قطعۂ مستزاد کا موجد شاعر جاوید اکرم فاروقی... جمال عباس فہمی

جاوید اکرم فاروقی کا قلمی سفر بڑی آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ بقول جاوید اکرم 'میں اپنے اندرموجود شاعر کی ہمسفری میں اپنا شعری سفر طے کر رہا ہوں اور اُس شعر کی تلاش میں ہوں جو میری پہچان بنے-

قطعۂ مستزاد کا موجد شاعر جاوید اکرم فاروقی / جمال عباس
قطعۂ مستزاد کا موجد شاعر جاوید اکرم فاروقی / جمال عباس
user

جمال عباس فہمی

اردو کی کسی بھی مروجہ صنف سخن کے موجد کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔ یہ اس لئے بھی نا ممکن ہے کہ لگ بھگ تمام اصناف سخن فارسی سے اردو میں آئی ہیں۔ اردو کی سب سے زیادہ مقبول صنف سخن غزل عربی سے فارسی میں اور فارسی سے اردو میں آئی۔ اورغزل تو باقاعدہ صنف سخن تھی بھی نہیں۔ بقول معروف ادیب پروفیسر ڈاکٹر شارب رودولوی غزل عربی قصیدہ کا حصہ ہوا کرتی تھی۔ عربی قصیدہ پہلے رزمیہ ہوا کر تا تھا۔ اس میں حرب و ضرب کے مضامین باندھے جاتے تھے۔ قصیدے کے عناصر ترکیبی میں عشقیہ مضامین بھی شامل ہوتے تھے۔ فارسی میں قصیدے سے عشقیہ مضامین کو الگ کیا گیا اور اس طرح غزل معرض وجود میں آئی۔

قصیدے سے غزل کو کس نے الگ کیا اور بقیہ تمام اردو اصناف سخن کا موجد کون ہے کوئی اس بارے میں وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتا، لیکن اردو میں صرف ایک نو مولود صنف سخن ہے جس کے موجد کے بارے میں وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ وہ کون ہے۔ وہ نو زائدہ صنف سخن ہے قطعہ مستزاد اور اس کے موجد کا نام نامی ہے جاوید اکرم فاروقی امروہوی۔ اس صنف سخن کی 'جائے ایجاد' سر زمین امروہہ ہے۔ امروہہ کے حصے میں جہاں اور بہت سے شرف ہیں قطعہ مستزاد کی 'جائے پیدائش' ہونے کا شرف بھی اسی کے حصے میں آیا ہے۔ قطعہ مستزاد کے موجد جاوید اکرم فاروقی خوش فکر اور صاحب طرز شاعر ہیں۔ ان کے کئی شعری مجموعے منظر عام پر آکر سخن شناسوں کی داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں۔ اپنی طرز کے واحد شاعر جون ایلیا کی خصوصی داد جاوید اکرم فاروقی کی شاعری پرسند کی حیثیت رکھتی ہے۔ جاوید اکرم فاروقی کی شاعری اور ان کی ایجاد قطعہ مستزاد کی ہئیت کے بارے میں بات کرنے سے پہلے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جاوید اکرم فاروقی کے بارے معلومات حاصل کی جائے۔


معروف ادیب اور افسانہ نگار اکرم فاروقی کا گھرانہ امروہہ کے معروف علمی اور ادبی گھرانوں میں شمار ہوتا ہے۔ اکرم فاروقی اپنے زمانے کے مستند اہل قلم تھے۔ ان کے تحریر کردہ افسانے ایک زمانے میں بیسویں صدی رسالے کو زینت بخشتے تھے۔ اکرم فاروقی کی اس وقت چار دختران اور چار فرزند ہیں۔ سب سے بڑے فرزند نشاط اکرم فاروقی کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے۔ وہ شہر کے معروف وکیل تھے۔ اکرم فارقی کی تمام اولادیں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور تقریباً تمام ہی درس و تدریس کے مقدس پیشے سے وابستہ ہیں۔ جس گھر میں علم و ادب اور تہذیب و تمدن پر گفتگو ہوتی ہو اس گھرانے میں پرورش پانے والے افراد کو کیسا ہونا چاہیے یہ دیکھنے کے لئے اکرم فاروقی اور ان کی اولادوں کو دیکھ لینا کافی ہوگا۔ جاوید اکرم فاروقی اس وقت بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔ ان سے چھوٹے بھائی جنید اکرم فاروقی علم عروض کے ماہر، شاعر، محقق اور نقاد ہیں اور صاحب قلم ایسے ہیں کہ اب تک مختلف موضوعات پر سترہ کتابیں تحریر کر چکے ہیں۔ ایک بھائی ڈاکٹرعبید اکرم فاروقی ہیں جو، راجھستان کے الور میں پوسٹ گریجویٹ گورنمنٹ کالج میں انگریزی کے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ ہیں۔ ایک بھائی ڈاکٹر اویس اکرم فاروقی ہیں جو دہلی میں clinical psychologist ہیں۔ نوئیڈا میں اپنا کلینک قائم کئے ہوئے ہیں۔

جاوید اکرم کی سب سے بڑی بہن الماس اکرم فاروقی ہاتھرس انٹر کالج کی پرنسپل ہیں۔ ان سے چھوٹی بہن دردانہ اکرم فاروقی امروہہ میں نفیس عباسی ڈگری کالج میں لائبریرین ہیں۔ ان سے چھوٹی بہن فرحانہ اکرم فاروقی دہلی میں بزنس میں مصروف ہیں۔ جاوید اکرم کی سب سے چھوٹی بہن اسنیٰ اکرم فاروقی امروہہ میں اپنا اسکول چلا رہی ہیں۔ اس خاندان کے بارے میں مختصر طور پر اگر یہ کہا جائے کہ 'ایں خانہ تمام آفتاب است' تو بجا ہوگا۔


جاوید اکرم فاروقی 1960 میں امروہہ میں پیدا ہوئے۔ امروہہ میں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ انگریزی، اردو اور تاریخ میں ایم۔ اے۔ کرچکے ہیں۔ وہ 1988 سے 2020 تک سینٹرل اسکول میں استاد رہے۔ ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد لکھنؤ میں قیام پذیر ہیں۔ گھر کے ادبی ماحول کا اثر جاوید اکرم نے بچپن میں ہی قبول کرلیا تھا۔ اور دیکھتے دیکھتے شعری ذوق پروان چڑھتا چلا گیا۔ اردو شاعری میں جاوید اکرم کی پسندیدہ صنف غزل ہے۔ لیکن انہوں نے نظمیں۔ دوہے قطعات بھی نظم کئے ہیں۔ قطعہ مستزاد کے تو خود موجد بھی ہیں۔ اردو کے اساتذہ میں جاوید اکر میر تقی میر کے شیدائی ہیں۔ غزل کے لہجے کا جہاں تک تعلق ہے تو جاوید اکرم جون ایلیا اور احمد فراز کے گرویدہ ہیں۔ میر تقی میر اور جون ایلیا کا مکالماتی انداز جاوید اکرم کے کلام میں جا بجا نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر ان کے یہ قطعات...

یوں جو چپ چاپ بیٹھی رہتی ہو

دل نہیں اوبتا تمہارا کیا

ترک کر دوگی مِلنا جُلنا اگر

گھٹ کے مر جاؤگی ہمارا کیا

......

بچھڑ کر خوش رہو ہم سے تو جاؤ

اکیلے پن میں آسائش بہت ہے

تعلق یاد آجائے تو آنا

ہمارے دل میں گنجائش بہت ہے


جاوید اکرم جون ایلیا سے اپنی پہلی ملاقات کو کبھی بھول نہیں سکتے۔ جون ایلیا سے یہ ملاقات دونوں کے وطن عزیز امروہہ میں ہوئی تھی۔ جون ایلیا نے ایک بے تکلف، نجی محفل میں جاوید اکرم کو پہلی بار سنا اور یہ اعلان کیا کہ امروہہ میں جاوید اکرم سے اچھا شعر کوئی نہیں کہتا۔ ایک شعر تو اتنی بار سنا کہ اس غزل کے اگلے شعر تک پہنچنے میں جاوید اکرم کو کم و بیش پانچ منٹ لگ گئے۔ وہ شعر یہ تھا...

ہواؤں کے سِوا کچھ بھی نہیں تھا

چراغوں کو ہُوا کچھ بھی نہیں تھا

جہاں تک کسی استاد شاعر کے سامنے زانوئے ادب طے کرنے کی بات ہے تو جاوید اکرم ایک مثال قائم کئے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے چھوٹے بھائی جنید اکرم فاروقی کی لیاقت، صلاحیت اور عروض کی مہارت سے مستفید ہوتے ہیں۔ جاوید اکرم اردو شعرو سخن کی دنیا میں شاید پہلے ایسے شاعر ہیں۔ جو اپنے چھوٹے بھائی سے مشورہ سخن کرتے ہیں۔ جاوید اکرم فاروقی کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ 'نیم تراشیدہ صنم'، 'ناریل کے درختوں کی پرچھائیاں'، 'کربِ انا'، 'دریا بہتا جاتا ہے'، 'بوۓ یاسمن' اور چھٹا شعری مجموعہ 'نشاط جاوداں' کے عنوان سے زیر ترتیب ہے۔ جاوید اکرم کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں کئی اعزازات سے نوازہ جاچکا ہے۔ اتر پردیش اور بہار کی اردو اکادمیاں انہیں ایوارڈ پیش کرچکی ہیں۔ انہیں 'بابا فرید ایوارڈ' اور 'سد بھاؤنا ایوارڈ' سے بھی سرفراز کیا جا چکا ہے۔ سابق مرکزی وزیر کپل سبل جاوید اکرم فاروقی کو 'کے وی ایس نیشنل ایوارڈ' سے نواز چکے ہیں۔

جاوید اکرم فاروقی کا سب سے زیادہ اہم ادبی کارنامہ مروجہ اصںاف سخن میں قطعہ مستزاد کا اضافہ ہے۔ ولی دکنی سے لیکر آج تک اردو شاعری میں قطعۂ مستزاد کی کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ عام طور سے رائج قطعات چار مصرعوں کے ہوتے ہیں۔ اکرم فاروقی نے اس میں پانچوے مصرع کا اضافہ کیا ہے اور اسے قطعٔہ مستزاد کا نام دیا ہے۔


ہئیت کے اعتبار سے مخمس اور قطعہ مستزاد یکساں نظر آتے ہیں۔ دونوں کے درمیان کیا فرق ہے اس سلسلے میں جاوید اکرم فاروقی کا کہنا ہے کہ قطعہ مستزاد مخمس سے بالکل مختلف ہے. مخمس پانچ مصرعوں والے بند کی نظم ہے. نظم مختصر یا طویل ہو سکتی ہے یعنی اس میں کئی بند ہوتے ہیں جبکہ قطعہ مستزاد محض اور محض پانچ مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے، دوسرا بڑا فرق مخمس اور قطعہ مستزاد میں یہ ہے کہ مخمس کے پہلے بند کے پانچوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں اور دیگر بندوں کے مصرعے کسی دوسرے قافیے پر ہم قافیہ ہوتے ہیں اور اس کا پانچواں مصرع پہلے بند کا ہم قافیہ ہوتا ہے. مثال کے طور پر علامہ اقبال کی نظم "روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے" مخمس ہے، اس کے ابتدائی دو بند ملاحظہ ہوں ...

کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ

مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

اس جلوۂ بے پردہ کو پردہ میں چھپا دیکھ

ایام جدائی کے ستم دیکھ جفا دیکھ!

بیتاب نہ ہو معرکۂ بیم و رجا دیکھ

......

ہیں تیرے تصور میں یہ بادل یہ گھٹائیں

یہ گنبد افلاک پہ خاموش فضائیں

یہ کوہ یہ صحرا یہ سمندر یہ فضائیں

تھیں پیش نظر کل تو فرشتوں کی ادائیں

آئینہ ایام میں آج اپنی ادا دیکھ

پہلا بند بطور مطلع ہے، ہر بند کا پانچواں مصرع پہلے بند کا ہم ردیف و ہم قافیہ ہے، لیکن قطعہ مستزاد میں قطعہ کی طرح اس کا دوسرا اور چوتھا مصرع ہم قافیہ ہوتا ہے یعنی اس میں مطلع نہیں ہوتا کبھی کبھی مطلع ہو بھی سکتا ہے، اس شکل میں بھی تیسرا مصرع ہم ردیف و ہم قافیہ نہیں ہوتا اور قطعہ مستزاد کا پانچواں مصرع دوسرے اور چوتھے مصرع کا ہم قافیہ ہوتا ہے۔ جاوید اکرم کے بقول پانچویں مصرع کی خوبی یہ ہونی چاہیے کہ وہ چاروں مصرعوں کا اٹوٹ حصہ معلوم ہو، الگ سے نہ لگے۔ مثال کے طور پر پیش ہیں ان کے یہ قطعات مستزاد...

ایک اک باب تم کو ازبر تھا

ایک اک باب بھول بیٹھی ہو

کون آیا گیا خبر ہی نہیں

سارے آداب بھول بیٹھی ہو

ربطِ شاداب بھول بیٹھی ہو

......

کس نے بھڑکا دیا ہے میرے خلاف

آگ کس کی ہے یہ لگائی ہوئی

کیا تمہیں میرا اعتبار نہیں

یوں جو بیٹھی ہو خار کھائی ہوئی

اتنے غصّے میں تمتمائی ہوئی


جاوید اکرم فاروقی کی شاعری کی زبان شستہ اور شیریں ہے۔ ان کے یہاں محاوروں کا بر محل استعمال ہے۔ لہجہ میں شائستگی اور متانت ہے پھکڑ پن نہیں ہے۔ ان کی شاعری دل و دماغ پر خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے۔ جاوید اکرم کے کچھ اشعار تو بہت زیادہ مقبول ہوئے۔

آسماں کے نہیں، زمیں کے سہی

تم بھی تو چاند ہو کہیں کے سہی

بس میں ہو میرے تو پوچھوں بھی نہیں

زندگی آئی ہے، آئی ہوگی

قہقہے مت نِچوڑنا جاوید

ورنہ آنسو ٹپک پڑیں گے ابھی

تمہیں اجالوں میں رہنے کا حَق کہاں سے مِلا

ہمیں سے پُوچھ رہے ہیں ہمارے گھر کے چراغ

شکست کھائے ذرا بھی تو پانی پانی ہو

میں چاہتا ہوں کہ دشمن بھی خاندانی ہو

میرا ہر دوست عدو ہے میرا

سب کو یہ دکھ ہے کہ تو ہے میرا

غزلیات

محفِل میں آگۓ ہو تو سَر دُھن کے جائیو

اے ناقدانِ شعر، غزل سُن کے جائیو

عُجلَت میں رہ گۓ تھے جو آدھے اَدھورے خواب

فُرصَت ملے تو خواب مرے بُن کے جائیو

کم ہوں تکلُفات تو کُھل کر ہو گُفتگو

کچھ کہنا چاہتا ہے یہ دِل، سُن کے جائیو

جاوید اپنے دِل میں نہ رکھیو کوئی گِلہ

جو کہنا چاہتے ہو، وہ کہہ سُن کے جائیو

......

مُسلسل اِک قَیامَت، ٹھیک ہے کیا؟

سِتم ڈھانے کے عَادت، ٹھیک ہے کیا؟

بِچھڑنا ہے تو پھر کیسا تکلّف؟

ہمیں سے یہ اِجازت، ٹھیک ہے کیا؟

ابھی تو آئی ہے فَصلِ بہاراں؟

بچھڑنے کی یہ سَاعت، ٹھیک ہے کیا؟

اَذیت ہے تمہارا رُوٹھ جانا؟

عَزیزِ جَاں، اَذیت، ٹھیک ہے کیا؟

......

تو کیا وہ وقت آ پہنچا، وہ ساعت آگئی ہے کیا؟

قرار جاں تھی جو صورت، وہ صورت آگئی ہے کیا؟

زمانہ تو ہمیشہ سے مخالف ہے محبت کا

زمانے کے خلاف اٹھنے کی ہمت آگئی ہے کیا؟

لہو رشتوں میں پانی کی روانی بڑھ گئی ہے اب

دلوں کے درمیاں اس درجہ نفرت آگئی ہے کیا؟

وہی غمخوار جو ہونے نہیں دیتی ہمیں اچھا

وہی غمخوار پھر بحر عیادت آگئی ہے کیا؟

......

پہلے برباد، پھر آباد تو ہوتی ہوگی

یہ محبّت بھی کبھی شاد تو ہوتی ہوگی

دل حَویلی میں کبھی کوئی ٹھہرتا ہوگا

یہ حَویلی کبھی آباد تو ہوتی ہوگی

دیکھ کر شاد مجھے ہجر کے موسم میں بھی

کچھ طبیعت تری ناشاد تو ہوتی ہوگی

......

خود کو دل سے اتارنے کے بعد

کیسا لگتا ہے، ہارنے کے بعد

ریزہ ریزہ بکھیرتا ہے مجھے

ریزہ ریزہ سنوارنے کے بعد

آج دل کھول کر ہنسا ہوں میں

سارے جذبوں کو مارنے کے بعد

رکھ گیا ہے بلندیاں مجھ میں

پستیوں میں اتارنے کے بعد

......

زندگی کچھ تجھے خَبر ہے مری

کس طرح اب گذر بَسر ہے مری

بزدلوں میں گِھرا ہوا ہوں میں

اس لئے پیٹھ پر نظر ہے مری

اب مری بات میں اثر ہی نہیں

اب تو ہر بات بے اثر ہے مری

دوھے

مڑ کر جو بھی دیکھ لے، پتھر کا ہو جائے

آدھا رستہ طے کرے، آدھے میں کھو جاۓ

الگ الگ چولھے ہوئے، کھڑی ہوئی دیوار

بیج سمندر ٹوٹ گئی، رشتوں کی پتوار

لہو لہو ہر آرزو، زخمی سارے خواب

دشمن میری پیٹھ پر، سینے پر احباب


جاوید اکرم فاروقی کا قلمی سفر بڑی آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ بقول جاوید اکرم 'میں اپنے اندرموجود شاعرکی ہمسفری میں اپنا شعری سفر طے کر رہا ہوں اور اُس شعر کی تلاش میں ہوں جو میری پہچان بنے اور ادب میں مجھے زندہ رکھے۔'

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔