اب بغیر پین کارڈ نہیں ہوگی جائیداد کی رجسٹری، یوپی حکومت کا اہم فیصلہ
اتر پردیش حکومت نے زمین اور مکان کی خرید و فروخت کے لیے پین کارڈ لازمی قرار دے دیا ہے۔ رجسٹری کے وقت خریدار اور فروخت کنندہ دونوں کا پین نمبر درج اور تصدیق کیا جائے گا، ورنہ عمل آگے نہیں بڑھے گا

لکھنؤ: اتر پردیش میں زمین، مکان یا کسی بھی قسم کی غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت کے لیے پین کارڈ دینا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت کی ہدایت پر رجسٹری محکمہ نے نیا حکم نامہ جاری کر دیا ہے، جس کے تحت اب جائیداد کی رجسٹری کے دوران خریدار اور فروخت کنندہ دونوں کا پین نمبر درج کرنا اور اس کی توثیق کرنا ضروری ہوگا۔ بغیر پین کی تفصیل کے رجسٹری کا عمل مکمل نہیں کیا جائے گا۔
حکومت کی جانب سے جاری ہدایات تمام اضلاع کے رجسٹری دفاتر کو بھیج دی گئی ہیں۔ افسروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ آن لائن درخواست کے نظام میں دونوں فریقین کا پین نمبر لازماً درج کیا جائے۔ پین نمبر کے اندراج اور تصدیق کے بغیر سافٹ ویئر نظام درخواست کو آگے نہیں بڑھنے دے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مشتبہ لین دین اور بے نامی جائیداد کی خرید و فروخت پر روک لگانے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ خاص طور پر ہندوستان اور نیپال کی سرحد سے ملحق علاقوں میں بیرونی سرمایہ کے ذریعے زمین کی خرید اور غلط سرمایہ کاری کے معاملات پر نظر رکھنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ پین کارڈ لازمی ہونے سے ہر لین دین کا ریکارڈ محفوظ رہے گا اور اس کی نگرانی ممکن ہو سکے گی۔
رجسٹری محکمہ اپنے سافٹ ویئر نظام میں ضروری تبدیلیاں بھی کر رہا ہے تاکہ پین نمبر کی آن لائن توثیق فوری طور پر ہو سکے۔ اس سے جعلی دستاویزات یا غلط شناخت کی بنیاد پر ہونے والی رجسٹری کو روکا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ ٹیکس سے متعلق معاملات میں بھی معلومات کے ملاپ میں آسانی ہوگی اور مالی بے ضابطگیوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
افسروں کے مطابق نئے ضابطے سے جائیداد کی خرید و فروخت کا عمل زیادہ شفاف ہوگا اور غیر قانونی سرمایہ کاری کے امکانات کم ہوں گے۔ یہ اصول پورے اتر پردیش میں نافذ ہوگا اور تمام رجسٹری دفاتر کو اس پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اب اگر کوئی شخص ریاست میں زمین یا مکان خریدنا چاہتا ہے تو اسے رجسٹری کے وقت اپنا پین کارڈ پیش کرنا لازمی ہوگا، بصورت دیگر رجسٹری ممکن نہیں ہوگی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔