گجرات بی جے پی کا منگیری سپنا… اعظم شہاب

بی جے پی اگر یہ سوچتی ہے کہ وجے روپانی کو ہٹانا ریاست میں اس کی نااہلی کا کفارہ ہوسکتا ہے تو یہ منگیری لال کا سپنا تو ہوسکتا ہے، سچائی نہیں۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

اعظم شہاب

گجرات کے وزیراعلیٰ کے عہدے سے وجے روپانی کا استعفیٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ آئندہ سال ہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخاب میں اقتدار ہاتھ سے نکلنے کا بی جے پی کے اندر جو خوف پایا جا رہا ہے وہ بے جا نہیں ہے۔ اسے ڈر ہے کہ اگر وجے روپانی کی قیادت میں انتخابات ہوئے تو نہ صرف یہ کہ اسے عوام کی سخت ناراضگی جھیلنی پڑے گی بلکہ اس کے اس گجرات ماڈل کی بھی ہوا نکل جائے گی جس کا خواب وہ ملک کی کئی ریاستوں کی عوام کو دکھا کر اقتدار پر قبضہ کرچکی ہے۔ اسے اس بات کا بھی یقین ہوچلا ہے کہ غیر بی جے پی ووٹوں کی تقسیم کے لئے عام آدمی پارٹی اور ایم آئی ایم بھی اس بار اس کی کوئی مدد نہیں کرپائیں گی، کیونکہ اس کی چالوں کو لوگ سمجھ چکے ہیں۔ اپنے استعفیٰ کے بعد خود وجے روپانی نے بھی اس بات کا اشارہ دے دیا ہے کہ بی جے پی کو ریاست میں اگر کامیابی حاصل کرنی ہے تو وہ ریاستی حکومت کی کارکردگی ومقبولیت پر نہیں بلکہ نریندرمودی پر ہی بازی لگانی پڑے گی اور مودی جی کو اس بار پھر ریاست بھر میں اپنے رونے دھونے کا فارمولا اپنانا پڑے گا۔

گزشتہ 6 ماہ سے وجے روپانی کو تبدیل کئے جانے کی خبر تھی۔ کہا جاتا ہے کہ کورونا کی وبا کے دوران جب ان کی نااہلی کھل کر سامنے آئی تو انہیں ہٹانے کا فیصلہ کرلیا گیا تھا لیکن ایسا کرنے پر بی جے پی کی نااہلی پر مہر لگ جاتی۔ اس لئے ماحول کی سازگاری کا انتظار کیا گیا۔ روپانی کے استعفیٰ سے ایک روز قبل امت شاہ بھی گاندھی نگر پہنچے تھے۔ بہت ممکن ہے کہ شاہ صاحب نے ہی مودی جی کے حکم پر روپانی کو استعفیٰ دینے کا حکم دیا ہو، کیونکہ روپانی جی کا ایک ہی پلس پوائنٹ تھا اور وہ تھا امت شاہ کی قربت کا۔ امت شاہ کے کہنے پر ہی انہیں آنندی بین پٹیل کی جگہ پر گجرات کا وزیراعلیٰ بنایا گیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنے دورِ حکومت میں وہ گجرات کے لوگوں کا اعتماد جیتنے میں بری طرح ناکام رہے۔ ان کے استعفے کے بعد ان کی حصولیابی کے طور پر ’ڈریگن فروٹ‘ کا خوب تذکرہ ہے جس کا نام انہوں نے‘ کملم‘ رکھ دیا تھا۔ گویا اپنے دورِ حکومت میں یہی ان کی سب سے بڑی حصولیابی رہی ہے۔


گجرات ریاستی اسمبلی کے انتخاب میں ابھی تقریباً سوا سال کا عرصہ باقی ہے، لیکن بی جے پی کو اندازہ ہوگیا ہے کہ وہ پاٹیدار برادری جو گزشتہ الیکشن میں ہی اس کے لیے مشکل پیدا کرچکی تھی، اس بار بھی آزار بن سکتی ہے۔ کیونکہ سوراشٹر و جنوبی گجرات کی پاٹیدار برادری پاٹیدار وزیراعلیٰ کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ گوکہ روپانی کا تعلق بھی سوراشٹر سے ہی ہے لیکن وہ جین بنیا ہیں۔ پاٹیداروں کے غصے کو کم کرنے کے لیے ہی نتن پٹیل کو نائب وزیراعلیٰ بنایا گیا تھا، لیکن مشکل یہ ہوئی کہ بی جے پی کا یہ تجربہ کامیاب نہیں ہوسکا اور پاٹیداروں کا غصہ وجے روپانی و بی جے پی کے خلاف جاری رہا۔ پاٹیداروں کی جانب سے پورے گجرات میں بی جے پی کے خلاف ایک خاموش ناراضگی تھی، جس کا اندازہ مودی وشاہ کو بخوبی تھا۔ چونکہ آئندہ الیکشن میں بی جے پی کا ہدف 150 سیٹیں جیتنے کا ہے اور یہ کامیابی پاٹیداروں کو ساتھ لیے بغیر ممکن نہیں ہے اس لئے پاٹیدار برادری کے بھوپیندر پٹیل کو وزیراعلیٰ بنایا جا رہا ہے۔

لیکن دوسری جانب پاٹیدار برادری کے لوگ روپانی کے اس استعفیٰ کو ان کی اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ نوجوان پاٹیدار لیڈر اور ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر ہاردک پٹیل نے جو باتیں کہی ہیں وہ پاٹیداروں کے سوچ کی ترجمانی کرتی ہیں۔ ہاردک پٹیل نے کہا کہ ’بی جے پی بھلے ہی وزیراعلیٰ تبدیل کر رہی ہو لیکن گجرات کے عوام نے ریاستی حکومت کو ہی تبدیل کرنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے استعفیٰ دیا ہے‘۔ ہاردک پٹیل نے یہ بھی کہا کہ ’گزشتہ کئی سالوں سے چلی آرہی بی جے پی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں، لاکھوں نوجوان بیروزگار ہوگئے ہیں، خواتین اپنے تحفظ کے تئیں پریشان ہیں، گاؤں کے کسان پریشان ہیں، ایسی صورت میں ریاست کے عوام صرف وزیراعلیٰ نہیں بلکہ حکومت تبدیل کرنا چاہتے ہیں‘۔ ایسی صورت میں بی جے پی کا یہ تصور کرنا کہ آئندہ الیکشن میں پاٹیدار اس کی جانب راغب ہوں گے؟ منگیری لال کا سپنا ہی ہوسکتا ہے۔


روپانی کی ناکامیوں کے اجاگر ہونے سے بی جے پی کو جس گجرات ماڈل کے غبارے کے پھوٹنے کا خوف ہے وہ دراصل کوئی ماڈل ہی نہیں ہے۔ مودی جب گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے گجرات کی خوب جم کر مارکیٹنگ کی۔ وائبرینٹ گجرات سمٹ کی ہی مثال لے لیں، عین ایسے وقت میں ہزاروں لاکھوں کروڑ روپئے کے انویسمنٹ کا اعلان کیا جاتا تھا جب میڈیا کو اسے کراس چیک کرنے کا موقع ہی نہ ملے اور وہ جوں کی توں چلانے پر مجبور ہو جائے۔ اور پھر انٹرنیشنل لیول پر مارکیٹنگ کا جو نظام اسرائیلی پی آر کمپنی کے ذریعے تیار کیا گیا تھا اس کے ذریعے وہ ماڈل آگے بڑھایا جاتا تھا۔ اس وقت مودی جی نے ایک چالاکی یہ کی کہ ان سے پہلے کانگریس کے دور میں جو ترقیاتی کام ہوئے تھے وہ بھی انہوں نے اپنے حساب میں جوڑ دیئے اور گجرات ماڈل کا ایک غیرمرئی ہوا کھڑا کر دیا۔ اس لئے یہ کہا جانا کہ گجرات کوئی ماڈل ہے اور وہ بھی مودی جی کی وجہ سے تو یہ اسی طرح جھوٹ ہے جیسے ’نہ کوئی ہماری سرحدوں میں آیا، نہ ہماری کسی پوسٹ پر قبضہ کیا‘ ہے۔ گجرات ماڈل صرف اور صرف مارکیٹنگ کا ماڈل ہے، جس کا اختتام 2014 میں ہی ہوگیا تھا۔

وجے روپانی کا یہ استعفیٰ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ مودی وشاہ کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور مودی جی گجرات میں شاہ صاحب مزید مضبوط نہیں ہونے دینا چاہتے ہیں۔ کیونکہ وجے روپانی اگر امت شاہ کے قریبی ہیں تو ریاستی بی جے پی صدر سی کے پاٹل مودی کے۔ مودی نے 2019 میں پاٹل کو ریاستی بی جے پی کا صدر اسی لئے بنایا تھا کہ وہ آنندی بین پٹیل کی کمی کو پورا کرسکیں اور ہوا بھی وہی کہ صدر بننے کے فوری بعد ہی روپانی کے حامیوں کو آڑے ہاتھوں لینا شروع کر دیا تھا۔ سی کے پاٹل کے صدر بننے کے بعد روزِ اول سے ہی پاٹل اور روپانی کے درمیان سرد جنگ کی شروعات ہوگئی تھی اور روپانی کو ہٹوانے کے لیے وہ کافی سرگرم بھی رہے۔ اس لئے روپانی کے اس استعفیٰ کو اگر گجرات میں سی کے پاٹل کی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تو ملکی سطح پر اسے مودی کی بالادستی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ یوں بھی روپانی نے اپنے استعفیٰ کے بعد جس طرح اپنی چند منٹ کی پریس کانفرنس میں 8 بار سے زائد بار مودی کا نام لیا، وہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ان کے ناتواں دل پر اس استعفیٰ سے کیا گزر رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔