سیاست کا رخ بدلنے کی ضرورت ہے... سید خرم رضا

اگر ہمیں ترقی کرنی ہے تو ملک کی سیاست کا رخ بدلنے کی ضرورت ہے اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو پھر اب تک کی تمام ترقی اور کوششیں ذائع ہو جائیں گی۔

علامتی، تصویر یو این آئی
علامتی، تصویر یو این آئی
user

سید خرم رضا

ملک میں پہلے ہی بے روزگاری اور مہنگائی تھی اور سال 2014 سے پہلے حزب اختلاف نے بدعنوانی اور حکومت کی نااہلی کو اس کی سب سے بڑی وجہ بتاکر عوام کے سامنے پیش کیا۔ حزب اختلاف نے ان وجوہات کی اتنی زیادہ تشہیر کی کہ عوام نے ’اچھے دن‘ کے خواب کے لئے اس وقت کی موجودہ حکومت سے پیچھا چھڑا لیا۔ حزب اختلاف نے اقتدار میں آنے کے لئے اس قدر غلط بیانی سے کام لیا کہ بعد میں اس پارٹی کے قائد کو ان بیانات کو محض جملہ قرار دینا پڑا۔

ظاہر ہے اگر کسی شخص کو یہ امید دلا دی جائے کہ اس کے کھاتے میں پندرہ لاکھ آ جائیں گے تو وہ ان پندرہ لاکھ کے بدلے میں کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہو جائے گا اور اگر اس کے ساتھ یہ بھی اسے یقین دلا دیا جائے کہ 60 روپے فی لیٹر میں ملنے والا پٹرول بھی 34 روپے فی لیٹر ملنے لگے گا تو پھر وہ کیسے نہ ان بیانات دینے والوں کو اقتدار میں لاتا، جو اس نے کیا۔ عوام نے کچھ نہیں دیکھا بس اپنے پندرہ لاکھ اور اچھے دنوں کے چکر میں بر سر اقتدار جماعت کو اقتدار سے بے دخل کر دیا اور حزب اختلاف کو پوری اکثریت کے ساتھ اقتدار سونپ دیا، لیکن یہ سب کرنے کے باوجود عوام کے اچھے دن نہیں آئے اور وہ بیچارے اپنے کو چھلا سا محسوس کر رہے ہیں۔


پندرہ لاکھ نہیں آئے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم ہونے کے بجائے سو کے پار ہو گئی ہیں، مہنگائی سے عوام کا برا حال ہے اور بے روزگاری اپنے عروج پر ہے۔ اب یہ کہہ کر بھی پیچھا نہیں چھڑایا جا سکتا کہ دو سال سے ملک جس وبا سے پریشان ہے یہ سب اس کی دین ہے کیونکہ حکومت وبا سے پہلے ہی ہر محاذ پر پچھڑ رہی تھی۔ سال 2014 میں ہوئی نوٹ بندی نے قومی معیشت کو بری طرح متاثر کیا تھا جس کی وجہ سے چند لوگوں کو چھوڑ کر عوام کا ہر طبقہ متاثر ہوا تھا۔

معاشی پریشانیوں کا حل تلاش کرنے کے بجائے ملک میں تفریق اور نفرت کی سیاست پر ان لوگوں نے توجہ مرکوز کر دی جنہوں نے اقتدار میں آنے کے لئے پندرہ لاکھ کا کبھی نہ پورا ہونے والا وعدہ کیا تھا۔ وبا کے بعد صورتحال بہت خراب ہو گئی ہے اور کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ہر چیز کا جشن منا کر حقیقت کو دبا دیا جائے، لیکن حقیقت اتنی تلخ ہوتی جا رہی ہے کہ ہر جشن میں سے حقیقت منہ پھاڑ کر سامنے آ رہی ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری چیخ چیخ کر اپنی موجودگی درج کرا رہی ہیں۔


حقیقت یہ ہے کہ اقتدار کے لئے ہر سیاسی پارٹی کو غلط بیانی سے پرہیز کرنا چاہئے، کیونکہ اگر آپ کوئی بھی وعدہ ایسا کرتے ہیں جو عوام کو کچھ مفت فراہم کرنے کی بات ہوتی ہے یا ان کو بغیر کچھ کئے پیسے دینے کی بات ہوتی ہے تو اقتدار میں آنے کے بعد یا تو وہ وعدے پورے نہیں ہو پاتے یا پھر دوسرے منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ سماج میں تفریق کی سیاست سے بچنے کی ضرورت ہے کیونکہ سماج متحد ہے تو ہر طرح کی ترقی ممکن ہے اور اگر سماج منقسم ہے تو ملک آگے برھنے کے بجائے پیچھے ہو جاتا ہے۔ ہمیں اپنی صلاحیتوں کو ایک ساتھ لے کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے نہ کہ ایک دوسرے سے نفرت پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست مدوں اور عوام کی فلاح بہبود کے لئے ہونی چاہئے نہ کے ذات اور مذہب کی۔ سیاست میں کچھ بھی مفت نہیں ہونا چاہئے بس ضرورت مندوں کو کس طرح سہولیات پہنچائی جا سکے اس کی کوشش ہونی چاہئے۔ اگر ہمیں ترقی کرنی ہے تو ملک کی سیاست کا رخ بدلنے کی ضرورت ہے اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو پھر اب تک کی تمام ترقی اور کوششیں ذائع ہو جائیں گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔