طنزومزاح: سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں... تقدیس نقوی

لوگوں کی پولیس سے یہ شکایت ناجائز ہے کہ وہ ان کے بدن کے کچھ خاص مقامات پر ہی اپنے ڈنڈے کا استعمال کرتے ہیں جس کے سبب وہ صرف کھڑے رہنے کے لائق رہ جاتے ہیں۔ اب گھر کے اندر آدمی کب تک کھڑا رہ سکتا ہے۔

تصویر سوشل  میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تقدیس نقوی

لاک ڈاؤن کے دوران ایک جانب اگر لوگوں نے اپنے گھر کے دروازے بند رکھے تو دوسری جانب شکایتوں کے دفتر بھی کھلے رکھے۔ ان شکایت کرنے والوں میں حکومتی ادارے، پولیس اورعوام سب ہی شامل رہے۔ حکومت کو تو شکائتیں عوام سے یہ رہیں کہ وہ لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو نوٹ بندی کے دوران عائد کردہ پابندیاں سمجھ کرنظر انداز کرتے رہے۔ گویا اگر وہ گھر سے باہر نہ نکلے تو ان کے گھروں میں رکھے نوٹ ردی ہو جائیں گے۔ حکومت اس بات پر بھی خفا ہے کہ یہ عوام ابھی تک نوٹ بندی کا سانحہ کیوں نہیں بھولے۔ حکومت کی ایک شکایت یہ بھی ہے کہ حکومت کی جانب سے بار بار یہ یقین دہانی کرانے کے باوجود کہ ملک میں اشیاء خوردنی کی کمی نہیں ہے، غریب عوام ابھی تک بے بنیاد بھوکے مرنے کی شکایت کر رہے ہیں۔

پولیس کوعوام سے شکایتیں اس بات کی بناء پر رہیں کہ وہ ہمیشہ پولیس کو 800 میٹر کی دوڑ کا رنر سمجھتے ہیں اور ان کے آگے آگے دوڑ کر اس دوڑ کا میڈل خود جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تو بھلا ہو حکومت کا جس نے ان کے ہاتھ میں اتنے لمبے اور مضبوط ڈنڈے فراہم کردیئے ہیں جن کی مدد سے وہ ان کے اور عوام کے درمیان فاصلوں کو ان ڈنڈوں کی اک جنبش سے طے کرلیتے ہیں، جس کے بعد انہیں تو عوام سے پھرکوئی شکایت نہیں رہتی، عوام کا پتہ نہیں۔ عوام کی حکومت اور پولیس سے شکایتیں کیا ہیں یہ کوئی نہیں بتا سکتا کیونکہ عوام کو آج تک یہ شکایتیں سنانے کا موقعہ ہی نہیں دیا گیا۔ اس لئے ان کے بارے میں راوی ہمیشہ چین ہی چین لکھتا رہا ہے۔

ڈنڈے والے بھائیوں کا معاملہ ذرا مختلف ہے، اس بات کا سب کو اعتراف ہے کہ ان سخت ترین اور خطرناک حالات میں بھی وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھےعوام کی جانوں کی حفاظت کے لئے رات و دن مصروف کار ہیں۔ وہ بیچارے حتی الامکان کوشش کر رہے ہیں کہ لوگ لاک ڈاؤن کے ضوابط اور پابندیوں کا احترام کریں۔ یہ بات دیگر ہے کہ ان کی اس کوشش کو کامیاب بنانے میں ان کے ہاتھ میں دیئے گئے ڈنڈے کا بھی کافی ہاتھ رہا ہے، مگر کچھ لوگ پہلے ان کے صبروتحمل اور پھر ان کے ڈنڈے کا امتحان لینے پر بضد رہتے ہیں۔ کیونکہ وہ صبروتحمل کا لباس اتار کر ہی اپنی وردی زیب تن کرتے ہیں اس لئے وہ فوراً ہی اپنے ڈنڈے کا امتحان دینے لگتے ہیں۔ لوگوں کی ان سے یہ شکایت ناجائز ہے کہ وہ ان کے بدن کے کچھ خاص مقامات پر ہی اپنے ڈنڈے کا استعمال کرتے ہیں جس کے سبب وہ لوگ صرف کھڑے رہنے کے لائق رہ جاتے ہیں۔ اب گھر کے اندر آدمی کب تک کھڑا رہ سکتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ جس طرح 'بوفے ڈنر' کی ہر ڈِش چکھنا پسند کرتے ہیں اسی طرح وہ اپنے علاقہ میں تعینات ہر ڈنڈے والے کے ڈنڈے کا مزہ چکھنا چاہتے ہیں۔

انہیں میں سے ایک صاحب کو ایک کالونی کے باہر اعلان کرتے سنا: "بھائیوں اگر آپ کی خواہش ہے کہ آپ کا انتم سنسکار اسی طرح سے کیا جائے جس طرح آپ چاہتے ہو تو آپ کو ابھی دو ہفتے اور گھروں میں رہ کر انتظار کرنا چاہیے۔ لاک ڈاؤن کے دوران اگر آپ نے اپنے گھر سے نکلنے کی کوشش کہ تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں دی جاسکتی ہے کہ آپ کو یہ موقعہ ملے گا یا نہیں۔ آپ لوگوں کو اگر اپنی زندگی کا خیال نہیں تو کم از کم اپنے انتم سنسکار کا توہونا چاہیے۔"

دراصل ہمارے یہاں لاک ڈاؤن سے بری طرح متاثر ہونے والے تین قسم کے لوگ ہیں۔

پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جو کورونا سے پہلے ہی بھوک سے مرتے رہے ہیں۔ نہ انھیں سوشل ڈسٹینسنگ بچا پاتی ہے اور نہ ہی کوارنٹائن۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے نام پر پورے ملک میں امدادی اسکیمیں جاری کی جارہی ہیں۔ انہیں کے نام پر حکومت اپنی امدادی اسکیموں کے نام رکھتی ہے۔ امداد کرنے والے ان کے ساتھ سیلفیاں اور فوٹو کھنچوانے جوق درجوق آتے ہیں، مگر پھر بھی ان کے چولہے ٹھنڈے ہی رہتے ہیں۔ ان کو اگر کوئی شکایت ہے تو بس اتنی کہ یہ کبھی کبھی مدد کرنے آنے والے سخی لوگ ان کے بچوں کو چند دن پیٹ بھر کر کھانا کھانے کی بری عادت ڈال کر کسی اگلی وبا یا مصیبت کے آنے تک نہ جانے کہاں غائب ہوجاتے ہیں۔

دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جن کو سوسائٹی میں ڈھونڈنا آسان نہیں ہے، کیونکہ بقولے یہ وہ لوگ ہیں۔

دھجیوں کو ہم نشینوں سے چھپانے کے لئے

آستینیں لوٹ رکھی ہیں بہانے کے لئے

ان کے لب پرنہ کوئی شکایت ہوتی ہے اورنہ کوئی سوال، حکومت کی لسٹ میں یہ آسودہ حال مرقوم ہیں اور سوسائٹی کے دفتر میں سفید پوش۔ بھوک سے بے چین ان کے بچوں کی نکلتی سسکیاں بلند آواز سے اللہ سے مانگی جانے والی دعاؤں کے شور میں دبا دی جاتی ہیں۔

تیسری قسم ان کی ہے جن کے پاس وافر مقدار میں کئی مہینوں کی اشیاء کا ذخیرہ پہلے سے ہی موجود ہے مگر وہ اس وقت اس لئے پریشان ہیں کہ آگے آنے والے کئی مہینوں کے بعد کیا ہوگا۔ جبکہ فی الحال ان کے پاس مزید ذخیرہ کرنے کی گنجائش بالکل نہیں ہے پھر بھی انہوں نے بربنائے احتیاط شہر میں اشیاء خورد و نوش کی تقسیم کرنے والی فلاحی رضاکار انجمنوں تک اپنی ضرورتوں کی اک طویل لسٹ ابھی سے پہنچادی ہے۔ کوئی اسٹور کوئی بازار ایسا نہیں چھوڑا ہے جہاں سے انہوں نے سامان نہ منگوا لیا ہو۔ یہ وہی لوگ ہیں جنھیں آٹا چاول سے زیادہ 'کارن فلیکس' اور 'بٹراسپریڈ' کی ضرورت مارے دے رہی ہے، جنھیں صابن سے زیادہ 'فیس واش' کی ضرورت جینے نہیں دے رہی۔ ان ہی لوگوں میں ہمارے میر صاحب اینڈ کمپنی بھی شامل ہیں۔

لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع کیا ہوئی میرصاحب کی ضروریات کی فہرست بھی وسیع ترہوتی چلی گئی۔ اعلان سنتے ہی سخت پابندیوں کے باوجود بھی وہ خاموشی سے ہمارے پاس چلے آئے۔ چہرے سے اضمحلال ایسا عیاں تھا جیسے گھر میں کسی کو کورونا پازیٹو نکل آیا ہو۔ ہمارے پوچھنے پر آخر ماجرا کیا ہے وہ روہانسی آواز میں آہستہ سے گویا ہوئے: "لاک ڈاؤن کے سبب بچوں کی یہ بری حالت اب دیکھی نہیں جا رہی، امید تھی کہ اک دو دن میں یہ کرفیو ہٹ جائے گا مگر جب قسمت ہی خراب ہو تو کوئی کیا کرسکتا ہے" میر صاحب بہت دل شکستہ نظر آرہے تھے۔

ہمارے استفسار پر فرمانے لگے: "بچوں نے کئی دنوں سے 'پیزا' نہیں کھایا ہے کیونکہ کالونی میں آنے والے ڈیلیوری بوائے کو بھی کوارنٹائن کردیا گیا ہے۔ آپ اس مصیبت کا تصور کریں کہ جن بچوں نے پیدا ہوتے ہی پیزا اور برگر کی خوشبو سونگھی ہو وہ بھلا کس طرح خالی سلائیس بریڈ پر زندہ رہ پائیں گے۔ کل ہی چھوٹا بیٹا اپنی پسند کی چاکلیٹ نہ ملنے پر روتے روتے بے ہوش ہوگیا تھا۔ بڑے بیٹے نے ہفتوں سے سیلون نہ جانے کے نتیجہ میں اپنے سر اور داڑھی کا خود ہی وہ حشر کر لیا ہے کہ خود کو بھی آئینہ میں منہ دکھانے کے قابل نہ رہا۔ اللہ کسی دشمن کو بھی اولاد کی یہ حالت نہ دکھائے۔" میرصاحب کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں۔

"دوسری جانب ہماری بیگم تین ہفتوں سے پارلر نہ جانے کے سبب کورونا کی مریض نظر آنے لگی ہیں۔ اک دن اپنی اجڑی ہوئی ڈریسنگ ٹیبل دیکھ کرغش کھا کر گر پڑیں، اب یہ ان ضروری اشیاء کا قحط قرب قیامت کی نشانی نہیں تو اور کیا ہے" میرصاحب کی حالت قابل رحم تھی۔