
بارتھی بسوراج، فوٹو ویڈیو گریپ
کرناٹک کے کرشن راج پورم (کے آر پورم) سے بی جے پی کے 64 سالہ ایم ایل اے بارتھی بسوراج کو ریئل اسٹیٹ کاروباری بکلا شیو کے قتل معاملے میں 7 دن کی سی آئی ڈی حراست میں پولیس کو سونپ دیا گیا جہاں ان سے سی آئی ڈی ٹیم گہرائی پوچھ گچھ کرے گی اور قتل معاملے کی تمام کڑیاں ملانے کی کوشش کرے گی۔
Published: undefined
بی جے پی کے ممبراسمبلی بسوراج کو بکلا شیو کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات کا سامنا ہے اور پولیس چارج شیٹ میں ملزم نمبر5 کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ وہ گزشتہ چند دنوں سے گرفتاری سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن ہفتہ کو سپریم کورٹ نے انہیں راحت دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد احمد آباد سے واپسی پر سی آئی ڈی نے انہیں 12 فروری کو بنگلورو ایئرپورٹ پر گرفتار کیا۔
Published: undefined
گرفتاری کے بعد بی جے پی ایم ایل اے کا بوورنگ اور لیڈی کرزن اسپتال میں طبی معائنہ کرایا گیا، جہاں بسوراج نے دل سے متعلق تکلیف کی شکایت کی۔ عدالت نے انہیں جے دیوا اسپتال میں دوبارہ معائنے کے لیے بھیجا، جہاں انہیں جمعہ کو داخل کیا گیا تھا اور میڈیکل رپورٹ میں انہیں فٹ قرار دے کر ڈسچارج کردیا گیا۔ اس کے بعد انہیں جج کی رہائش گاہ پر پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے بی جے پی ممبراسمبلی کو 7 دن کے لیے سی آئی ڈی کی تحویل میں دے دیا۔
Published: undefined
سی آئی ڈی نے بی جے پی ایم ایل اے کوعدالت میں پیش کرنے کے بعد 9 دن کی تحویل مانگی تھی لیکن عدالت نے 7 دن کی حراست کو منظوری دی۔ سی آئی ڈی کے اسپیشل پراسیکیوٹر اشوک نائک نے عدالت کو بتایا کہ ایم ایل اے نے پہلے بنگلورو پولیس کو دیئے گئے بیان میں حقیقت سے روگردانی کی تھی اور جھوٹ بولا تھا۔ سی آئی ڈی نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران پائے گئے شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بسوراج مرکزی ملزم جگدیش پدمنابھ عرف جگا (ملزم نمبر 1) اور اجیت کمار (ملزم نمبر 20) کو رئیل اسٹیٹ کاروبار میں مدد فراہم کر رہے تھے۔
Published: undefined
خبروں کے مطابق 15 جولائی 2025 کی شام کے وقت 44 سالہ رئیل اسٹیٹ کاروباری بکلا شیو کو مشرقی بنگلورو میں ان کے گھر کے باہر بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ قتل کی وجہ کتھاگنور میں اراضی کے حوالے سے جاری تنازعہ بتایا گیا تھا۔ سی آئی ڈی کے مطابق ایم ایل اے اس وقت گینگ کی مدد کررہے تھے جس نے اس قتل کوانجام دیا۔ تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا کہ متوفی نے اپنی موت سے چار سے پانچ ماہ قبل پولیس کو شکایت کی تھی کہ اسے ممبراسمبلی اور ان کے ساتھیوں سے جان کو خطرہ ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined