بے روزگاری کے بخار میں کورونا کی ویکسین... اعظم شہاب

پردھان سیوک نے اپنی سالگرہ کے موقع پر ڈھائی کروڑ لوگوں کو ویکسین لگوائی، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ٹیکہ کاری کے اس ریکارڈ سے بے روزگاری کا بخار کم ہوجائے گا؟

پی ایم مودی، تصویر یو این آئی
پی ایم مودی، تصویر یو این آئی
user

اعظم شہاب

پردھان سیوک کی 71ویں سالگرہ کے موقع پر ہماری قومی میڈیا نے یہ تو بتا دیا کہ بنگلہ دیش کی شیخ حسینہ نے انہیں گلاب کے 71 پھول روانہ کئے اور کئی ملکوں کے سربراہان نے انہیں مبارکباد دی، لیکن یہ نہیں بتایا کہ گزشتہ کی طرح اس سال کی سالگرہ کو بھی ملک بھر میں یومِ بے روزگاری کے طور پر منایا گیا اور سوشل میڈیا پر ان ایمپلائمنٹ ڈے اور مودی روزگار دو کے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتے رہے۔ قومی میڈیا کی اس لاعلمی پر ہمیں حیرت بھی نہیں ہے کیونکہ ان تک وہی معلومات پہنچتی ہے جو انہیں پہنچائی جاتی ہے یعنی کہ وہ وہی دیکھتے ہیں جو انہیں دکھایا جاتا ہے۔ ان تک گلاب کے 71 پھول کی خبر اور کچھ ملکوں کے سربراہان کے تہنیتی پیغام تو پہنچا دئیے گئے جو پردھان سیوک کو بھیجے گئے تھے، لیکن سوشل میڈیا جس تک ہرکس وناکس کی رسائی نہایت آسان ہے، اس کے صفحات تک ہمارا قومی میڈیا نہیں پہنچ سکا۔ اسے کہتے ہیں ساون کے اندھے۔

خیر ہمیں اپنے قومی میڈیا سے کوئی شکایت بھی نہیں ہے کیونکہ یہ اس کا کاروبار ہے اور مجبوری بھی۔ اسی کے ذریعے وہ حکومتی اشتہار ومراعات حاصل کرتا ہے بصورت دیگر وہ اس سے محروم ہو جائے گا۔ گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر دامودر مودی کو پردھان سیوک بنانے کے لیے اس نے 2013 میں تشہیری بازار کی جو حیثیت حاصل کی تھی وہ اسے اپنے پیشے سے زیادہ محبوب تھا جس کو وہ ہنوز سینے سے لگائے ہوئے ہے۔ اگر اس بھیڑچال میں کوئی ادارہ یا فرد روگردانی کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ عتاب کا شکار ہوجاتا ہے، جس کی مثال این ڈی ٹی وی یا آوٹ لوک کے چیف ایڈیٹر روبین بنرجی ہیں، جس میں اولذکر کو ہیتھ وے چینل سے ہٹا دیا گیا تو دوسرے کو ادارتی ذمہ داریوں سے سبکدوش۔ لیکن قومی میڈیا کی اس روش کے برعکس ملک کے عوام کا اعتماد ایسی میڈیا پر دن بہ دن مضبوط ہوتا جا رہا ہے جو عوام کو اس کے علاوہ بھی بہت کچھ دکھاتے ہیں جو حکومت انہیں دکھانے کے لیے کہتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ نیوز چینلوں واخبارات کی اس بھیڑ میں این ڈی ٹی، نیوز24، انڈین ایکسریس اور دی ہندو وغیرہ ملک کے عوام کی پہلی پسند بن چکے ہیں۔


لیکن پردھان سیوک کی اس سالگرہ کے موقع پر کورونا کی ٹیکہ کاری کا جو ریکارڈ بنایا گیا، اسے دیکھ کرہنسی بھی آتی ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے۔ افسوس اس لیے کہ ایک شخص کو خوش کرنے کے لیے لوگوں کی صحت کو بھی مذاق بنا دیا گیا اور ہنسی اس لیے کہ کئی ریاستیں ویکسین لگانے کے لیے گویا پردھان سیوک کی سالگرہ کا ہی انتظار کر رہی تھیں۔ ہوا یوں کہ ہمارے قومی میڈیا (وہی جس کا ذکر اوپر ہوچکا ہے) نے خبردی کہ مودی جی کو سالگرہ کا تحفہ دینے کے لیے محض ایک دن میں ڈھائی کروڑ لوگوں کو ویکسین لگائی گئی۔ یہی میڈیا شام پانچ بجے تک دو کروڑ 27 لاکھ لوگوں کو ویکسین لگانے کی خبر دیتا رہا مگر دوسرے روز خبر دی گئی کہ ڈھائی کروڑ لوگوں کو ویکسین لگائی گئی جو وزیراعظم مودی کے لیے تحفہ ہے۔ رجت شرما والا ٹی وی چینل تو اپنے اسکرین پر اس طرح اعدادوشمار پیش کر رہا تھا گویا ووٹوں کی گنتی ہو رہی ہے۔ پل پل اعدادوشمار تبدیل ہو رہے تھے۔ ایسے میں بھلا زی نیوز کہاں پیچھے رہنے والا تھا، اس نے تو ایک پروگرام ہی بناڈالا جس میں کہا گیا کہ اپنی سالگرہ کے دن پر بے روزگاری دن منانے والوں کو پی ایم مودی نے ڈھائی کروڑ لوگوں کو ویکسین لگا کر کرارا جواب دے دیا ہے، لیکن زی نیوز نے اپنے اس پروگرام میں یہ نہیں بتایا کہ مودی کے اس کرارے جواب سے روزگار مانگنے والے کتنے مطمئن ہوئے۔ ویسے بھی یہ بتانا زی نیوز تو کیا کسی بھی نیوزچینل کی ذمہ داری میں شامل نہیں ہے۔

سالگرہ کے تحفے والی اس ٹیکہ کاری کا مقصد ظاہر ہے کہ پردھان سیوک کو خوش کرنا تھا اس لئے اس ریکارڈ ٹیکہ کاری پر بھی چوطرفہ تنقیدیں شروع ہوگئیں۔ راہل گاندھی جن کے ایک ٹوئٹ سے پوری بی جے پی میں بوکھلاہٹ طاری ہوجاتی ہے، انہوں نے پردھان سیوک کو سالگرہ کی مبارکباد دینے کے بعد ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں ’امید کرتا ہوں کہ آئندہ دنوں میں بھی یومیہ 2.1 کروڑ ٹیکہ لگایا جائے گا، کیونکہ ہمارے ملک کو اسی رفتار کی ضرروت ہے‘۔ اس ٹوئٹ کے ذریعے گویا انہوں نے پردھان سیوک کی دکھتی رگ پر انگلی رکھ دی، جس کا درد انہیں اتنا شدید ہوا کہ دوسرے روز انہیں یہ کہنا پڑگیا کہ ڈھائی کروڑ لوگوں کو ویکسین لگائی گئی لیکن بخار ایک پارٹی کو ہوا۔ جبکہ راہل گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں اعدادوشمار کے اس ریکارڈ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا بلکہ ملک کی ضرورت کو بیان کیا تھا۔ لیکن چونکہ اس ریکارڈ کا مقصد ملک کے عوام کو کوورنا سے محفوظ رکھنا نہیں بلکہ سالگرہ کے موقع پر ٹیکہ کاری کا ریکارڈ بنانا تھا، اس لئے پردھان سیوک اپنے کولڈ ڈرنک کی ڈکار نہیں روک سکے۔


پردھان سیوک کی سالگرہ کے موقع پر ٹیکہ کاری کے اس ایونٹ کی این سی پی کے قومی ترجمان نواب ملک نے تو قلعی اتار دی۔ انہوں نے کہا کہ ’سالگرہ کے موقع پر ٹیکہ کاری کا ریکارڈ بنانے کے لیے مرکز کی جانب سے ریاستوں کو فراہم کی جانے والی ویکسین کی مقدار میں گزشتہ پندرہ بیس دنوں سے کمی کر دی گئی تھی۔ اگر سالگرہ کے موقع پر پونے تین کروڑ لوگوں کو ویکسین دی جاسکتی ہے تو یہ آئندہ کیوں نہیں کیا جاسکتا؟ اگر یہی ریکارڈ پہلے بنایا گیا ہوتا تو لوگوں کو بہت فائدہ ہوا ہوتا لیکن یہ ایک شخص کو خوش کرنے کی کوشش ہے جو کسی طور مناسب نہیں ہے‘۔ نواب ملک مہاراشٹر کے وزیر برائے اقلیتی امور بھی ہیں اور وہ مرکز کی جانب سے ریاستوں کو فراہم کی جانے والی ویکسین کی کمی کی بارہا شکایتیں بھی کرتے رہے ہیں۔

نواب ملک کے بیان سے ریاستوں بالخصوص مہاراشٹر کو مرکز کی جانب سے فراہم ہونے والی ویکسین کی صورت حال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یوں بھی ویکسین کی قلت کے سبب ویکسی نیشن سینٹرز کے بند ہونے کی خبروں سے ہر کوئی واقف ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا محض ریکارڈ بنانے کے لیے ریاستوں کے ویکسین کی طئے شدہ مقدار میں کمی کی گئی تھی؟ سچائی یہ ہے کہ ویکسی نیشن کا یہ ریکارڈ بے روزگاری کے دن کی بازگشت کو کم کرنے کے لیے تھا نا کہ عوام کو کورونا سے بچانے کے لیے۔ اگر ایسا ہوتا تو بی جی پی کی مرکزی وریاستی حکومتوں کو کورونا سے مرنے والوں کی تعداد کو چھپانے کا الزام نہیں جھیلنا پڑتا۔ جس دن مودی جی نے ڈھائی کروڑ لوگوں کو ویکسین لگوائی اسی دن تقریباً 15؍لاکھ لوگوں نے پردھان سیوک سے روزگار طلب کیا۔ اس لئے یہ سمجھنا نہایت آسان ہے کہ مودی جی کی یہ ٹیکہ کاری روزگار مانگنے کے خوف سے اپنے اوپر طاری بخار کم کرنے کے لیے تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔