بی جے پی نے سیاسی اخلاقیات کا دیوالہ نکال دیا... سہیل انجم

بی جے پی نے سیاسی مفاد پرستی کی خاطر سیاست سے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ اس نے ووٹ کی سیاست کو اولیت دینے کے لیے کھل کر مسلم دشمنی کا کارڈ کھیلنا اپنی اولین ترجیح میں شامل کر لیا ہے۔

مودی کا یومِ پیدائش کا اشتہار
مودی کا یومِ پیدائش کا اشتہار
user

سہیل انجم

وزیر اعظم نریندر مودی نے ابھی چند روز قبل اپنا 71 واں یوم پیدائش منایا ہے۔ انھوں نے کیا منایا ان کے خوشامدیوں نے منایا ہے۔ اس موقع پر جیسی خوشامد اور چاپلوسی کی گئی ویسی پہلے کسی کے یوم پیدائش پر نظر نہیں آئی۔ تقریباً تمام بڑے اخباروں میں پورے پورے صفحے کے اشتہارات شائع کیے گئے جن میں مودی کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے گئے۔ اترپردیش، مدھیہ پردیش اور آسام کے وزرائے اعلیٰ نے مودی کے نام نہاد وژن اور نام نہاد حصولیابیوں کے ایسے گن گائے کہ اللہ کی پناہ۔ بعض لیڈروں نے انھیں بھگوان کا بھی درجہ دے دیا اور بھگوان کی شکل کی ان کی مورتی بنا کر اس کی پوجا کی۔

ان خوشامدی اشتہارات اور اقدامات کو دیکھ کر یوں محسوس ہوا کہ جیسے نریند رمودی کا پنرجنم ہوا ہے یا انھیں نئی زندگی ملی ہے۔ یوم پیدائش تو ہر سال آتا ہے اور صرف مودی ہی 71 برس کے ہو گئے ہوں اور ہندوستان میں کوئی اس عمر کو نہیں پہنچا یا ان کی کابینہ میں کوئی 71 برس کا نہیں ہوا، ایسا تو نہیں ہے۔ ان کا 71 سال کو پہنچ جانا کوئی کمال کی بات تو نہیں یا کوئی انوکھا واقعہ تو نہیں۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انھیں اتنا خراج تحسین کیوں پیش کیا گیا۔ انھوں نے اپنی زندگی کے 71 برس مکمل کرکے وہ کون سا کارنامہ انجام دے دیا ہے جو اس سے قبل کسی دوسرے وزیر اعظم نے انجام نہیں دیا۔ یا کوئی دوسرا وزیر اعظم اس عمر کو نہیں پہنچا۔


اگر ہم اس خوشامدی مہم پر گہری نظر ڈالیں تو پائیں گے کہ دراصل یہ سب کچھ اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔ صرف مودی کی ستائش میں اشتہارات شائع نہیں کیے جا رہے ہیں بلکہ یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ یا ان کی حکومت کے بارے میں بھی شائع کیے جا رہے ہیں۔ ابھی وہ واقعہ لوگوں نے فراموش نہیں کیا ہوگا کہ جب ایک پورے صفحے کے اشتہار میں یو پی حکومت کا گُن گان کرنے کی کوشش میں کلکتہ کے ایک فلائی اوور اور ایک ہوٹل اور امریکہ کی ایک فیکٹری کی تصویریں لگا دی گئیں۔ اس اشتہار پر یوگی حکومت کو جس ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور سوشل میڈیا پر جس طرح تھو تھو ہوئی وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ آج تک کسی دوسرے وزیر اعلیٰ یا اس کی حکومت کو ایسے ذلت آمیز مرحلے سے گزرنا نہیں پڑا تھا۔

صرف یہی نہیں بلکہ یوگی آدتیہ ناتھ نے ’’ابا جان‘‘ کا حوالہ دے کر بھی اپنی رسوائی کا سامان کیا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ اب تک حکومت کی جانب سے جو راشن بھیجا جا رہا تھا اسے ابا جان کہنے والے کھا جاتے تھے اور بنگلہ دیش اور نیپال بھی بھیج دیتے تھے، عوام کو بالکل پسند نہیں آیا۔ اس پر بھی سوشل میڈیا میں یوگی کو بری طرح لتاڑا گیا ہے۔ لوگوں نے کیا کیا نہیں کہا۔ دراصل یوگی نے ابا جان لفظ کا استعمال کرکے ریاست کی فضا کو فرقہ وارانہ رنگ میں رنگنے کی کوشش کی۔ لیکن ان کی یہ کوشش ان کے لیے ہی نقصاندہ ثابت ہو گئی۔ ایسے ہی مواقع پر کہتے ہیں کہ اگر کوئی سورج پر تھوکنے کی کوشش کرے گا تو وہ تھوک خود اس کے چہرے پر آکر گرے گا۔ یوگی کے ساتھ یہی ہوا۔ یوں تو لوگوں نے بہت جچے تلے تبصرے کیے لیکن یہ تبصرہ کافی اچھا لگا کہ جو ’’ابا جان‘‘ نہیں بن سکا اس کو اس رشتے کی اہمیت اور اس کے تقدس کا کیا احساس ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ابا جان نہ بن پانے کی محرومی صرف یوگی کو نہیں مودی کو بھی حاصل ہے۔


واقعہ یہ ہے کہ بی جے پی نے سیاسی مفاد پرستی کی خاطر سیاست سے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ اس نے ووٹ کی سیاست کو اولیت دینے کے لیے کھل کر مسلم دشمنی کا کارڈ کھیلنا اپنی اولین ترجیح میں شامل کر لیا ہے۔ کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ اگر وہ فرقہ واریت کا بیج نہیں بوئے گی تو ووٹوں کی فصل نہیں کاٹ سکے گی۔ اسی لیے اس سے قبل نریندرمودی نے مسلمانوں پر حملہ کرتے ہوئے سی اے اے کے خلاف احتجاج میں شریک ہونے والوں کو نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ جو لوگ آگ لگا رہے ہیں ان کو ان کے کپڑے سے ہی پہچانا جا سکتا ہے۔ یہ سراسر مسلمانوں پر حملہ تھا۔ اٹل بہاری واجپئی کے زمانے تک کم از کچھ پردے میں بات کی جاتی تھی۔ لیکن مودی اور شاہ کے دور میں یہ پردہ چاک کر دیا گیا ہے اور اب کھل کر فرقہ وارانہ سیاست کی جاتی ہے۔

مرکزی حکومت کے وزرا ہوں یا ریاستی بی جے پی حکومتوں کے وزرا سب اس مقابلے میں شامل ہیں کہ کس طرح ہندوتوا کا سب سے بڑا علمبردار بنا جائے۔ اس کے لیے آسان نسخہ یہی ہے کہ مسلمانوں کو گالی دی جائے اور اپوزیشن کو مسلمانوں کی جماعت اور ہندو دشمن قرار دیا جائے۔ ایک بار کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کانگریس مسلمانوں کی بھی پارٹی ہے اس کو بی جے پی نے دوسرا رنگ دے دیا اور یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس مسلمانوں کی ہی پارٹی ہے۔ اس کا مقصد کانگریس کے خلاف ہندو عوام میں ناراضگی پیدا کرنا تھا۔ حالانکہ بی جے پی اپنی اس گھناونی مہم میں کامیاب نہیں ہو سکی۔


مرکز میں نریندر مودی کی حکومت ہو یا ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں، ان کے پاس عوام کو دکھانے کے لیے کوئی کارنامہ تو ہے نہیں اس لیے ان کو قبرستان، شمشان، طالبان اور ابا جان کا ہی سہارا ہے۔ بی جے پی کی جان انھی جانوں اور تانوں میں اٹکی ہوئی ہے۔ نریندر مودی نے یو پی کے ایک الیکشن میں یہ کہہ کر مسلمانوں کے خلاف ہندووں کو متحد کرنے کی کوشش کی تھی کہ جب قبرستان کے لیے زمین دی جا سکتی ہے تو شمشان کے لیے کیوں نہیں اور اگر رمضان میں بجلی ملتی ہے تو دیوالی میں کیوں نہیں۔ ان کے اس بیان سے ایسا لگتا ہے کہ شمشانوں کے لیے کہیں کوئی جگہ نہیں ہے اور دیوالی میں گھپ اندھیرا رہتا ہے۔ اس دن بجلی آتی ہی نہیں۔ مودی کو بھی معلوم تھا کہ یہ بیان بے بنیاد ہے لیکن ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ اس میں ہندووں کے ایک طبقے کو مسلمانوں کے خلاف متحد کرنے کے امکانات ہیں۔ لہٰذا انھوں نے بڑی بے حیائی کے ساتھ شمشان اور قبرستان کی بات کی اور اب اسی بے شرمی کے ساتھ یوگی نے ابا جان کا حوالہ دیا ہے۔

بی جے پی نے ہندوستانی سیاست سے اخلاقیات کا جو جنازہ نکالا ہے اس نے ملک کو زبردست نقصان پہنچایا ہے اور جب تک بی جے پی برسراقتدار رہے گی اس قسم کی بے شرمی و بے حیائی کا مظاہرہ ہوتا رہے گا۔ اس نے اور بالخصوص نریدنر مودی اور امت شاہ کی جوڑی نے سیاست میں جو گراوٹ پیدا کی ہے اس کے اثرات تا دیر قائم رہیں گے اور یہ بات ہندوستان اور یہاں کے عوام اور یہاں کی سیاست اور یہاں کے معاشرے کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس خطرناک سیاست کے اثرات کب زائل ہوتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔