ونود دووا: ایک فکر، ایک ادارہ اور ایک تحریک... اعظم شہاب

آج ونود دوا ہم میں نہیں ہیں، لیکن ان سے متاثر ہوکر شروع ہونے والے ہزاروں سوشل میڈیا چینل پر وہ آج بھی زندہ ہیں اور کل بھی زندہ رہیں گے۔

ونود دوا، تصویر آئی اے این ایس
ونود دوا، تصویر آئی اے این ایس
user

اعظم شہاب

ونود دووا ایک فرد نہیں ایک فکر، ایک ادارہ اور ایک تحریک کا نام تھا۔ اسی لیے ان کے ایک دوست نے ونود دووا کی موت پر ٹوئٹ کیا ’ونود نہیں مرا، ونود نہیں مرتے‘ ونود دووا عدل و انصاف کے قیام کی جس فکر کے علمبردار تھے وہ نہیں مر سکتی، اس لیے ونود دووا نہیں مرسکتے۔ ونود دووا نے جن لوگوں کو ٹیلی ویژن کی صحافت سکھائی وہ لمبی چوڑی فوج زندہ ہے اور ان سب میں ونود دووا زندہ و تابندہ ہیں۔ وہ اس تحریک کو آگے بڑھا رہے ہیں جس کا پرچم ونود دووا آخری سانس تک تھامے رہے۔ ایک نڈر اور بیباک صحافی کی تحریک جس نے دور درشن کی سرکاری ملازمت کے دوران وزیر دفاع شر دپوار سے ٹی وی پر کہہ دیا کہ آپ کیمرے کی جانب نہیں بلکہ مجھے دیکھیں کیونکہ آپ قوم سے خطاب نہیں کر رہے ہیں اور میں یہاں وقت نہیں ضائع کر رہا ہوں۔ اسی طرح وزیر ہوا بازی اشوک گہلوت کو اپنے انٹرویو میں ایسا رگڑا کہ دوسرے دن ان کو استعفیٰ دینا پڑا۔ صاحب اقتدار لوگوں کے ساتھ اس قدر سختی سے پیش آنے والا ونود دووا اپنے ساتھیوں کے ساتھ نہایت سادگی اور بردباری کا سلوک کرتا تھا۔

ونود دووا کا ایمان جن صحافتی اقدار پر تھا وہ آخری دم تک اس پر قائم و دائم رہے۔ مودی یگ میں جب ٹیلویژن کی صحافت کو خوف اور لالچ کے سہارے سیاستدانوں کے تلوے چاٹنے پر مجبور کر دیا گیا، ونود دووا نے وزیر اعظم سمیت بی جے پی کو قلم کی نوک پر اٹھا لیا۔ ان کی نڈر آواز کو دبانے کی خاطر جون 2020 میں دہلی بی جے پی کے ایک ترجمان نے پولیس کی کرائم برانچ میں ان کے خلاف ایچ ڈبلیو نیوز پر ’فیک نیوز‘ پھیلانے کا الزام لگا کرمعاملہ درج کرایا۔ ان پر وزیر اعظم کی توہین کا الزام بھی لگا مگر عدالت نے عبوری ضمانت دے دی۔ بی جے پی لیڈر اجئے شیام نے ہماچل پردیش میں ونود دوا کے خلاف بغاوت کا معاملہ درج کرایا مگر اس معاملے کو خارج کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ’ہر صحافی کیدار ناتھ سنگھ معاملے کے تحت تحفظ حاصل کرنے کا حق دار ہے‘۔ اس طرح من کی بات کو جن گن کی بات نے شکست فاش سے دوچار کر دیا۔


ونود دووا نے ٹی وی نیوزچینل کے بالمقابل جب سوشل میڈیا کی صحافت کا آغاز کیا اور یوٹیوب پر دی وائر کے تحت جن گن من کی بات شروع کی تو پورے ملک میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا۔ کیونکہ اول تو ہماری قومی صحافت حکومتِ وقت کے آگے سجدہ ریز ہوچکی تھی جو اب بھی ہے۔ دوسرا یہ کہ دیش بھکتی کے لبادے میں چھپی اندھ بھکتی نے عقلوں کو ماؤف کر دیا تھا۔ ایسے میں علانیہ طور پر حکومت کی خامیوں اور کوتاہیوں کو منظرِ عام پر لانے کا حوصلہ بڑے ہی دل گردے کا کام تھا۔ یہ کام وہی کرسکتا ہے جس نے صحافتی حق گوئی کو اپنے ایمان کا حصہ بنالیا ہو۔ ونود دوا نے اسی حق گوئی کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے اپنے شو کے ذریعے دیش بھکتی اور اندھ بھکتی کے فرق کو بالکل واضح کرکے رکھ دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سوشل میڈیا پر حکومت کی خامیوں اورغلط پالیسیوں پر تنقیدیں کرنے والوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا۔ ان کے شو سے تحریک پاکر ایسے بے شمار یوٹیوب چینل وجود میں آئے جنہوں نے سوشل میڈیا کی صحافت کو تسلیم کرنے پرمجبور کردیا وگرنہ اس سے قبل الکٹرانک وپرنٹ میڈیا کو ہی صحافتی درجہ حاصل تھا۔ ان کے طریقہ کار کی پیروی کرنے والے یوٹیوب پر کئی ایسے چینل ہیں جن کی آواز آج پوری دنیا میں گونج رہی ہے۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ ونود دوا نے صرف حکومتِ وقت پر ہی تنقیدیں کی بلکہ وہ حزبِ اختلاف کو بھی للکارتے رہے۔ 2019 کے پارلیمانی انتخاب سے قبل کانگریس کے بارے میں ان کی اس تنقید سے غالباً ہر کوئی واقف ہوگا کہ وہ سوچتی ہے کہ اقتدار کا سوٹ کیس اسی طرح اس کے سامنے آجائے گا جس طرح ایئرپورٹ پر کنویئر بیلٹ سے سامان سامنے آجاتا ہے۔ دی وائر سے علاحدگی کے بعد انہوں نے ایچ ڈبلیو نیوز پر اپنا پروگرام ’دی ونود دووا شو‘ کرنا شروع کیا جو جن گن من کی بات کی ہی طرح بے انتہا مقبول ہوا۔ اپنے شو کا اختتام وہ اکثر وبیشتر کسی نظم سے کیا کرتے تھے جو موقع محل کی مناسب سے بالکل موزوں ہوا کرتا تھا۔ اپنے شو کے دوران وہ اس طرح مخاطب ہوتے تھے گویا ناظرین ان کے سامنے بیٹھے ہوں۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے شو کا بے صبری سے انتظار کیا جاتا تھا۔ شوکے دوران نہایت سخت بات بھی بہ آسانی بیان کردینے کے فن پر وہ مکمل عبور رکھتے تھے۔ شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہوکہ وزیراعظم مودی کے لئے پردھان سیوک کے استعمال کو انہیں نے چلن دیا جس کے بعد آج یہ لفظ زبان زد ہوچکا ہے۔


معروف صحافی رویش کمار کے مطابق ’کیا بولنا ہے اور کیسے بولنا ہے اس معاملے میں ونوددوا کو جو قدرت حاصل تھی کوئی اس مقام تک نہیں پہنچ سکا۔ ان کی زبان بالکل پرفیکٹ تھی، مختصر تھی اور شائستہ تھی۔ ان کی زبان میں انگریزی، پنجابی، ہندی اور اردو کی بہترین شمولیت تھی۔ کیمرے کے سامنے ان کا رکھ رکھاؤ لاجواب ہوتا تھا۔ ان کے کام کو سمجھنا ہے تو کیمرے کے سامنے ان کے ہاؤ بھاؤ اور موجودگی کو دیکھئے۔ ایسا لگتا تھا کہ ناظر اور ان کے درمیان کوئی کیمرہ نہیں ہے۔ دونوں آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔ ونود دوا ہوں اور کچھ بول نہ رہے ہوں اور کچھ سخت نہ بول رہے ہوں تو وہ ونود دووا نہیں ہوسکتے۔ ان کی چال ڈھال میں ہمت وحوصلہ بھرا رہتا تھا۔ ونود دوا نہیں ہیں تو آج وہ دہلی بھی نہیں ہے جو ان کے ٹی وی پر آنے پر پورے دیش کی ہوجایا کرتی تھی۔ جرنلزم تو اب ویسی نہیں رہی لیکن ونود دوا تاعمر ویسے ہی رہے جیسے تھے‘۔ آج ونود دوا ہم میں نہیں ہیں، لیکن ان سے متاثر ہوکر شروع ہونے والے ہزاروں سوشل میڈیا چینل پر وہ آج بھی زندہ ہیں اور کل بھی زندہ رہیں گے۔ انہوں نے حق گوئی وبیباکی کی جو علم بلند کیا تھا اس کو تھامنے والے ہزاروں ہاتھ ہیں جو ان اس علم کو شاید ہی جھکنے دیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔