فساد متاثرین کے لیے جمعیۃ علماء ہند فیروز پور جھرکہ میں 100 مکانات تعمیر کرائے گی

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر آج دو کالونیوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا، مقامی لوگوں نے اس تعلق سے کہا کہ اس گھاٹی میں ویرانی تھی، یہاں جمعیۃ امید کی شمع بن کر آئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>کالونی کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے نمائندے</p></div>

کالونی کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے نمائندے

user

پریس ریلیز

نئی دہلی: فیروز پور جھرکہ میں 100 سے زائد غریب کسان خاندانوں کے گھروں کو بلڈوزر سے مسمار کر دیا گیا تھا اور ان کے جانور لوٹ لیے گئے تھے۔ اب یہ افراد کھلے آسمانوں کے نیچے رہنے پر مجبور ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند کا وفد جو شروع دن سے ان کی مدد کر رہا ہے، اس نے ان حالات کے  مکمل جائزے کے بعد ان کے لیے جلد آشیانہ بنانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ چنانچہ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے وہاں 100 مکانات کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔ مولانا مدنی میوات فساد اور ما بعد انہدامی کارروائی سے کافی فکر مند ہیں اور جمعیۃ کی طرف سے باز آبادکاری کے عمل کی براہ راست نگرانی و سرپرستی فرما رہے ہیں۔

آج گیاسیان باس فیروز پور جھرکہ میں دو کالونیوں کا سنگ بنیاد جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی، مولانا یحییٰ کریمی ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء ہریانہ، پنجاب و ہماچل، مولانا شیر محمد امینی نائب صدر وغیرہ کے ہاتھوں رکھا گیا۔ اس موقع پر مولانا حکیم الدین قاسمی نے بتایا کہ یہاں تین کالونیاں بنائی جائیں گی۔ آج دو کالونیاں ’ظفر الرین نگر‘ اور ’عبدالرحیم نگر‘ کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اول الذکر حضرت مولانا مفتی ظفرالدینؒ سابق صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی اور دوسری کالونی حضرت مولانا عبدالرحیم بڈیڈویؒ سابق ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء ہریانہ، پنجاب و ہماچل پردیش کی طرف منسوب کی گئی ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے بنائی جا رہی ہیں، جن کی اپنی زمین ہے۔ باقی جن لوگوں کے پاس زمین نہیں ہے، ان کے لیے جمعیۃ علماء کی طرف سے زمین کا انتظام کیا جا رہا ہے اور ان کے لیے بھی ایک علیحدہ کالونی ’جمعیۃ نگر‘ کے نام سے بنائی جائے گی۔

فساد متاثرین کے لیے جمعیۃ علماء ہند فیروز پور جھرکہ میں 100 مکانات تعمیر کرائے گی

مولانا حکیم الدین نے بتایا کہ جمعیۃ علماء ہند کا عزم ہے کہ کوئی بھی شخص بغیر چھت نہ رہے اور ضرورت مندوں کو بے سہارا نہ چھوڑا جائے۔ اسی فکر کو لے کر ہمارا قافلہ میوات فساد متاثرین کی راحت رسانی میں شروع دن سے لگا ہوا ہے۔ یہ قافلہ میوات کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک سفر کی صعوبتیں برداشت کر کے کر ضرورت مندوں تک پہنچ رہا ہے اور ان کی ہر ممکن مدد کر رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ قانونی سطح پر بھی ہماری جدوجہد جاری ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے قانونی معاملات کے نگراں ایڈووکیٹ نیاز احمد فاروقی اور ایڈووکیٹ محمد نوراللہ کی نگرانی میں ایڈووکیٹ محمد طاہر روپڑیا اور ان کی مقامی ٹیم قانونی پیروی کر رہی ہے۔ اب تک 284 افراد کی گرفتاری ہوئی ہے، 60 سے زائد افراد نے ہم سے قانونی امداد کی گزارش کی ہے۔ ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اپنے مکانات کی تعمیر کی بنیاد دیکھ کر فخر الدین ولد دین محمد، شاہد ولد دین محمد، ظفر الدین ولد دین محمد، صدام ولد دین محمد، احمد بھائی، مشتاق بھائی نے جمعیۃ علماء ہند کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس گھاٹی میں فساد کے بعد تاریکی اور ویرانی ہے۔ ایسے وقت میں جمعیۃ علماء ہند ہمارے لیے امید کی شمع بن کر آئی ہے۔ مشتاق بھائی چار ماہ کی جماعت میں ہیں، انھوں نے فون سے جمعیۃ کا شکریہ ادا کیا۔


اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کا جو وفد وہاں موجود تھا، اس میں ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند کے علاوہ مولانا غیور احمد قاسمی، مولانا ضیاء اللہ قاسمی، مولانا معظم عارفی قاسمی، ریاسی جمعیۃ علماء سے مولانا یحییٰ کریمی، مولانا شیر محمد امینی نائب صدر جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب، مفتی سلیم ساکرس، ماسٹر قاسم مہوں، مولانا ناصر وغیرہ شریک تھے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔