جھوٹ کی بنیاد پر ترقی کا محل بنانے کی کوشش… نواب علی اختر

یوپی انتخابات کے قریب آتے ہی ایک بار پھر ریاست میں فرقہ وارانہ سیاست شروع ہوگئی ہے اور اس میں بی جے پی لیڈر خاص طور پر یوگی آدتیہ ناتھ پیش پیش نظر آرہے ہیں۔

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ، تصویر آئی اے این ایس
وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ، تصویر آئی اے این ایس
user

نواب علی اختر

ڈھول میں پول کہاوت کی مصداق بی جے پی کی جانب سے جھوٹی تصاویر کا استعمال کرکے ملک میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کا سلسلہ عام بات ہے۔ حالانکہ اکثر مواقع پر بی جے پی سوشل میڈیا ونگ کے دعوے اور تصاویر جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔ خود عوام نے سوشل میڈیا پر ان کی سچائی کو اجاگر کیا ہے لیکن بھگوا پارٹی کی دیدہ دلیری اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ اب باضابطہ طور پر حکومت کے اشتہار میں کسی دوسری ریاست کی ترقی سے متعلق تصاویر کو اپنی تصاویر کے طور پر پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے۔ کورونا کے دوران بد انتظامی پر بی جے پی کے ’وکاس پوروش‘ یوگی آدتیہ ناتھ کی ہر طرف سے ہو رہی تنقید کے درمیان ہی مغربی بنگال کے ترقیاتی کام کو اترپردیش حکومت کی ترقی کے طور پر باضابطہ تصاویر کے ساتھ اخباری اشتہارات میں پیش کیا جا رہا ہے۔

حال ہی میں اترپردیش کے ایک اخبار میں شائع اشتہار میں یوگی آدتیہ ناتھ کی تصویر کے ساتھ علی الاعلان غلط بیانی کرتے ہوئے جھوٹ کا سہارا لیا گیا۔ اس اشتہار میں کولکتہ کے فلائی اوور اور اس سے متصل ایک فائیو اسٹار ہوٹل کی تصویر شائع کرکے دعویٰ کیا گیا کہ یہ اترپردیش میں ہو رہی ترقی ہے۔ یہ ایک طرح سے اترپردیش کی ڈبل انجن حکومت کی مکمل ناکامی کا ثبوت ہے۔ ویسے تو بی جے پی ہر ریاست کے انتخابات میں ڈبل انجن سرکار کا راگ الاپتی ہے۔ اس کا کہنا ہوتا ہے کہ مرکز اور ریاست میں بی جے پی کی حکومت ہوگی تو تیزی سے ترقی ہوگی۔ اترپردیش میں یوگی کی اور مرکز میں مودی کی حکومت ہے اس کے باوجود بی جے پی کے پاس ترقی کے طور پر پیش کرنے کے لئے ایک بھی تصویر نہیں ہے۔ اسی لئے اسے دوسری ریاستوں کی تصاویر استعمال کرنا پڑ رہی ہے۔


ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے جب بی جے پی نے دوسرے کے کام کو اپنا بتانے کی کوشش کی ہو تاہم اسے ہر بار ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان سب کے باوجود بی جے پی کی ریاستی حکومتوں کے لیے ایسا لگتا ہے کہ ترقیاتی دعوؤں کو درست ثابت کرنے کے لیے کسی طرح کی کوئی جھجھک کے بغیر دھڑلے سے جھوٹ بولنا بی جے پی کا وطیرہ بن گیا ہے۔ بی جے پی نے 2014 کے عام انتخابات سے قبل بھی مہم کے دوران بے دریغ جھوٹ کا سہارا لیا تھا۔ اس نے سالانہ دو کروڑ روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا جسے بعد میں عوام کے ذہنوں سے محو کرنے کے لیے ہندو۔ مسلم کا راگ الاپنا شروع کردیا گیا۔ دو کروڑ روزگار دینا تو دور بی جے پی کی دوسری میعاد کے دو سال میں کروڑہا روزگار ختم کردیئے گئے ہیں، حکومت نے سرکاری ملازمتوں پر عملاً غیر معلنہ امتناع عائد کر دیا ہے۔

انتخابی مہم کے دوران ہر شہری کے بینک کھاتے میں 15 لاکھ روپئے جمع کروانے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اس کو بھی فراموش کردیا گیا اور اسے بعد میں محض ایک انتخابی جملہ قرار دیتے ہوئے بری الذمہ ہونے کی کوشش کی گئی۔ کورونا وباء کے عروج میں بھی جب در در بھٹکتے لوگوں کو سہارا دینے کی ضرورت تھی، حکومت کی طرف سے باضابطہ جھوٹ بول کر کئی طرح کے پیکیجز کا اعلان کیا گیا تھا لیکن آج تک ان پر عمل آوری کی تفصیل ملک اور عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئی۔ وزیراعظم کیئر فنڈ کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس فنڈ میں بھی کتنے عطیات وصول ہوئے اور انہیں کہاں خرچ کیا گیا، اس کی بھی کوئی صراحت نہیں کی جا رہی ہے۔ سابقہ حکومتوں کی جانب سے شروع کردہ منصوبوں کو کئی کئی بار افتتاح کرکے اپنے منصوبے بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔


گزشتہ برس کورونا وائرس کے عروج کے دوران بھی اترپردیش میں ایک خاتون کی تصویر اخبار میں شائع کردی گئی تھی اور اس تعلق سے بھی کئی دعوے کئے گئے تھے بعد میں جب سوشل میڈیا نے اس کی تحقیق کی اور خود اس خاتون سے ملاقات کی تو حکومت کے دعووٗں کی قلعی کھل گئی تھی۔ اسی طرح کئی مواقع پر بی جے پی اور اس کے سوشل میڈیا کے مہارتھیوں کی جانب سے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے بی جے پی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا کام کیا گیا تھا، اب وہی کام حکومتیں بھی کرنے لگی ہیں۔ ایسا کرنے سے قبل بی جے پی حکومتوں کو اپنی ریاستوں میں فرقہ واریت کو فروغ دینے کی بجائے ترقیاتی ایجنڈے پر عمل کرنا چاہئے تاکہ مستقبل میں ہزیمت سے بچا جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی حکومت کے کسی بھی ترقیاتی کام پر کم ہی لوگ یقین کرتے ہیں اس لیے کہ یہ پارٹی کچھ کرنے سے زیادہ چیخنے اور چلانے پر یقین رکھتی ہے۔

بی جے پی اور اس کی حکومتوں کے رویئے سے ایسا لگتا ہے کہ دیگر پارٹیوں کی حکومتوں کے منصوبے پیش کرکے عوام کو بے وقوف بنا کر اس کی آڑ میں اپنے فرقہ وارانہ ایجنڈے کو پورا کیا جائے۔ خواہ پارٹی کچھ بھی کہے مگر یہ سچ ہے کہ فرقہ وارانہ ایجنڈا بی جے پی کے خون میں سرایت کرچکا ہے، اس لئے جہاں بی جے پی ہوگی وہاں فرقہ واریت ہوگی یہی وجہ ہے کہ دستوری عہدوں پر فائز بی جے پی کے ذمہ دار قائدین بھی اب کھلے عام فرقہ واریت کا مظاہرہ کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ویسے تو بی جے پی کے تقریباً تمام ہی قائدین اپنی اپنی سطح پر فرقہ پرستی کو فروغ دیتے ہوئے سیاست کے علاقے میں ترقی کرنا چاہتے ہیں اور کئی لوگ اس کامیاب تجربہ کی وجہ سے ترقی کی منزلیں طے بھی کرچکے ہیں۔


ایسے قائدین میں یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سر فہرست ہیں۔ وہ انتہائی زہریلے اور اشتعال انگیز بیانات دینے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ وہ مسلم لڑکیوں کی عصمت لوٹنے اور قبروں سے نکال کر بھی بے حرمتی کرنے تک کے غیر انسانی تبصرے کرچکے ہیں۔ اب انہوں نے ’ابا جان‘ کہہ کر مسلمانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ دو روز قبل ایک جلسہ میں خطاب کے دوران یوگی نے کہا کہ 2017 سے پہلے غریبوں کو راشن ملنا مشکل تھا، سارا راشن’ ابا جان‘ بولنے والے لوگ ہضم کر جاتے تھے۔ اب ہندووٗں کو بھی حکومت سے راشن مل رہا ہے۔ یہ بیان انتہائی افسوسناک ہے اور ایک دستوری عہدے پر قابض ریاست کے وزیر اعلیٰ کے لیے ایسے بیان زیب نہیں دیتے۔ تاہم بی جے پی قائدین اب عوامی زندگی میں کسی طرح کے اقدار اور روایات کی پاسداری کے لیے تیار نہیں ہیں۔

یوپی انتخابات کے قریب آتے ہی ایک بار پھر ریاست میں فرقہ وارانہ سیاست شروع ہوگئی ہے اور اس میں بی جے پی لیڈر خاص طور پر یوگی آدتیہ ناتھ پیش پیش نظر آرہے ہیں۔ انتخابات کے دوران سماج میں تفریق پیدا کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا یہ سلسلہ گزشتہ انتخابات میں وزیر اعظم مودی نے شروع کیا تھا۔ انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ اگر گاؤں میں ایک قبرستان بنتا ہے تو ایک شمشان بھی بننا چاہئے۔ وزیر اعظم کے ان تبصروں پر بھی اس وقت بہت تنقید ہوئی تھی لیکن توقع کے مطابق ان کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ سماج میں تفریق پیدا کرتے ہوئے انتخابی فائدہ حاصل کرنا بی جے پی کا کامیاب ہتھیار ہے۔ اس میں اسے مہارت حاصل ہوگئی ہے۔ وہ ہر موقع پر مذہبی تفرقہ پیدا کرتے ہوئے عوام کے ووٹ حاصل کرلیتے ہیں اور ذات برادری کے نام پر پانچ سال تک عوام کا استحصال کیا جاتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔