پی کے: خود تو ڈوبے ہیں اب ممتا کو بھی لے ڈوبیں گے... اعظم شہاب

پرشانت کشور اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لئے ٹی ایم سی کا استعمال کرنے کے ساتھ ہی کانگریس کے خلاف فضا بھی تیار کر رہے ہیں۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

اعظم شہاب

’پی کے‘ سے بھلا کون واقف نہیں۔ جی نہیں! عامرخان والی پی کے نہیں بلکہ انتخابی حکمت عملی والے پی کے یعنی پرشانت کشور۔ دونوں میں یکسانیت صرف یہ ہے کہ بالی ووڈ میں جتنی عمر عامر خان کی فلم پی کے کی ہے اتنی ہی عمر انتخابی حکمت عملی والے پی کے کی بھی ہے۔ دونوں ایک ساتھ یعنی 2014 میں منظرِ عام پر آئے مگر اولذکر چند ماہ بعد اپنا ٹارگیٹ حاصل کرکے منظرِ عام سے غائب ہوگئے، جبکہ ثانی الذکر ہنوز ہندوستانی سیاست کے منظرنامے پر موجود ہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ ابھی تک اپنا ہدف نہیں پاسکے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ مودی، نتیش کمار، کیجریوال، کیپٹن امریندرسنگھ، جگن ریڈی، ایم کے اسٹالن، ممتا دیدی یہاں تک کہ راہل گاندھی ہر ایک کے یہاں اپنی قسمت آزما رہے ہیں، مگر کمبخت ہدف ہے کہ ان کے ہاتھوں سے پھسلا جا رہا ہے۔ اب اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ وہ تو ایک انتخابی حکمت عملی بنانے والے شخص ہیں اور مختلف پارٹیوں کو اپنی منصوبہ بندی کا پٹارہ فروخت کرکے، اس کا بھاری بھرکم معاوضہ لے کر کسی دوسرے گاہک کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں تو آپ بالکل میر کی طرح سادہ ہیں جو اسی عطار کے صاحبزادے سے دوا خریدتے ہیں جس کے سبب وہ بیمار ہوئے تھے۔

پرشانت کشور کے اوصافِ پیچیدہ پر گفتگو سے قبل ذرا ان کے ایک حالیہ بیان پر بات کرلیتے ہیں۔ دو روز قبل ایک ٹی وی نیوزچینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کانگریس کو کچھ بن مانگے مشورے دیئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف پارٹیوں کو یکجا کرلینے سے 2024 میں کانگریس بی جے پی کو شکست نہیں دے پائے گی۔ کانگریس کو جیتنے کے لئے پارٹی میں کچھ تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ کانگریس نے پارٹی کے طور پر جس طرح خود کو ترتیب دیا ہے، انتخابات کے دوران وہ جس طرح عوام تک پہنچتی اور لوگوں سے جڑتی ہے اس میں بنیادی گڑبڑی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے طور پر کانگریس کا گراف کافی گرا ہے۔ سب سے پہلے کانگریس کو اپنے فیصلے لینے کے طریقے میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کئی باتیں کہیں جس میں فیصلہ لینے میں تیزی، مقامی لیڈروں کو مضبوط بنانے اور کل وقتی صدر ہونے جیسی باتیں شامل ہیں۔ انہوں نے یہ باتیں بظاہر تو مشورے کے طور پر کہی ہیں لیکن انہیں سن کر یہ اندازہ لگانے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی کہ (ان کے بقول) بی جے پی ایک ناقابلِ شکست پارٹی ہے اور اور اسے شکست دینا کانگریس کے بس کی بات نہیں ہے اور اگر کانگریس اسے شکست دینا چاہتی ہے تو دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد کے ساتھ اسے اپوزیشن کی قیادت سے دستبردار ہونا پڑے گا۔


اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ پی کے چونکہ بی جے پی کو ہرانا چاہتے ہیں اس لئے وہ کانگریس کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ ان کی سادگی پر قربان ہونے جیسا ہوگا۔ پی کے بی جے پی کو ہرانا ضرور چاہتے ہیں لیکن کانگریس کی قیادت والی اپوزیشن کے ذریعے نہیں بلکہ ترنمول کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن کے ذریعے۔ اس کے لئے وہ اگر ممتا دیدی کو ایک جانب دیگر اپوزیشن پارٹیوں سے اتحاد کے لئے پورے ملک میں دوڑا رہے ہیں تو دوسری جانب کانگریس کو کمزور کرنے کے لئے وہ دیدی کا استعمال بھی کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر دیدی ممبئی جاکر این سی پی کے سربراہ شردپوار سے ملاقات کرتی ہیں تو وہیں آسام میں کانگریس کی ایک اہم لیڈر کو توڑ کر ترنمول میں لایا جاتا ہے۔ پھر میگھالیہ میں کانگریس کے 12؍ممبرانِ اسمبلی کو توڑا جاتا ہے۔ گوا میں بھی کانگریس پر شب خون مارا جاتا ہے اور تریپورہ کے بلدیاتی انتخاب میں بی جے پی کو ہرانے کے بجائے پورا زور کانگریس کی راہ روکنے پر لگا دیا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بی جے پی اس قدر مضبوط ہوگئی کہ اس نے ٹی ایم سی کو ہی چاروں خانے چت کر دیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پی کے بی جے پی کو ہرانا چاہتے ہیں تو کانگریس کو کمزور کرنا کیوں چاہتے ہیں؟ تو اس سوال کے کئی جوابات ہوسکتے ہیں، جن پر ہم ایک ایک کرکے بات کرتے ہیں۔

2014 میں جب امریکہ پلٹ پرشانت کشور نے بی جے پی کی انتخابی مہم سنبھالی تو کسی کے وہم وگمان میں نہیں تھا کہ وہ ایک دن ملک میں انتخابی حکمت عملی کے بہت بڑے چانکیہ بن کر ابھریں گے۔ اب معلوم نہیں کہ یہ ان کی انتخابی حکمت ِ عملی کا نتیجہ تھا یا کانگریس کی کمزوری کہ مودی وزیراعظم کے عہدے تک پہنچ گئے۔ اس کے بعد تو پورے ملک میں گویا پی کے کا ڈنکا بج اٹھا تھا۔ لیکن یہ ڈنکا بھی بی جے پی کے باہر زیادہ بجا کیونکہ بی جےپی اس کامیابی کو مودی کی مقبولیت کہتے نہیں تھک رہی تھی۔ بہر حال عام طور پر یہی سمجھا جاتا رہا کہ پی کے کی انتخابی حکمتِ عملی کی وجہ سے بی جے پی حکومت بنانے میں کامیابی ہوسکی۔ بتایا جاتا ہے کہ پی کے اپنی اس بے پناہ کامیابی کے عوض بی جے پی یا کابینہ میں کوئی عہدہ چاہتے تھے لیکن مودی نے یہ کہتے ہوئے صاف انکار کر دیا تھا کہ انتخابی مہم کا انتظام سنبھالنے کے عوض جو معاوضہ مانگا گیا تھا اس کی پائی پائی چکا دی گئی ہے، ہمارے پاس ان سے بھی اہم لوگ موجود ہیں اس لئے انہیں ہم مزید کچھ نہیں دے سکتے۔


مودی کے اس صاف انکار کے بعد بی جے پی سے پی کے کا موہ بھنگ ہوگیا، لیکن چونکہ انہیں سیاسی عہدہ حاصل کرنے کا جراثیم لگ چکا تھا اس لئے انہوں نے بہار کے نتیش کمار سے رابطہ کیا۔ نتیش کمار نے پی کے کا استقبال کیا اور انہیں جنتادل (یو) میں نائب صدر کا عہدہ دے دیا۔ نتیش کمار نے پی کے کو پوری انتخابی مہم کی ذمہ داری بھی سونپ دی جس کو انہوں نے کامیابی سے نبھاتے ہوئے جے ڈی یو کو بغیر بی جے پی کے اقتدار تک پہنچایا۔ لیکن چونکہ پی کے کو اپنی سیاسی ترجیحات کسی نیشنل پارٹی سے ہی حاصل ہوسکتی تھی اس لئے بہت جلد جے ڈی یو سے بھی ان کا جی بھر گیا اور وہ جے ڈی یو سے باہر ہوگئے یا باہر کر دیئے گیے۔ اس سے قبل 2019 کے پارلیمانی انتخابات ہوئے۔ پی کے یہ سوچ رہے تھے کہ بی جے پی ان کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل سکے گی لیکن ان کی مدد کے بغیر بی جے پی نے زبردست اکثریت حاصل کرلی۔ اس کے بعد پی کے سمجھ گئے کہ اب ان کے لئے بی جے پی کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند ہوچکے ہیں۔

جنوری 2020 میں جے ڈی یو سے علاحدہ ہو نے کے بعد پی کے نے کانگریس کا رخ کیا اور اس وقت کے پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندرسنگھ کی مدد سے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی و راہل گاندھی سے ملاقاتیں شروع کیں۔ اس وقت میڈیا میں یہ خبریں تک آنے لگیں کہ پی کے اب کانگریس میں شامل ہوئے تب ہوئے، لیکن یہ محض خبریں ہی رہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ کانگریس کے وہ تمام لیڈر جو جی 23 کہلاتے ہیں وہ پی کے کے سخت خلاف تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ راہل گاندھی بھی پرشانت کشور سے کوئی بہت زیادہ متاثر نہیں ہوئے تھے۔ بہرحال کچھ دنوں تک انتظار کے بعد جب کانگریس کی جانب سے کوئی مثبت اشارہ نہیں ملا تو وہ کانگریس و سونیا گاندھی و راہل گاندھی کے خلاف بیانات دینے شروع کر دیئے۔ لیکن سیاسی عہدہ حاصل کرنے کا ان کے اندر کا جراثیم انہیں ایک کل چین نہیں لینے دے رہا تھا، سو انہوں نے بنگال کا رخ کیا۔ ممتا بنرجی کو بھی پی کے جیسے کسی انتخابی حکمتِ عملی بنانے والے کی ضرورت تھی سو دونوں میں خوب جمی۔ پی کے نے بھی دیدی کو کامیاب کرانے کے لئے جم کر محنت کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دیدی کو توقع سے کہیں زیادہ کامیابی حاصل ہوئی۔


لیکن ٹی ایم سی کی یہ کامیابی بھی پی کے کے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لئے ناکافی تھی۔ بی جے پی وکانگریس کو پہلے ہی انہوں نے اپنی توقع پر پورا نہیں پایا، اس لئے انہوں نے ٹی ایم سی کو ہی نیشنل سطح کی پارٹی بنانے کا بیڑہ اٹھالیا۔ اس ضمن میں ضروری تھا کہ دیگر ریاستوں میں بھی ٹی ایم سی کو مضبوط کیا جائے لیکن اس کے لئے جو وقت، افرادی قوت وسرمایہ درکار ہوتا ہے وہ اکیلے ٹی ایم سی کے بس کی بات نہیں تھی، اس لئے پی کے نے دیدی کو ملکی سطح پر ایک ایسا اتحاد بنانے کا مشورہ دیا جو ان کی قیادت میں قائم ہو۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے لئے انہوں نے دیدی کو وزیراعظم بننے کا خواب بھی دکھایا۔ اب اس کے بعد صورت حال یہ ہے کہ ایک جانب دیدی پورے ملک میں غیرکانگریسی و غیر بی جے پی پارٹیوں کا اتحاد بنانے میں مصروف ہیں تو دوسری جانب پی کے کانگریس پر تنقیدیں کرکے یہ فضاء بنانے میں لگے ہوئے ہیں کہ بی جے پی کے خلاف جو بھی اتحاد بنے اس کی قیادت کانگریس کے ہاتھ میں نہ رہے کیونکہ کانگریس کی قیادت والی یو پی اے بی جے پی کو شکست نہیں دے سکتی۔ اب بھلا خود کو انتخابی حکمتِ عملی کے حرفِ آخر سمجھنے والے پی کے کو یہ کون سمجھائے کہ ملکی سطح کا کوئی بھی اتحاد کسی ملکی سطح کی پارٹی کی ہی قیادت میں ممکن ہے۔ سو پی کے کے حالیہ انٹرویو اور بیانات کو اسی پیرائے میں دیکھا جانا چاہئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔