ظہران ممدانی نے حجاب کو خواتین کے لیے ایمان، شناخت اور فخر کی علامت قرار دیا!

نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی عالمی یوم حجاب کے موقع پر ایک سرکاری پوسٹ کے بعد تنازعات میں گھر گئے ہیں۔ پوسٹ میں حجاب کو مسلمان خواتین کے لیے ایمان اور فخر کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی عالمی یوم حجاب کے موقع پر سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے بعد تنازعات میں گھر گئے ہیں۔ ایکس پر ان کے آفس آف امیگرنٹ افیئرز کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ میں حجاب کو مسلمان خواتین کے لیے ایمان، شناخت اور فخر کی علامت قرار دیا گیا ہے۔لگ رہا ہے کہ انہوں نے سوچ سمجھ کر اس کو شیئر کیا ہے، تاہم ایران میں حجاب کے لازمی قوانین کے خلاف جاری مظاہروں کے تناظر میں اس پیغام کو غیر حساس قرار دیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا گیا، "آج ہم دنیا بھر میں ان مسلم خواتین اور لڑکیوں کے ایمان، شناخت اور فخر کا جشن مناتے ہیں جو حجاب پہننے کا انتخاب کرتی ہیں۔" اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا، خاص طور پر وہ لوگ جنہوں نے ایران میں حجاب نہ پہننے پر خواتین کی گرفتاریوں، مار پیٹ اور ہلاکتوں کی طرف اشارہ کیا۔


ایرانی نژاد امریکی صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن مسیح علی نژاد نے میئر ممدانی کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نیویارک جیسے آزاد شہر میں عالمی یوم حجاب منانا ان کے لیے اذیت ناک ہے، جب ایران میں خواتین کو حجاب پہننے سے انکار پر جیلوں میں ڈالا اور قتل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایسی پوسٹیں ظالموں کے ساتھ کھڑے ہونے کے مترادف ہیں اور ایران میں خواتین پر ہونے والے ظلم پر ظہران ممدانی کی خاموشی شرمناک ہے۔

ترک نژاد امریکی ماہر معاشیات تیمور کوران نے کہا کہ حجاب اسلام کے اندر بھی ایک متنازعہ علامت ہے اور بہت سے ممالک میں اسے فخر کے طور پر نہیں بلکہ ظلم کی ایک شکل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ کسی مخصوص مذہبی لباس کی سرکاری تسبیح مذہبی تعصب کو فروغ دے سکتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔