دہلی فساد معاملہ میں مزید 2 لوگوں کی ضمانت منظور، جمعیۃ علماء ہند کی کوشش رنگ لائی

جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں سے اب تک دہلی فساد میں ماخوذ 10 لوگوں کی ضمانت منظور ہو گئی ہے اور جمعیۃ کے صدر مولانا ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ "بے گناہوں کو انصاف دلانے تک ہماری کوشش جاری رہے گی۔"

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کی فائل تصویر
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کی فائل تصویر
user

پریس ریلیز

جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں سے دہلی فساد میں مبینہ طور پرماخوذ مسلم ملزمان کی ضمانت عرضداشتوں کی منظوری کا سلسلہ جاری ہے۔ آج کڑکڑڈوما سیشن کورٹ نے ملزمین شاداب احمد اور راشد سیفی کو ایف آئی آر نمبر 93/20 (دیال پور پولس اسٹیشن) مقدمہ میں مشروط ضمانت پر رہا کیے جانے کے احکامات جاری کیے۔جمعیۃ علماء کے توسط سے اب تک دہلی ہائی کورٹ اور سیشن عدالت سے دس ضمانت عرضداشتیں منظور ہوچکی ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند نے دہلی فسادات میں پھنسائے گے سینکڑوں مسلمانوں کے مقدمات لڑنے کا بیڑا اٹھایا ہے اور صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی خصوصی ہدایت پر ملزمین کی ضمانت پر رہائی کے لیے سیشن عدالت سے لے کر دہلی ہائی کورٹ تک عرضیاں زیر سماعت ہیں۔آج اس معاملے میں گرفتار دو ملزمین شاداب احمد اور راشد سیفی کو ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو نے پچیس ہزار روپئے کے ذاتی مچلکہ پر ضمانت پررہا کیے جانے کے احکامات جاری کیے۔

سرکاری وکیل نے ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی سخت لفظوں میں مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزمین کی ضمانت پر رہائی سے نسق امن میں خلل پڑسکتا ہے لیکن عدالت نے دفاعی وکلا کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ملزمین کی ضمانت عرضداشت منظور کرلی۔ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ملزمین کی پیروی ایڈوکیٹ ظہیر الدین بابر چوہان او ر ان کے معاون وکیل ایڈوکیٹ دنیش نے کی اور عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں پولس کی جانب سے چارج شیٹ داخل کی جاچکی ہے اور ملزمین کے خلاف الزامات ڈائریکٹ ثبوت نہیں ہیں، لہٰذا انہیں ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔

ملزمین پر تعزیرات ہند کی دفعات 147,148,149,436, 427 (خطرناک ہتھیاروں سے فساد برپا کرنا،آتش گیر مادہ یا آگ زنی سے گھروں کو نقصان پہنچانا،غیر قانونی طور پر جمع ہونا) اور پی ڈی پی پی ایکٹ کی دفعہ 3,4 (عوامی املاک کوآتش گیر مادہ یا آگ زنی سے نقصان پہنچانا) کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا اور ملزمین گزشتہ تین ماہ سے زائد عرصہ سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھے۔ اس سے قبل انہیں دونوں ملزمین کو ایڈیشنل سیشن جج نے ایف آئی آر نمبر 80/20 (دیال پور پولس اسٹیشن) مقدمہ میں بھی مشروط ضمانت پر رہا کیے جانے کے احکامات جاری کیے تھے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے ملزمین کی ضمانت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جمعیۃ کی ابتداء سے کوشش رہی ہے کہ کوئی بے گناہ مسلمان جیل کے اندر نہ رہے۔ اس لئے ہم نے ملک بھر میں دہشت گردی کے الزام میں گرفتارمسلم نوجوانوں کا مقدمہ مضبوطی سے لڑ کر درجنوں نوجوانوں کو باعزت بری کروایا ہے اوردہلی فسادات میں جبراً ملوث کئے گئے بے قصور لوگوں کے عدالت سے بری ہونے تک جمعیۃ کی کوشش جاری رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے وکلاء کی ٹیم اس سلسلے میں نہایت تندہی کے ساتھ اس کام میں لگی ہوئی ہے اوریہی وجہ ہے کہ اب تک دس لوگوں کی ضمانتیں منظور ہو چکی ہیں۔

مولانا مدنی نے کہا کہ ایک ایک ملزم پر کئی کئی ایف آئی آر درج ہیں لہٰذا جب تک تمام ایف آئی آر (مقدمات) میں ضمانت نہیں ہوجاتی ملزمین کی جیل سے رہائی ممکن نہیں ہے۔ ایک ایک ملزم پر ایک ساتھ کئی ایف آئی آر درج کرنے کے پیچھے شاید پولس کا یہی مقصد بھی تھا کہ انہیں آسانی سے ضمانتیں نہ مل سکیں، لیکن جس نہج پر ہمارے وکلاء کام کر رہے ہیں وہ دن دور نہیں جب مسلم نوجوانوں کو جیل کی صعوبتوں سے راحت حاصل ہوگی اور وہ کھلی فضاؤں میں سانسیں لے سکیں گے۔

next