جے ای ای مینز: جڑواں بھائیوں مسرور اور مہروف خان نے تاریخ رقم کر دی، دونوں نے حاصل کیے یکساں 99.99 فیصد نمبر

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ’’دونوں بھائیوں کی کہانی صرف نمبروں تک محدود نہیں ہے۔ دونوں کا رہن سہن اور پڑھائی کا طریقہ بھی ایک جیسا ہے۔ دونوں اکثر ایک ہی کتاب سے ساتھ بیٹھ کر پڑھائی کرتے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>جڑواں بھائی مسرور اور مہروف خان (ویڈیو گریب)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

جڑواں بھائیوں نے جی ای ای مین جنوری سیشن کا امتحان ایک ساتھ پاس کیا، دونوں بھائیوں نے جے ای ای مین میں 99.99 فیصد نمبر حاصل کیے۔ بنیادی طور پر بھونیشور اوڈیشہ کے رہنے والے مسرور اور مہروف احمد خان نے کوٹا میں رہ کر تیاری شروع کی تھی۔ امتحان دینے والے دونوں بھائیوں نے ایک جیسا 300 میں سے 285 اسکور کیا ہے۔

جے ای ای مین جنوری سیشن کو ایک ساتھ ممتاز نمبرات کے ساتھ پاس کر کے دونوں بھائیوں نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ دونوں بھائی گزشتہ 3 سال سے کوٹا میں رہ کر انجینئرنگ کے داخلہ امتحان کی تیاری کر رہے ہیں۔ ماں نے بچوں کی تعلیم کے لیے اپنی ڈاکٹری کی سرکاری ملازمت چھوڑ دی تھی۔ وہ بچوں کے ساتھ کوٹا میں رہ کر انہیں امتحان کی تیاری کرانے میں مدد کر رہی تھیں۔ امتحان کا رزلٹ آنے کے بعد خاندان میں خوشی کا ماحول ہے۔ ماں کا کہنا ہے کہ اس کامیابی کے پیچھے بچوں کی خود کی محنت ہے۔


مہروف احمد خان نے خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے 99.99 پرسنٹائل حاصل کیا ہے اور میرے بھائی مسرور کا اسکور بھی میرے برابر ہے۔ کوچنگ کے دوران بھی جب ہم ٹیسٹ دیتے تھے تو کبھی میرے زیادہ نمبر آتے تھے تو کبھی بھائی بازی مار لے جاتے تھے۔ اصل میں کوچنگ میں بھی دونوں بھائی ہی پہلے اور دوسرے نمبر پر آتے تھے۔ لیکن آج کے رزلٹ میں ہمارا فیصد اسکور ایک جیسا رہا ہے، جسے دیکھ کر ہم دونوں بھائی حیران رہ گئے ہیں۔ ہم نے کبھی ایسا نہیں سوچا تھا، لیکن ہم دونوں بھائی اب بہت خوش ہیں۔‘‘

مسرور احمد خان نے کہا کہ ’’ہم دونوں بھائی 10 ویں کلاس سے ہی کوٹا میں رہ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ہم ماں سے ضد کر کے کوٹا میں پڑھائی کرنے پہنچے تھے۔ ہم نے ہمیشہ ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کی۔ جب بھی ہم میں سے کسی کا کم نمبر آتا تھا تو دوسرا اسے سنبھالتا اور آگے بہتر کرنے کی ترغیب دیتا تھا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں آج مسلسل محنت کا پھل ملا ہے۔ ہم دونوں بھائیوں کی کامیابی میں ماں کا بہت اہم کردار ہے۔ دونوں بھائیوں کو پڑھانے کے لیے ماں نے ڈاکٹری چھوڑ دی تھی۔ ماں نے ہمارے لیے اپنا کیریئر چھوڑا ہے۔‘‘


جے ای ای مین امتحان میں جڑواں بھائیوں کی کامیابی پر اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ’’دونوں بھائیوں کی کہانی صرف نمبروں تک محدود نہیں ہے۔ دونوں کا رہن سہن اور پڑھائی کا طریقہ بھی ایک جیسا ہے۔ دونوں اکثر ایک ہی کتاب سے ساتھ بیٹھ کر پڑھائی کرتے ہیں۔ اگر انہیں نصاب سے الگ بھی کچھ پڑھنا ہوتا ہے تو ایک ہی کتاب خریدتے ہیں۔‘‘ خاندان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’ان کی ڈریسنگ سینس بھی ایک جیسی ہے۔ دونوں کے چشمے کا نمبر، جوتے کا سائز اور روز مرہ کے معمول بھی ایک جیسے ہیں۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔