یوپی کانگریس نے لکھنؤ میں کیا اسمبلی کا گھیراؤ، منریگا اور عوامی مسائل پر احتجاج

لکھنؤ میں کانگریس نے منریگا سمیت مختلف عوامی مسائل پر اسمبلی کا گھیراؤ کیا۔ پولیس کی تعیناتی اور ہلکے طاقت کے استعمال سے کچھ دیر کشیدگی رہی۔ رہنماؤں نے حکومت پر مزدور مخالف پالیسیوں کا الزام لگایا

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

اتر پردیش کانگریس کمیٹی نے منریگا بچاؤ مہم کے تحت لکھنؤ میں ریاستی اسمبلی کا گھیراؤ کیا، جس کے دوران کارکنان کی بڑی تعداد سڑکوں پر نظر آئی۔ احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے اسمبلی کے اطراف سخت بیریکیڈنگ کرتے ہوئے بھاری پولیس فورس تعینات کی تھی۔ حالات میں کشیدگی بڑھنے پر پولیس نے مظاہرین کو ہٹانے کے لیے ہلکا طاقت کا استعمال بھی کیا، جس سے کچھ دیر کے لیے افرا تفری کی صورت حال پیدا ہو گئی۔

کانگریس کے رکن پارلیمان کشوری لال شرما نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت منریگا کو کمزور کر کے اسے ختم کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنڈنگ کے تناسب کو 60 اور 40 فیصد کر دینا کئی ریاستوں پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق جو ریاستیں پہلے ہی مالی مشکلات سے دوچار ہیں، وہ 40 فیصد حصہ کیسے ادا کریں گی۔ کشوری لال شرما نے کہا کہ اسی لیے پارٹی نے منریگا بچاؤ سنگرام شروع کیا ہے اور اسمبلی گھیراؤ اسی تحریک کا حصہ ہے۔


احتجاج کے دوران کانگریس لیڈر آرادھنا مشرا مونا نے کہا کہ منریگا صرف ایک قانون نہیں بلکہ دیہی روزگار کا سب سے بڑا وسیلہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مہاتما گاندھی کے نام کو ہٹانے سے حکومت کی نیت واضح ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی ملک بھر میں اس مسئلے پر آواز بلند کر رہی ہے اور آج کا احتجاج اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے بیریکیڈنگ اور پولیس کے گھیرے کو آواز دبانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں لاٹھی کے زور پر حکومت نہیں چلائی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو نہ روزگار مل رہا ہے اور نہ شفاف امتحانات، جس سے بے چینی بڑھ رہی ہے۔


اتر پردیش کانگریس کے انچارج اویناش پانڈے نے کہا کہ ہزاروں کارکنان کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ مزدوروں کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ کانگریس نے واضح کیا ہے کہ وہ منریگا، مہنگائی، بے روزگاری اور قانون و انتظام کے مسائل پر جمہوری انداز میں اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔