قبل از انتخابی سروے: بی جے پی کے سوراخ زدہ غبارے میں ہوا... اعظم شہاب

سروے کے اعدادوشمار کو اگر بالفرض حقیقی تسلیم کرلیا جائے کہ بی جے پی کی سیٹوں میں کوئی کمی نہیں ہو رہی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ پردھان سیوک سے لے کر بی جے پی کے بڑے رہنماؤں کو ایک پل چین نہیں مل رہا ہے؟

پی ایم مودی، تصویر آئی اے این ایس
پی ایم مودی، تصویر آئی اے این ایس
user

اعظم شہاب

ایسا لگتا ہے کہ قبل از انتخابی سروے والوں نے اس بار یوپی میں بی جے پی کا بیڑہ غرق کرنے کی ہی ٹھان لی ہے جو وہ ہر ہفتے ایک سروے لاکر اس کے بلیڈ پریشر میں اضافہ کئے ہوئے ہیں۔ گوکہ ہر سروے میں بی جے پی کو زبردست اکثریت سے کامیاب ہوتا ہوا دکھایا جاتا ہے، مگر پردھان سیوک سے لے کر یوگی مہاراج تک ہر کوئی اس ’زبردست اکثریت‘ کے مطلب سے بخوبی واقف ہیں جس میں ایک جانب بی جے پی کو نصف سے زائد سیٹیں دی جا رہی ہیں تو دوسری جانب سماج وادی پارٹی کے ووٹ فیصد میں بھی زبردست اضافہ دکھایا جاتا ہے۔ اب بھلا ایسا کون سا میتھ میٹکس ہے جس میں ایک پارٹی کے ووٹ فیصد میں تو متواتر اضافہ ہو رہا ہو لیکن کامیاب دوسری پارٹی ہوجائے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب بی جے پی کے لوگ بھی اس طرح کے سروے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ زمینی سطح کے حالات سروے میں پیش کئے گئے نتائج سے کہیں زیادہ مختلف ہیں۔

دو روز قبل یعنی 11دسمبر 2021 کو اے بی پی سی وووٹر نے ایک سروے پیش کیا جس میں بتایا گیا کہ یوپی کی کل 403 نشستوں میں سے بی جے پی کو 212 سے 224 نشستیں مل رہی ہیں، جبکہ سماج وادی پارٹی کے حصے میں 151 سے 163 نشستیں آ رہی ہیں۔ اسی طرح بی ایس پی کو 12 سے 24، کانگریس کو 2 سے 10؍جبکہ دیگر کو 2 سے 6 سیٹں مل رہی ہیں۔ اسی سروے کے ساتھ دیگر ریاستوں کے بھی سروے پیش کئے گئے ہیں جن میں سے صرف پنجاب کو چھوڑ کر ہر جگہ بی جے پی کامیاب ہو رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ سروے 13؍نومبر سے 9 دسمبر کے درمیان کئے گئے ہیں جن میں پانچوں ریاستوں میں کل 96 ہزار لوگوں کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔ سب سے پہلے تو اس سروے پر ہی سینکڑوں اعتراض کئے جاسکتے ہیں اور ثابت کیا جاسکتا ہے کہ یہ ایک تصوراتی سروے ہے اور اس کا زمینی حالات سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اگر ہم صرف اترپردیش کی بات کریں تو وہاں کی تقریباً 24کروڑ کی آبادی میں 14کروڑ رائے دہندگان ہیں اوران میں سے چند ہزار کی آراء کسی طور پر تمام نشستوں کے رجحان واضح نہیں کرسکتے۔ اس کے علاوہ سروے میں نفی جمع کا امکان تین سے پانچ بتایا گیا ہے یعنی سروے کرنے والوں کو بھی اپنے اخذ کردہ نتائج پر بھروسہ نہیں ہے۔


اسی اے بی پی سی ووٹر نے 8 دسمبر2021 کو بھی ایک سروے میں پیش کیا تھا جس میں اس نے بی جے پی کو 48 فیصد ووٹ دیا تھا جبکہ اس کے محض چار دن بعد ہی یہ شرح کم ہوکر 40 پر پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسی سروے کرنے والے ادرے نے 27 نومبر کے اپنے سروے میں بی جے پی کو 45 فیصد ووٹ ملتا ہوا دکھایا تھا اور اس سے ایک ہفتہ قبل یعنی 20نومبرکو یہ شرح 47 فیصد تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی کے ووٹ فیصد میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ 20 نومبر کے سروے میں لوگوں سے ایک سوال یہ بھی کیا گیا تھا کہ کیا وہ حکومت سے ناراض ہیں اور اسے تبدیل کرنا چاہتے ہیں؟ تو اس کا جواب 47 فیصد لوگوں نے اثبات میں دیا تھا۔ یعنی 47 فیصد لوگ یوگی حکومت کو تبدیل کرنا چاہتے تھے مگر سروے کے نتیجے میں بتایا گیا کہ 40 فیصد لوگ بی جے پی کو ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ اب یہ بات سی ووٹر والے ہی سمجھا سکتے ہیں کہ 47 فیصد لوگ جو یوگی حکومت تبدیل کرنا چاہتے ہیں ان میں 7 فیصد یوگی کو دوبارہ ووٹ کیوں دیں گے۔

اے بی پی سی ووٹر کے جتنے بھی سروے ابھی تک آئے ہیں ان تمام میں بی جے پی کے ووٹ فیصد میں متواتر کمی دکھائی گئی ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ سیٹیوں کی تعداد میں کوئی خاص کمی نہیں دکھ رہی ہے۔ جبکہ سماج وادی پارٹی کے ووٹ فیصد میں متواتر اضافہ کے باوجود اس کی سیٹیوں میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر 12؍نومبر کے سروے میں بی جے پی کو 41 فیصد ووٹ بتایا گیا تھا اور سیٹوں کی تعداد 213 سے221 تھی۔ جبکہ 11دسمبر کے سروے میں اس میں ایک فیصد کی کمی ہوئی مگر سیٹوں کی تعداد میں صرف ایک کی کم وبیش رہی۔ اس کے برخلاف 12نومبر کے سروے میں سماج وادی پارٹی کو 31 فیصد ووٹ ملتا ہوا بتایا گیا اور سیٹوں کی تعداد 152سے160کے درمیان تھی جبکہ 11دسمبر کے سروے میں یہ فیصد بڑھ کر 34 ہوگیا مگر سیٹوں کی تعداد 151سے163کے درمیان ہی رہی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جہاں ایک فیصد ووٹ کم ہونے سے بی جے پی کی محض ایک سیٹ ہی کم ہو رہی ہے، وہیں 3 فیصد زائد ووٹ پر سماج وادی کی سیٹوں میں کوئی اضافہ کیوں نہیں ہو رہا ہے؟


سروے کے اعدادوشمار کو اگر بالفرض حقیقی تسلیم کرلیا جائے اور یہ مان لیا جائے کہ بی جے پی کی سیٹوں میں کوئی کمی نہیں ہو رہی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ پردھان سیوک سے لے کر یوگی مہاراج تک اور امت شاہ سے لے کر جے پی نڈا تک کو ایک پل چین نہیں مل رہا ہے؟ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی کو اندازہ ہوگیا ہے کہ اترپردیش 2017 کی طرح آسان نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوپی کو یوگی مہارارج کے ہاتھ میں بالکل نہیں چھوڑا گیا ہے۔ یہاں تک پوروانچل تک کی ذمہ داری بھی ان سے لے لی گئی ہے۔ اس لئے اے بی پی سی ووٹر کے سروے کی بنیاد پر اگر کچھ لوگ یہ تصور کر رہے ہیں کہ یوپی میں دوبارہ بی جے پی کا کمل کھلے اٹھے گا تو ان کے لئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ احمقوں کی جنت میں رہنے پر کسی پر کوئی پابندی ابھی تک نہیں عائد ہوئی ہے۔ گوکہ سروے کے ذریعے بی جے پی کے غبارے میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر اس غبارے میں موجود سوراخ اسے زمین کی ہی جانب لے جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔