بی جے پی کو مل گیا بلی کا بکرا!... نواب علی اختر

کئی ریاستوں میں بی جے پی وزیر اعلیٰ کے اعمال اور کردار سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہیں صرف کرسی پر بیٹھنے کا حق دیا گیا ہے، فیصلے کرنے کا حق صرف اور صرف پارٹی کے ’مائی باپ‘ کو ہی ہے۔

وجے روپانی، تصویر آئی اے این ایس
وجے روپانی، تصویر آئی اے این ایس
user

نواب علی اختر

گجرات میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے بی جے پی کو ایک عدد بلی کے بکرے کی ضرورت تھی جو اسے وجے روپانی کی شکل میں مل گیا ہے۔ عوام کو اب یہ بتایا جائے گا کہ دیکھو ہم نے وزیر اعلیٰ بدل دیا ہے کیونکہ انہوں نے اچھا کام نہیں کیا۔ وجے روپانی نرم زبان والے وزیر اعلیٰ کے طور پر جانے جاتے ہیں، اس خصوصیت کی وجہ سے ان کی شبیہ ایک کمزور وزیر اعلیٰ کی بن گئی۔ نوکر شاہ اہم فیصلے لینے میں سیاسی قیادت کو نظر انداز کرتے رہے۔ روپانی کی وداعی کئی مسائل میں ناکامی کی وجہ سے ہوئی ہے کیونکہ ان ناکامیوں کے سبب بی جے پی پر ہر طرف سے تنقید کی جا رہی تھی اور اس لئے انتخابات سے پہلے ناقدین کو خاموش کرنا بھگوا پارٹی کے لیے ضروری ہوگیا تھا۔

وزیر اعظم مودی کی آبائی ریاست گجرات میں روپانی کی قیادت والی بی جے پی حکومت جس طرح کورونا وبا کی دوسری لہر اور اس کے بعد آنے والے معاشی اور سماجی مسائل سے نمٹنے میں ناکام رہی، اس سے بھی انہیں عہدہ چھوڑنا پڑا۔ گزشتہ سال ریاست میں کورونا کی وجہ سے بہت سی جانیں گئی تھیں۔ اس کے پیچھے حکومت اور انتظامیہ کی بڑی لاپرواہی سامنے آئی تھی۔ مسلسل اموات کے بارے میں عام لوگوں میں زبردست غم و غصہ تھا۔ ریاست میں محض دو فیصد جین برادری سے آنے والے روپانی گزشتہ تقریباً 6 ماہ کے عرصہ میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے والے بی جے پی کے چوتھے وزیر اعلیٰ ہیں۔ اس سے قبل بدعنوانی کے ملزم بی ایس یدی یورپا کو کرناٹک کے وزیراعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ اس سے پہلے اتراکھنڈ میں چند ماہ کے عرصہ میں دو وزرائے اعلیٰ نے استعفیٰ پیش کیا تھا۔


روپانی کے استعفے کے حوالے سے کافی عرصے سے قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں۔ وجے روپانی کے وزیراعلیٰ عہدے پر چار سال پورے ہونے پر پروگرام بھی کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ریاستی تنظیم کی رپورٹ روپانی کے خلاف تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ریاست میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات وجے روپانی کی قیادت میں جیت پانا ممکن نہیں ہے۔ جب گجرات کی پہلی اور واحد خاتون وزیراعلیٰ آنندی بین پٹیل نے پاٹیدار اور دلت برادری کی تحریکوں کو’مینیج‘ کرنے میں ناکام ہونے پر اگست 2016 میں استعفیٰ دے دیا تو روپانی کو ریاست کی کمان سونپی گئی تھی۔ مسلسل وزیراعلیٰ کے استعفوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بی جے پی کے لیے ریاستی سطح پر سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے اور بی جے پی صرف چہرے بدل کر عوام سے دوبارہ رجوع ہونا چاہتی ہے۔

ملک کی پانچ ریاستوں میں آئندہ سال انتخابات ہونے والے ہیں ان میں اتراکھنڈ اور اترپردیش کے علاوہ کرناٹک اور گجرات بھی شامل ہیں۔ بی جے پی نے تین ریاستوں میں تو وزیراعلیٰ کو تبدیل کر دیا ہے۔ حالانکہ وجے روپانی نے اپنے استعفیٰ کی وجہ نہیں بتائی ہے، لیکن کہا یہی جا رہا ہے کہ بی جے پی ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھی اور خود گجرات کے عوام میں ان کی کارکردگی پر ناراضگی پائی جاتی ہے۔ خاص طور پر کورونا بحران کے وقت میں وجے روپانی نے عوام کی توقعات کو پورا نہیں کیا ہے اسی وجہ سے بی جے پی نے حالات کو بھانپتے ہوئے انتخابات سے چند ماہ قبل ہی انہیں خاموشی کے ساتھ تبدیل کر دینے ہی میں عافیت سمجھی ہے۔


اترپردیش میں بھی حالات پارٹی کے لیے ابتر ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں کئی ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ نے وزیر اعلیٰ کی عدم دستیابی پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور صورتحال کو دیکھتے ہوئے بی جے پی نے دہلی سے اپنے نمائندے روانہ کرتے ہوئے حالات کا جائزہ لیا تھا اور کسی طرح سمجھا بجھا کر سبھی کو خاموش کرلیا گیا، کیونکہ بی جے پی کے لیے دوسری ریاستوں کی طرح اترپردیش میں وزیر اعلیٰ کو بدلنا آسان نہیں ہے اور وہاں آدتیہ ناتھ ہیں جو شاید مرکزی قیادت کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ تمام صورتحال سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بی جے پی کے کئی وزرائے اعلیٰ کارکردگی کے اعتبار سے عوام کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے ہیں اور خود مرکزی قیادت بھی ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہو پا رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ جن ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں وہاں وزیراعلیٰ کو بدلا جا رہا ہے۔

اترپردیش میں خود مودی اور امت شاہ نے توجہ مرکوز کرتے ہوئے حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی کیونکہ اگر اترپردیش میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کی جاتی تو سب سے پہلے تو آدتیہ ناتھ کی بغاوت کا خطرہ ہوتا، دوسرا سارے ملک کے لیے ایک منفی پیغام جاتا کیونکہ بی جے پی نے خود آدتیہ ناتھ کو کٹر ہندوتوا چہرے کے طور پر پیش کیا ہے۔ اسی لئے بمشکل تمام اترپردیش میں حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن دوسری ریاستوں میں بی جے پی کے لیے یہ سب کچھ آسان نہیں رہا ہے اور وہ وزرائے اعلیٰ کو تبدیل کرتی جا رہی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بی جے پی کی کئی ریاستی حکومتیں بھی ریاستی قیادت کی وجہ سے کام نہیں کر رہی ہیں بلکہ ہر ریاست میں مودی اور شاہ کا چہرہ اور نام بتاتے ہوئے ووٹ حاصل کئے جا رہے ہیں۔ کہیں بھی وزیراعلیٰ کا چہرہ اہمیت کا حامل نہیں رہا ہے۔


اس سے دو باتیں واضح ہو جاتی ہیں۔ پہلی تو یہ کہ کسی کو قیادت کے طور پر ابھرنے کا موقع نہ مل پائے اور دوسرا یہ کہ ساری پارٹی اور حکومت صرف دو شخصیتوں کے گرد گھومتی رہے۔ بی جے پی کی اس روش کو ملک کے عوام کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ریاستی حکومتوں کو مرکزی چہروں کی بجائے ان کی اپنی کارکردگی کی اساس پر پرکھا جانا چاہئے اور اسی بنیاد پر ووٹ کیا جانا چاہئے۔ کئی ریاستوں میں بی جے پی وزیر اعلیٰ کے اعمال اور کردار سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہیں صرف کرسی پر بیٹھنے کا حق دیا گیا ہے، فیصلے کرنے کا حق صرف اور صرف پارٹی کے’مائی باپ‘ کو ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی سطح پر اکثر بی جے پی میں خلفشار اور بغاوت کی آوازیں بلند ہوتی رہتی ہیں مگر انہیں طاقت کے زور پر دبا دیا جاتا ہے تاکہ کوئی تیسرا شخص لیڈر نہ بن پا ئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔