بے چارا ہندوستانی مسلمان، اب اچُھوت بھی ہو گیا... ظفر آغا

بے چارا مسلمان! وہ تو کورونا کی آڑ میں اچھوت بنا دیا گیا۔ اب وہ جائے تو جائے کہاں اور کرے تو کرے کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ مسلمان کے پاس اس بلائے ناگہانی سے بچنے کا کوئی ڈھنگ کا راستہ بھی نہیں ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ظفر آغا

بیچارا ہندوستانی مسلمان! پچھلے تیس چالیس برسوں میں دنیا کی ہر گت تو اس کی بن چکی تھی، جو بچی کھچی رہ گئی تھی سو وہ کورونا وائرس کی وبا کی آڑ میں بی جے پی کی ایما پر میڈیا نے پوری کر دی۔ ابھی تک اس ملک کا مسلمان سب کچھ جھیل چکا تھا، لیکن کم از کم سماجی طور پر دلت سے بہتر تھا۔ لیکن پچھلے ایک ہفتے کے اندر از راہ کرم میڈیا اس ملک کا مسلمان بھی دلت کی صف میں دھکیل دیا گیا اور اس کو باقاعدہ اچھوت قرار دے دیا گیا۔ چونکیے مت، ذرا پچھلے ہفتے مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر ایک نگاہ ڈالیے تو صاف نظر آ جائے گا کہ مسلمان کے ساتھ اچھوتوں والا طرز تیزی سے عام ہوتا جا رہا ہے۔

تبلیغی جماعت کو جس طرح کورونا سے جوڑ کر میڈیا نے زبردست پروپیگنڈہ کیا بس اس نے ہندو ذہنوں میں مسلمان کے خلاف وہ زہر گھولا کہ اس نے مسلمانوں کے ساتھ اچھوتوں جیسا رویہ اختیار کرنا شروع کر دیا۔ آپ اپنے ارد گرد پیش آنے والے حالیہ واقعات پر نظر ڈالیں گے تو صاف نظر آ جائے گا کہ اب مسلمانوں کے ساتھ کچھ ویسا ہی سلوک ہو رہا ہے جیسا کبھی دلتوں کے ساتھ ہوتا تھا۔ مثلاً، اگر رفیق نام کا ایک سبزی فروش کسی خالص ہندو کالونی میں داخل ہونا چاہتا ہے تو اب اس کو روک دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اب ٹھیلوں پر سامان بیچنے والے مسلمان کے ساتھ عام ہوتے جا رہے ہیں۔ آپ نے اخباروں میں پڑھا ہی ہوگا کہ احمد آباد کے ایک سرکاری اسپتال میں ہندو اور مسلم مریضوں کے وارڈ الگ الگ بانٹ دیئے گئے۔ گویا مسلمان اچھوت ہیں اور ان کو ہندو مریضوں سے الگ رکھنا چاہیے۔ میرٹھ میں تو جناب حد ہی ہو گئی۔ ایک پرائیویٹ اسپتال نے باقاعدہ اخبار میں اشتہار جاری کر دیا کہ کورونا کی وبا رہنے تک اس اسپتال میں مسلم مریضوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ بعد میں اس اسپتال نے معافی مانگی، لیکن اس اشتہار کے ذریعہ جو پیغام دینا تھا وہ دور دور تک پہنچ گیا۔

یہ مسلمانوں کو اچھوت کرنے والی حرکتیں ہیں کہ نہیں! چھوا چھوت اور ذات پات تو ہم ہندوستانیوں کی رگ رگ میں سمائی ہوئی ہے۔ اس چھوا چھوت کا مقصد کسی ایک سماجی گروہ کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک اپنا کر اس پورے گروہ کو اس حد تک احساس کمتری کا شکار بنانا ہوتا ہے کہ وہ پورا سماجی گروہ خود کو دوسروں سے کم درجے کا محسوس کرنے لگے۔ اس طرح وہ احساس کمتری کا شکار ہوگا کہ پھر خود بخود اپنے کو دوسرے درجے کا شہری تسلیم کرنے لگے گا۔ اب مسلمانوں کے ساتھ جگہ جگہ اچھوتوں جیسا رویہ اپنا کر دلتوں کی طرح مسلمان کو بھی احساس کمتری کا شکار بنانا ہے تاکہ وہ اپنے تمام حقوق بھول کر خود کو دوسرے درجے کا شہری محسوس کرنے لگے۔ دلتوں کے ساتھ ہندو سماج میں یہ رویہ ہزاروں سال سے چلا آ رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دلت خود کو باقی تمام ذاتوں کے مقابل دوسرے درجے کا انسان سمجھتا ہے۔ اب مسلمانوں کے ساتھ اچھوتوں جیسا رویہ اپنا کر مسلمان کو بھی دوسرے درجے کا شہری بنانے کی تیاری ہو چکی ہے۔ اگر وہ مذہبی طور پر اچھوت نہیں بن سکتا تو کم از کم اس کو سماجی طور پر تو اچھوت بنا دو۔

یہ ایک منظم سازش ہے اور اس سازش کو کامیاب بنانے میں میڈیا کا رول سب سے اہم رہا ہے۔ وہ کیسے! اس وقت کورونا وائرس کے قہر سے دنیا کانپی ہوئی ہے اور ہر شخص اپنے اپنے گھروں میں سمٹا ہوا ہے۔ ہر شخص کے سر پر کورونا وائرس کے ڈر سے موت کا خوف سوار ہے۔ دنیا پر ایسا خوف سوار ہے کہ انسان اپنی روزی روٹی تک کی فکر بھول کر دنیا کا ہر دھندا بند کیے گھر بیٹھا ہے۔ ایسے خوفناک حالات میں تبلیغی جماعت نے اپنے نظام الدین واقع مرکز میں ایک عالمی اجتماع کا انعقاد کیا۔ یقیناً یہ اجتماع اس وقت ملتوی کر دینا چاہیے تھا۔ گو اس اجتماع کے وقت تک ملک میں کسی ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان نہیں ہوا تھا۔ پھر حکومت وقت نے خود اس اجتماع کے لیے ویزے جاری کیے۔ یہ سرکار کی ذمہ داری تھی کہ وہ منتظمین سے کہہ کر اجتماع ملتوی کروا لیتی۔ لیکن حکومت نے اس معاملے میں غفلت سے کام لیا اور اس کے لیے حکومت ذمہ دار ہے۔ یہ سب بجا۔ لیکن دنیا بھر میں کورونا کی وبا سے جو حالات چل رہے تھے، اس کے پیش نظر جماعت کو اپنا اجتماع ملتوی کر دینا چاہیے تھا۔ مولانا سعد نے یہ نہیں کیا، اور بس بڑی بھول کی۔ اب اس غلطی کے عوض پورا ہندوستانی مسلمان اچھوت ہوا چاہتا ہے۔

لیکن کیا میڈیا کی یہ ذمہ داری نہیں تھی کہ جماعت کے تعلق سے وہ جھوٹی اور بے بنیاد ایسی خبریں قطعاً نہیں چلائے جس کہ ذریعہ مسلمانوں کے تئیں ہندوؤں میں اشتعال پیدا ہو جائے۔ لیکن صاحب ہندوستانی میڈیا تو ہر اس بیہودہ کمپین کے لیے ہمیشہ کمر کسے رہتا ہے جس سے بی جے پی کو فائدہ ہو۔ بس مرکز اور تبلیغی جماعت کا میڈیا نے ایسا دامن پکڑا کہ اس نے پوری مسلم قوم کو 'کورونا جہادی' بنا دیا۔ اور اس طرح میڈیا نے کھل کر بی جے پی کو اپنی سیاست چمکانے کا موقع دے دیا۔ بی جے پی کی سیاست کامیاب ہونے کے لیے اور ہندوؤں میں مسلمانوں کے تئیں نفرت پیدا کرنے کے لیے ایک راون جیسا دشمن تو درکار ہوتا ہی ہے۔ میڈیا نے تبلیغ کی آڑ میں ہندوؤں کے ذہنوں میں مسلمان کو ایک راون کی شکل دے دی۔ اب الیکشن کا جب رَن پڑے گا تو مودی جی رام کی طرح نکلیں گے اور مسلم راون کا خاتمہ کر دیں گے۔ اور عام ہندو مودی کی جھولی میں سارا ووٹ ڈال دے گا۔ تبلیغی جماعت کی آڑ میں ہر مسلمان ہر ہندو کو اب کورونا جہادی نظر آ رہا ہے اور وہ اس جہادی سے بچنے کے لیے ہر وہ ہتھکنڈے اپنا رہا ہے کہ جس سے مسلمان اچھوت ہوتا جا رہا ہے۔

بات یہ ہے کہ میڈیا تو اب مودی کا بھانڈ ہو چکا ہے۔ سنہ 2014 میں جب سے مودی مرکزی سیاست میں ابھرے ہیں، تب سے میڈیا مودی کے قدموں میں نچھاور ہے۔ چنانچہ تبلیغی جماعت کو لے کر میڈیا نے سارے ہندوستان میں پوری مسلم قوم کے خلاف وہ زہر گھولا کہ آخر عام ہندو مسلمان کو عموماً جہادی سمجھ رہا ہے اور اس سے بچنے کے لیے وہ اب مسلمانوں کے ساتھ اچھوتوں جیسا رویہ اپنا رہا ہے۔ یوں بھی پچھلی کئی دہائیوں سے مسلم بستیاں ہندو آبادی سے اچھوتوں کی طرح الگ تھلگ کر دی گئی ہیں۔ ہر مسلمان جہادی نظر آتا ہے جس کو وہ اپنے سے دور رکھنا چاہتا ہے۔ ادھر آر ایس ایس 70 برس سے کیا، اور بہت پہلے سے اس گھات میں بیٹھی تھی کہ مسلمان کو دوسرے درجے کا شہری بنا دو۔ میڈیا کے کرم سے سنگھ کا وہ کام پایہ تکمیل تک پہنچانے کا موقع مل گیا۔

بیچارا مسلمان! وہ تو کورونا کی آڑ میں اچھوت بنا دیا گیا۔ اب وہ جائے تو جائے کہاں اور کرے تو کرے کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ مسلمان کے پاس اس بلائے ناگہانی سے بچنے کا کوئی ڈھنگ کا راستہ بھی نہیں ہے۔ دو چار کم عقل مولوی ضرور موجود ہیں جن کی قیادت نے ہندوستانی مسلمان کو کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔ بس خدا ہی خیر کرے۔ لیکن فی الحال تو مسلمان اچھوت بن چکا ہے۔ اب دیکھیے کہ وہ اس سماجی غلامی سے کب اور کیسے باہر نکل پاتا ہے!

Published: 26 Apr 2020, 10:11 AM