیں معروف فوجی یونٹ ’کارپس آف گائیڈز‘ میں کمیشن کی پیشکش ہوئی۔ ایک پختون نوجوان کے لیے یہ باعثِ فخر تھا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ برطانوی افسر ہندوستانی سپاہیوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں تو ان کا وقار بیدار ہو گیا۔ انہوں نے یہ ملازمت مسترد کر دی۔ یہ ان کا پہلا عملی احتجاج تھا۔ انہوں نے طے کر لیا کہ وہ انگریزوں کے لیے نہیں بلکہ اپنے لوگوں کے لیے کام کریں گے۔ 1910 میں محض 20 برس کی عمر میں انہوں نے ’آزاد اسکول‘ قائم کیا۔

تاریخ میں افواج ہمیشہ ہتھیاروں سے لیس رہی ہیں مگر 1929 میں عبدالغفار خان نے ایک ایسا تجربہ کیا جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔ انہوں نے ’خدائی خدمتگار‘ تنظیم کی بنیاد رکھی۔ تصور کیجیے، پختونوں کی ایک منظم جماعت، باوردی مگر ہاتھوں میں بندوق کی جگہ خدمت کا جذبہ۔ اینٹوں کی گرد سے رنگے سرخ کپڑوں کے باعث انہیں ’لال کُرتی‘ کہا جانے لگا۔ اس تنظیم میں شامل ہونے کی قسم اتنی کڑی تھی کہ بڑے بڑے دلیر بھی لرز جائیں۔ عہد یہ تھا، ’’میں تشدد اور انتقام کی خواہش ترک کروں گا۔ جو مجھ پر ظلم کرے گا، اسے معاف کر دوں گا۔‘‘

1930 کے نمک ستیہ گرہ کے دوران پشاور کے قصہ خوانی بازار میں جب برطانوی فوج نے نہتے مظاہرین پر گولیاں چلائیں تو سیکڑوں لال کُرتی کارکنوں نے سینوں پر گولیاں کھائیں، مگر کسی نے پتھر تک نہ اٹھایا۔ بعد میں ایک برطانوی افسر نے اعتراف کیا تھا کہ مسلح پختونوں سے لڑنا آسان ہے مگر ان نہتے پختونوں نے ہماری نیندیں اڑا دی ہیں۔


مہاتما گاندھی کے ساتھ ان کا تعلق سیاست سے بڑھ کر روحانی ہم آہنگی کا تھا۔ زبان الگ، لباس مختلف، مگر روح ایک — عدم تشدد۔ اسی مضبوط رشتے نے انہیں ’سرحدی گاندھی‘ کا لقب دلایا۔ 1934 میں انہیں کانگریس کی صدارت کی پیشکش ہوئی مگر انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔

خان عبدالغفار خان کو ’سرحدی گاندھی‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے شمال مغربی سرحدی صوبے میں مہاتما گاندھی کے عدم تشدد، ستیہ گرہ اور امن کے نظریات پر عمل کرتے ہوئے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی قیادت کی۔ وہ گاندھی جی کے قریبی رفقا میں شمار ہوتے تھے اور انہوں نے پختونوں کو پرامن تحریک کے لیے آمادہ کیا۔

1947 ہندوستان کے لیے آزادی کا سال تھا مگر باچا خان کے لیے یہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش ثابت ہوا۔ وہ مذہب کی بنیاد پر تقسیم کے سخت مخالف تھے۔ جب آزادی تقسیم کے ساتھ آئی تو ان کا دل ٹوٹ گیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں بھیڑیوں کے سامنے پھینک دیا گیا ہے۔ یہ جملہ آج بھی تاریخ میں ایک گہری چبھن کی طرح محفوظ ہے۔ ان کا اشارہ اس نئے پاکستان کی طرف تھا جہاں پختونوں کے حقوق واضح طور پر متعین نہیں کیے گئے تھے۔

تقسیم کے بعد وہ پاکستان ہی میں رہے مگر ان کے اصولوں نے انہیں وہاں بھی سکون سے جینے نہ دیا۔ انہوں نے پختونوں کے حقوق اور ’پختونستان‘ کی خودمختاری کا مطالبہ کیا، جسے غداری قرار دیا گیا۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ جس آزادی کے لیے انہوں نے جوانی انگریزوں کی جیلوں میں گزاری، اسی آزادی کے بعد بڑھاپا پاکستانی زندانوں میں بسر کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے مجموعی طور پر 27 برس قید میں گزارے۔ یہ مدت نیلسن منڈیلا کی اسیری سے بھی زیادہ تھی۔ مگر قید و بند کی صعوبتیں بھی ان کے حوصلے کو متزلزل نہ کر سکیں۔


1960 کی دہائی میں انہیں افغانستان میں جلاوطنی اختیار کرنا پڑی لیکن ان کی مسکراہٹ اور عدم تشدد کا پیغام کبھی مدھم نہ ہوا۔ ہندوستان نے بھی اپنے اس بچھڑے سپوت کو فراموش نہیں کیا۔ 1987 میں جب وہ علاج کی غرض سے ہندوستان آئے تو عوام نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ حکومتِ ہند نے انہیں ملک کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز ’بھارت رتن‘ سے نوازا۔

وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے غیر ہندوستانی شہری تھے۔ یہ اعزاز گویا اس سرحد کو مٹانے کی ایک علامتی کوشش تھا جو نقشوں پر تو کھینچی گئی تھی مگر دلوں کو جدا نہ کر سکی تھی۔ 1988 میں پاکستان حکومت نے انہیں پشاور میں ان کے گھر پر نظر بند کر دیا۔ 20 جنوری 1988 کو ان کا انتقال ہوا اور ان کی وصیت کے مطابق انہیں افغانستان کے شہر جلال آباد میں سپردِ خاک کیا گیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔