امروہیت کو رواج دینے والا شاعر شفاعت فہیم امروہوی

شفاعت فہیم نے امروہے کی زبان، لب و لہجے اور محاروں کو استعمال کر کے جو جادہ سخن قائم کیا اس پر نئی نسل کے شعرا قدم آگے بڑھا رہے ہیں۔

شفاعت فہیم
شفاعت فہیم
user

جمال عباس فہمی

دہلی اور لکھنؤ کے ادبستانوں کے درمیان امروہہ کا ادبستان ہے۔ جس کے شعرا نے دونوں ادبستانوں کا اثر تو قبول کیا لیکن اپنا خود کا ایک اسلوب بھی ایجاد کیا جسے 'امروہہ پن' یا 'امروہیت' کہا جاتا ہے۔ اسی 'امروہہ پن' نے مصحفی امروہوی کو مصحفی بنایا اور اسی اسلوب نے دنیائے شعر و سخن کو جون ایلیا جیسا منفرد لب و لہجے کا شاعر دیا۔ یہ بات اور ہے کہ مولانا محمد حسین آزاد نے اپنی کتاب 'آب حیات' میں مصحفی کا ذکر کرتے ہوئے ان کی زبان پر یہ کہتے ہوئے پھبتی کی کہ اس میں 'امروہہ پن' ہے۔ 'امروہہ پن' کو رواج دیکر خیالات کی ترسیل کے فن کو مقبول بنانے والوں میں جون ایلیا اور حیات امروہوی کے بعد شفاعت فہیم امروہوی کا نام خاص طور سے لیا جاتا ہے۔ شفاعت فہیم نے امروہے کی زبان، لب و لہجے اور محاروں کو استعمال کر کے جو جادہ سخن قائم کیا اس پر نئی نسل کے شعرا قدم آگے بڑھا رہے ہیں۔

شفاعت فہیم کی شعری اور قلمی کاوشوں کا ذکر کرنے سے قبل یہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ ان کے خاندانی پس منظر کا جائزہ لے لیا جائے۔ شفاعت فہیم کا تعلق امروہہ کے اس خانوادہ سے ہے جو علمی، ادبی اور مذہبی حیثیت کے حوالے سے ممتاز رہا ہے۔ اس خانوادے میں مذہبی علما، اہل قلم اور فنون لطیفہ سے متعلق شخصیات رہی ہیں۔ ڈاکٹر شفاعت فہیم اسی خانوادے کی چھٹی نسل کی نما ئندگی کرتے ہیں۔ اس خانوادے میں دو محمد سیادت اور دو محمد عبادت ہوئے اور چاروں کمال کی شخصیات رہی ہیں۔ شہر کی شیعہ جامع مسجد کے پہلے امام محمد عبادت حسین اول تھے۔ ان کے لائق فرزند مولانا محمد سیادت اول کے علمی اور ادبی مرتبے کا شہرہ والی ریاست رامپور نواب یوسف علی خاں تک پہنچا۔ نواب رامپور نے ان کے علم و فضل کا اعتراف اور احترام کرتے ہوئے انہیں اپنی سلطنت میں کچھ جائداد عطیہ کی تھی۔


مولانا محمد سیادت اول کے فرزند مولانا محمد حسن بھی عالم فاضل شخصیت تھے۔ ان کے فرزند اور شفاعت فہیم کے دادا مولانا اولاد حسن سلیم اپنے دور کے جید عالم، مستند شاعر اور خطاط تھے۔ مولانا اولاد حسن سلیم کی پسندیدہ صنف سخن رباعی تھی۔ انہوں نے رباعی میں ادق مضامین تک نظم کئے۔ ان کے شاگردوں میں نابغہ روزگار جون ایلیا کے والد شفیق حسن ایلیا اور اسی دور کے مستند شاعر نسیم حسین ہلال جیسے صاحبان طرز شعرا شامل تھے۔ نسیم حسین ہلال شفاعت فہیم کے نانا تھے۔ شفاعت فہیم کی ذات کے اندر اپنے دادا اور نانا دونوں کی سخن گوئی کے جوہر موجزن ہیں۔ شفاعت فہیم کے والد مولانا محمد عبادت حسین کلیم عربی فارسی کے عالم۔ عالم دین اور اہل قلم تھے۔ نثر اور نظم میں کمال قدرت کے مالک تھے۔ ان کے دو شعری مجموعے اور نثر میں ایک کتاب قلمی سرمایہ کے طور پر محفوظ ہے۔ مولانا عبادت حسین کلیم کے لائق شاگردوں کی بھی ایک بڑی جماعت تھی جس میں جون ایلیا جیسا شاعر، ادیب، مصنف اور دانشور بھی شامل ہے۔ جون ایلیا کے علاوہ مولانا عبادت کلیم کے جن شاگردوں نے زیادہ مقبولیت حاصل کی ان میں نازش امروہوی اور احسان امروہوی قابل ذکر ہیں۔ ایک تاریخی اتفاق یہ بھی ہے کہ جون ایلیا کے والد شفاعت فہیم کے دادا کے شاگرد تھے اور خود جون ایلیا شفاعت فہیم کے والد محترم کے حلقہ تلامذہ میں شامل تھے۔

2 اگست 1948 میں امروہہ میں پیدا ہونے والے شفاعت فہیم کے سب سے بڑے بھائی مولانا ڈاکٹر سیادت حسین فہمی امروہہ کے ایک ڈگری کالج کے شعبہ اردو کے سربراہ رہے۔ شفاعت فہیم کے ایک بھائی سید مبارک حسین بی پی اینڈ سی ایل الہ آباد سے وابستہ رہے اور ڈپٹی جنرل منیجر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ شفاعت فہیم کے سب سے چھوٹے بھائی پروفیسر حسنین اختر نقوی دہلی یونیورسٹی کے شعبہ عربی سے وابستہ ہیں۔ فہیم کے داماد اور بھتیجے ڈاکٹر احسن اختر سروش عالم دین بھی ہیں۔ خوش فکر شاعر بھی ہیں اور کئی کتابوں کے مرتب بھی ہیں۔ شہر کے آئی ایم انٹر کالج میں اردو کے لیکچرار ڈاکٹر احسن سروش، اپنے اجداد کے قلمی سرمایہ کو محفوظ کرکے شائع کرنے کے منصوبہ پر عمل پیرا ہیں۔ اب ایسے علمی اور ادبی خانوادے میں پرورش پانے والا اہل قلم نہیں ہوگا تو جائے حیرت ہے۔ خود شفاعت حسین فہیم پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے۔


علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی یو ایم ایس کیا تھا اور اردو میں ایم اے کرچکے تھے۔ پانچ برس کی عمر سے شفاعت فہیم نے محفلوں میں دادا اور والد کا کلام پڑھنا شروع کر دیا تھا۔ عمر کے اس دور میں فہیم کو اشعار کی فہم بھلے ہی نہیں تھی لیکن صحیح تلفط کے ساتھ کلام پڑھتے تھے۔ ہائی اسکول تک پہنچتے پہنچتے خود شعر موزوں کرنے لگے۔ سب سے پہلی شعری تخلیق نظم کی صورت میں نمودار ہوئی۔ اس کے بعد طبیعت کا میلان غزل کی جانب ہو گیا۔ غزل ہی شفاعت فہیم کی پسندیدہ صنف رہی۔ غزل میں اپنے خیالات اور جذبات کی ترسیل کے لئے انہوں نے 'امروہہ پن' کو رواج دیا۔ معروف ادیب شاعر اور ماہر لسانیات رئیس امروہوی نے شفاعت فہیم کی سخن گوئی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ' اس امروہوی شاعر نے اپنی شاعری کو بھی امروہوی بنا کر دنیائے غزل میں 'مکتبہ امروہہ' کی بنیاد رکھ دی ہے۔ جو، ان شا اللہ مستحکم، دیر پا اور منفرد ثابت ہوگی۔' ایک طرح سے رئیس امروہوی نے ڈاکٹر شفاعت فہیم کوشاعری میں 'مکتبہ امروہہ' کا بانی تسلیم کرلیا۔ ماہر اسلوبیات، ناقد اور ادیب ڈاکٹر پروفیسر منظر عباس نقوی کے 'مطابق' شفاعت فہیم کی گرفت مقامی روز مرہ پر اتنی مضبوط ہے کہ انہوں نے 'امروہہ پن' کو بلا شبہ فن بنا دیا ہے۔'

شفاعت فہیم نے امروہہ کے لب و لہجے، محاروں اور گھروں، محفلوں اور بازاروں میں بولی جانے والی روز مرہ کو سخن گوئی میں اس خوبصورتی کے ساتھ برتا ہے کہ وہ امروہیت یا امروہہ پن کا استعارا بن گئے ہیں۔ ڈاکٹر شفاعت فہیم کو 'امروہہ پن' کو رواج دینے کی تحریک محمد حسین آزاد کی کتاب 'آب حیات' میں مصحفی کا تذکرہ پڑھنے کے بعد ملی۔ جس میں محمد حسین آزاد نے مصحفی کی زبان کا یہ کہتے ہوئے مذاق اڑایا تھا کہ اس میں 'امروہہ پن' ہے۔ شفاعت فہیم نے اسی وقت فیصلہ کرلیا تھا کہ تو سہی وہ اسی 'امروہہ پن' کو سخن گوئی کے حوالے سے ایسا رواج دیں گے کہ وہ فن بن جائے گا۔ انہوں نے پامال راستوں پرنا چل کراپنی راہ اسلوب طے کی۔ یہی امروہہ پن۔ ان کا اسلوب بیان ٹھہرا۔ بقول ان کے

ہم اپنی زباں اپنے ہی اسلوب کے حامل

ہم سے تو کسی اور کی اطاعت نہیں ہوگی


شفاعت فہیم کے کلام میں 'امروہیت' یا 'امروہہ پن' کے استعمال کے چند نمونے پیش ہیں۔

ایسی 'کھسٹی' ہوئی دلہن ہے ہماری ہر شب

جس کے ماتھے پہ کہیں چاند کا ٹیکا بھی نہیں

۔۔۔۔

ہوش آجائے تو کچھ 'پڑھ لو پڑھا لو' مجھ کو

مصحف وقت ہوں جزداں سے نکالو مجھ کو

۔۔۔۔

میں کوئی شعر نہیں کہ 'اڑا دو سن' کے

اک زمانہ ہوں کتابوں میں سجا لو مجھکو

۔۔۔

تم نہیں بولتے تو یونہی سہی

ہم نے بھی 'چپ کی سادھ' لی ہے میاں

۔۔۔۔

ضبط کرتا تو لرزتے کیوں ہونٹ

اب 'ڈھیا پھوٹ پڑا' ہے شاید

۔۔۔۔

مرے سکون کو اس طرح 'بھنگ' کرتا ہے

وہ چپ ہے اور سوال 'انگ انگ' کرتا ہے

۔۔

تری ہر بات یاد آتی رہے گی

مجھے یہ بات ہی 'کھاتی رہے' گی

۔۔۔

یوں شام ڈھلے غم کا طوفان مچلتا ہے

تنہائی برستی ہے 'اندھیارا' ابلتا ہے

۔۔۔

بستیوں کی خاموشی جنگلوں کا سناٹا

اور کہیں مہیب آواز موت کا سا 'خراٹا'

۔۔۔۔۔

سوکھے سوکھے پیڑوں میں اک عجیب 'کھڑ بڑ' ہے

خالی پیٹ میں جیسے پڑ رہا ہو 'کھلاٹا'

۔۔

'لیوے لگا لگا' کے پرانے مکان کو

قائم رکھا ہے ہم نے اسی آن ان کو

شفاعت فہیم کے کلام کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی فکر تغزل پر بھاری رہی ہے۔

عقل مبہوت ہو گئی فوراۡ

جب یہ سوچا کہ زندگی کیا ہے

۔۔

ان چراغوں تلے اندھیرا ہے

ان چراغوں میں روشنی کیا ہے

۔۔۔

یہ کیا کہ میرے فکر و عمل میں تضاد ہے

مجھ کو تو کوئی میرے ہی اندر دکھائی دے

۔۔

اپنی سانسیں بھی اپنے بس میں نہیں

زندگ خاک زندگی ہے میاں

ڈاکٹر شفاعت فہیم کے کلام میں کربلائیت جا بجا نظر آتی ہے۔ کربلائی تشبیہات، تلمیحات، اور استعارات کو انہوں نے خیالات کی ترسیل کے لئے خوب استعمال کیا ہے۔

میرا سر کاٹ کے نیزوں پہ چڑھایا لیکن

نوک نیزہ پہ یہ خورشید سری کس کی ہے

۔۔۔۔۔

دشت خاموش میں طوفان اٹھا میرے بعد

میری آواز کا اندازہ ہوا میرے بعد

۔۔۔

تم مجھ کو قتل کرکے سکوں کیسے پاؤ گے

مٹی میں اپنے خوں کا اثر چھوڑ جاؤں گا

۔۔۔۔

میں اپنے ہونٹ خشک ہی لے جاؤں گا مگر

آنکھیں ہر ایک شخص کی تر چھوڑ جاؤنگا

۔۔۔

تم روشنی کو قتل نہ کر پاؤگے کبھی

میں اتنے شمس، اتنے قمر چھوڑ جاؤنگا

۔۔۔۔۔۔

کسی کی پیاس کا احساس بھی نہیں تم کو

کہیں نہ خشک تمہاری یہ علقمہ ہو جائے

۔۔۔۔۔۔

ڈوبا ہوا سا خون میں خاور دکھائی دے

گویا سحر میں شام کا منظر دکھائی دے


ڈاکٹر شفاعت فہیم نے شعر گوئی میں تجربے بھی کئے ہیں۔ وہ مزاجاۡ جدت طراز اور اختراع پسند واقع ہوئے۔ ان کی اختراع پسندی کے نمونے ذیل کی دو غزلوں میں دیکھئے۔

پست کرکے بلندئیں رکھ دو

جا بجا چند سیڑھئیں رکھ دو

حبس وہ ہے کہ ناک میں دم ہے

اب مرے گھر میں آندھئیں رکھ دو

تم کسی نوجواں کو خط لکھو

اور لفافے میں چوڑئیں رکھ دو

کوئی یوسف ادھر سے گزرے گا

کاٹ کر پہلے انگلئیں رکھ دو

آئینے ہو چلے ہیں بھک میلے

پتھروں میں تجلئیں رکھ دو

میری پتھرائی سی ان آنکھوں میں

اپنی آنکھوں کی بجلئیں رکھ دو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

افسانہ سحر کو بس اب اختتامئے

اندھے کنویں میں ڈوبتے سورج کو تھامئے

کیا غم جو آرہے ہیں اجل کے پیامئے

بزم حیات اور ابھی اہتمامئے

تخریب زندگی بھی ہے تعمیر زندگی

کہنہ روایتوں کے کھنڈر انہدامئے

لمحوں کے سر شباب کے میداں میں بچھ گئے

تیغ توہمات کو اب تو نیامئے

ہر لمحہ کہہ کے بھاگ رہا ہے قریب سے

گرتے ہوئے مکان میں کب تک قیامئے

شفاعت فہیم کے کچھ اشعار تو بہت مقبول ہوئے۔

زمانے پر کرونگا تبصرہ میں

مگر سب گفتگو ذاتی رہے گی

۔۔۔

تم مجھ کو میرے سامنے مت لائیو فہیم

آئینہ آئینے کو بھلا کیا دکھائے گا

۔۔۔

امید سحر ہوتے ہی تارکیئ شب میں

کم ظرف چراغوں نے دھنواں چھوڑ دیا ہے

۔۔۔

ان کے پیچھے تو ہے انہی کا ذکر

سامنے بات بھی نہی ہوتی

۔۔۔۔

لکھی ہے ابھی تلخیئ خوننا بہ ہستی

چلنا ہے کچھ آگے تجھے اے عمر رواں اور

۔۔۔

یہ راز نہ سمجھا ہے نہ سمجھے گا زمانہ

ہم جیتے ہوئے کھیل کو کیو ں ہار رہے ہیں

۔۔۔۔

آج ہر ذہن کی ٹانگیں ہیں تھکن سے بوجھل

ہم خیالوں میں بہت دور چلے ہوں جیسے

شفاعت فہیم کی غزلوں کے دو مجموعے 'بر وقت' اور 'ممکن' کے عنوان سے منظر عام پر آچکے ہیں۔ امید ہے کہ ان کے نظم کردہ سلاموں اور منقبتوں کا مجموعہ بھی جلد شائع ہوگا۔ اپنے منفرد لب و لہجے کے باعث الگ پہچان رکھنے والے ڈاکٹر شفاعت حسین فہیم 10ستمبر 2020 کو دار فانی سے رخصت ہو کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ 'امروہہ پن' کو فن کے طور برتنے والے شفاعت فہیم کی ادبی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائےگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔