طنزو مزاح: ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقَت لیکن... تقدیس نقوی

بھئی دیکھیے جنت کی شناخت کے لئے دو تین چیزیں بہت اہم ہیں۔ پہلی یہ کہ جنت اقلیتوں کے لئے ہی بنائی گئی ہے۔ دوسرے جو لوگ حاکمِ جنت کی اطاعت کرتے رہیں گے ان کے لئے چین ہی چین ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تقدیس نقوی

آدھی صدی سے زیادہ عرصہ گزر گیا مگرخاندانی، دستاویزی اور لباس کے اعتبار سے مسلمان ہونے کے باوجود بھی آج تک ہمیں کسی نے یہ خوش خبری کبھی نہیں سنائی تھی کہ ہم اپنے ملک میں نہیں بلکہ جنت میں رہ رہے ہیں۔ ہم نےاگرجنت دیکھی نہیں توکیا ہوا، اس کے بارے میں بچپن سے شیخ صاحب سے سنا توبہت ہے۔ شادی نہیں کی تو کیا ہوا براتیں تو بہت دیکھی ہیں۔ پھر بھی اپنی جنت پہچاننے میں ہم سے نہ جانے کیسے چوک ہوگئی۔ جنت کی پہچان کے لئے تین چار چیزیں تو آج بھی ہمیں ازبر ہیں۔ آپ کا اپنا ذاتی قصر، حوریں اور دودھ و شھد کی بہتی نہریں، حوروں کا تو معاملہ آسان ہے کیونکہ اگرآپ کا ذاتی قصر ہو تو حوریں تو ہرجگہ کمپلیمنٹری ملتی ہیں۔

ہمیں یہ خبر یوں بھی بہت سوئیٹ لگی کیونکہ پرانی مشہور کہاوت ہے کہ بندہ گڑ نہ دے پر گڑ جیسی میٹھی بات تو کرے۔ کرونا کے خوف و ہراس زدہ ماحول میں اگر کوئی جنت افروز خبر سننے کو ملتی ہے تو اسے سن کر دل باغ باغ ہو جانا فطری ہے۔ ہم پہلے ہی بابا آدم کے شیطان کے دھوکہ میں آجانے کے باعث اوپر والی جنت سے نکال دیئے گئے تھے اورآج تک اس کی پاداش میں دردر کی ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں۔ جنت سے چلتے وقت بابا آدم اپنے ساتھ زمینی ملکیت کے کوئی دستاویزات بھی ساتھ نہیں لا سکے تھے جس کے باعث ان کی نسل کو اپنے اپنے علاقہ اور اثر و رسوخ کے حساب سے اپنی اپنی زمین کی ملکیت کے کاغذات تیار کرانے پڑے۔ کیونکہ اس قطعہ زمین کے جہاں ہمارے اجداد اتارے گئے تھے ہمارے پاس کوئی کاغذات نہیں تھے جن میں ہم اپنی جائے سکونت جنت لکھوا لیتے اس لئے شاید ہم آج تک جنت سے محروم ہی رہے۔ ہمیں یہ یقین ضرور ہے کہ جو لوگ شاہی قصر میں اتارے گئے ہون گے انھیں ضرور جنت کے کاغذات ملے ہون گے اور وہ آج بھی جنت کے مزے لوٹ رہے ہوں گے۔

لے دے کے ہمیں جنت ملنے کی موہوم سی اگر کوئی امید باقی تھی تو وہ ہمارے شیخ صاحب کے مواعظ اور خطبات میں کیے گئے جنت ملنے کے وہ وعدے تھے جن پر انھیں خود کو بھی شاید پورا یقین نہیں ہے۔ ورنہ وہ بھی گودی میڈیا کے ٹی وی چینلوں کے پروگراموں میں حوروں کو بھلا کر اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کنکھیوں سے خاتون اینکر کو پر شوق نظروں سے دیکھنے میں یہ نہ بھول جاتے کہ وہ وہاں کسی قوم کی نمائندگی کرنے کے لئے بلائے گئے ہیں۔ ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں 'مولانا' کے ٹیگ کے ساتھ بیٹھے ہوئے فرما رہے تھے کہ جن لوگوں کو اوپر والی جنت پانے کی جلدی نہیں ہے وہ ہماری پارٹی جوائن کرلیں جس کے بعد انہیں یہیں جنت کے مزے آجائیں گے۔ داڑھی کے ساتھ گاڑی بھی قیمتی رکھ سکتے ہیں۔

حال ہی میں موصول اس امید افزا خبر سے ہمیں بہت سکون ملا کیونکہ ہمیں یہ معلوم ہی نہ تھا کہ جس جنت کی خواہش میں ہم بلاوجہ روکھی سوکھی کھاکر اپنی زندگی گزار رہے ہیں وہ تو پہلے ہی سے ہماری اپنی ذاتی زمین پر ہی موجود ہے۔ بس اس جنت میں ٹہرنے کے لئے زمین کے کاغذات نہیں مل رہے ہیں، جو قومیت کے رجسٹریشن کے لئے بہت ضروری ہیں۔ ان کاغذات کے مل جانے کے بعد ہی ہم اس جنت ارضی کی سکونت کا پروانہ حاصل کرسکتے ہیں۔ تھوڑی پریشانی یہ ہے کہ جب تک یہ کاغذات نہیں ملتے تب تک ملک بدر کیے جانے کی دھمکیاں ضرور ملتی رہیں گی۔

ہمارے بزرگوں کو بھی اس بات کا کہاں اندازہ تھا کہ اک دن ان کی آنے والی نسلوں کو اوپر والی جنت کے حصول میں درپیش مشاکل سے زیادہ اپنی قطعہ زمین کے کاغذات ڈھونڈنے میں دقتیں پیش آئیں گی اور دستاویزات نہ ملنے کی صورت میں انھیں یہ جنت چھوڑنے کی دھمکیاں ملنے لگیں گی۔

اپنی جہاں دیدگی پر بھروسہ نہ کرتے ہوئے ہمارے دل میں یہ خیال آیا کہ ہمیں اس جنت کے بارے میں کسی ایسے شخص سے بھی دریافت کرنا چاہیے جس نے ممکن ہے اس جنت کی زیارت کی ہو۔ گھر سے نکلتے ہی سب سے پہلے ہمارا سامنا جس شخص سے ہوا وہ ہمارا سبزی والا عبدالرزاق تھا جو اپنا ٹھیلا لگائے باہر کھڑا تھا۔ ہم نے اس سے پوچھا: "میاں بھائی عبدالرزاق تم نے یہاں کہیں کوئی جنت دیکھی ہے اور اس کے کبھی مزے لوٹے ہیں؟"

ہمارا سوال سن کر عبدالرزاق تھوڑا سٹپٹا گیا اور کہنے لگا: "میاں جی ہم نے تو اپنی نظریں ہمیشہ نیچی ہی رکھیں ہیں۔ ویسے بھی کوئی جنت ہمارے سامنے ایسے بھلا کیوں آجاوے گی" شاید عبدالرزاق ہماری بات کا کوئی دوسرا مطلب نکال رہا تھا۔

"مگر تم تو پورے شہر میں گھومتے ہو، کہیں نہ کہیں جنت کا احساس تو ضرور ہوا ہوگا" ہم نے عبدالرزاق کو تھوڑا سہارا دیا۔

"ارے بابو جی آج کل تو پیٹ پالنا مشکل ہو رہا ہے۔ پہلے شہر کے گھر گھر میں لوگ ہم سے سبزی خریدتے تھے مگر اب سب سے پہلے ہمارا نام پوچھتے ہیں۔ جب انھیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا نام عبدالرزاق ہے تو ہمیں دھکے دے کر باہر نکال دیتے ہیں۔ آپ اس جنت کی تو بات نہیں کررہے؟"

پھرہمارے ذہن میں خیال آیا کیونکہ کورونا کے لاک ڈاؤن کی باعث ہم کئی ہفتوں سے گھر سے باہر نہیں نکلے ہیں تو ممکن ہے اس درمیان شہر کو جنت میں تبدیل کردیا ہوگا۔ اس لئے بریک ٹائم میں جنت کی تلاش میں ہم شہر کی گلیوں کی خاک چھاننے نکل کھڑے ہوئے۔ تھوڑی ہی دور گئے تھے ہمیں کچھ جلنے کی بو آنے لگی۔ لوگوں نے بتایا کہ شہر کے اس حصہ میں کچھ دن پہلے ہوئے دنگے فساد میں جو مسجد جلائی گئی تھی اس کی آگ ابھی تک ٹھنڈی نہیں ہوئی ہے، اب جلتی ہوئی مسجد میں ہم کہاں جنت تلاش کرتے۔ آخرکار خالی ہاتھ ہی نامراد گھر واپس آگئے۔

پھرسوچا چلو اپنے میرصاحب سے ہی اس جنت کے بارے میں پوچھ لیتے ہیں، اثر و رسوخ والی پارٹی سے تعلقات کے باعث ٹھاٹھ باٹ تو ان کے بھی جنت والے ہی نظر آتے ہیں۔

"بھئی اس میں اتنی حیرت کی کیا بات ہے۔ جہاں آپ کے حقوق کی حفاظت ہو اور سکون ہو وہی آپ کی جنت کہلائے گی" میر صاحب نے اپنے دلائل سے ہمیں لاجواب کردیا۔

"بیشک ہر محب وطن کے لئے مادر وطن جنت سے کم نہیں ہوتی، ویسے بھی ماں کے پاؤں کے نیچے جنت ہوتی ہے۔ مگرمیرصاحب اس جنت کا لباس کہاں ملتا ہے کیونکہ کچھ دن پہلے جو لباس پہن کر ہمارے ایک دوست اک بلڈنگ میں اپارٹمنٹ کرائے پر لینے کے لئے گئے تو مالک مکان نے ان کے کپڑے دیکھ کر ہی مکان کرائے پر دینے سے انکار کر دیا۔ انہیں معلوم ہوتا تو وہ جنت کا لباس پہن کر چلے جاتے۔ آج کل کپڑوں سے بہت جلدی پہچان ہوجاتی ہے نا "ہم نے میرصاحب سے کھوئی ہوئی جنت کی تلاش میں مدد مانگی۔

"بھئی دیکھیے جنت کی شناخت کے لئے دو تین چیزیں بہت اہم ہیں۔ پہلی یہ کہ جنت اقلیتوں کے لئے ہی بنائی گئی ہے۔ دوسرے جو لوگ حاکم جنت کی اطاعت کرتے رہیں گے ان کے لئے چین ہی چین ہے۔ گاڑی بنگلہ سب کچھ، اب اپنے مولانا رومانی صاحب ہی کو دیکھ لیجیے کس چیز کی کمی ہے انہیں۔ اب رہا سوال آپ کے سبزی والے کا تو کلاسزم تو جنت کا خاصّہ ہے۔ بھائی صاحب جنت میں رہنے کے بھی کچھ قواعد و ضوابط ہوتے ہیں" میرصاحب ہمیں سمجھاتے ہوئے اپنی جنت سے ملنے چلے گئے اور ہم غالب کا یہ شعر گنگناتے رہ گئے:

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

Published: 26 Apr 2020, 10:40 PM