مہاراشٹر: کھسکتی جائے ہے بی جے پی کی زمین آہستہ آہستہ!... اعظم شہاب

ریاست کے 6؍اضلاع میں ہونے والے بلدیاتی انتخاب میں بی جے پی کی ہزیمت اس بات کا ثبوت ہے کہ اب خود اس کی زمین بھی اس کے پیروں کے نیچے سے کھسک رہی ہے۔

بی جے پی کا جھنڈا، تصویر آئی اے این ایس
بی جے پی کا جھنڈا، تصویر آئی اے این ایس
user

اعظم شہاب

مہاراشٹر میں جس طرح بی جے پی کو پٹخنی پر پٹخنی مل رہی ہے اور جس طرح وہ اپنے ہی گھر میں غش کھا کھاکر گر رہی ہے اسے دیکھ کریہ اندازہ لگانا اب کچھ مشکل نہیں کہ آنے والے دنوں میں اسے وینٹی لیٹر پر جانے سے پردھان سیوک بھی نہیں روک سکتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پٹخنی اسے ایسی جگہوں سے بھی ملنے لگی ہے جہاں پر اس کا کاپی رائٹ سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ناگپور جہاں آر ایس ایس کا دفتر ہے اور مرکزی وزیر نتن گڈکری و سابق وزیراعلیٰ دیوندر فڈنویس کا جہاں سے تعلق ہے۔ گزشتہ سال ہونے والے گریجویٹ حلقہ اسمبلی کے انتخاب میں بھی یہاں سے بی جے پی کو منھ کی کھانی پڑی تھی جب 55 سال سے قابض وہ اپنی سیٹ کانگریس کے امیدوار سے ہار گئی تھی۔ اس بار ہونے والے ضلع پریشد کے ضمنی انتخاب میں بھی اس کو ہزیمت اٹھانی پڑی جب ناگپور کی 16؍سیٹوں میں سے وہ محض 3 سیٹیں ہی جیت پائی۔

دسمبر2020 میں ریاست میں 6 ؍اسمبلی حلقوں کے انتخاب ہوئے تھے ان میں دھولیہ کی 1، ناگپور کی 1، پونے کی 2، امراؤتی کی 1 ؍اور اورنگ آباد کی 1 سیٹ شامل تھی۔ ان میں سے بی جے پی کے حصے میں صرف دھولیہ کی سیٹ آئی تھی جہاں اس کے امیدوار امریش پٹیل نے مہاوکاس اگھاڑی کے امیدوار ابھی جیت پاٹل کو ہرایا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جیتنے والے امریش پٹیل بنیادی طور پر کانگریس کے ہی امیدوار تھے، لیکن کانگریس سے ٹکٹ نہ ملنے پر انہوں نے بی جے پی کا دامن تھام لیا۔ بی جے پی نے انہیں اپنا امیدوار بنایا اور انہوں نے کانگریس کے امیدوار کو شکست دے دی۔ یہاں پر ووٹنگ کے طریقہ کار پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امریش پٹیل کی کامیابی بی جے پی کے ووٹوں کی بدولت نہیں بلکہ مہاوکاس اگھاڑی کے لوگوں کی کراس ووٹنگ کے سبب ہوئی تھی۔ یہاں پر پٹیل کو کل 199؍ ووٹ ملے تھے،مہاوکاس اگھاڑی کے امیدوار کو 113 ؍ووٹ ملے جبکہ 115؍ووٹ کراس ہوئے تھے۔


دھولیہ کے علاوہ بی جے پی اور کہیں سے کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔ پونے کی سیٹ پر این سی پی کے امیدوار ارون لاڈ کامیاب ہوئے تھے۔ لطف کی بات یہ رہی اس سیٹ پر بی جے پی کے ریاستی صدر چندرکانت پاٹل کا 12؍سالوں تک قبضہ رہا اور ان کا یہاں پرخاصہ دبدبہ تسلیم کیا جاتا تھا۔ لیکن این سی پی کے امیدوار نے یہ سیٹ بی جے پی کے امیدوار سنگرام دیشمکھ سے 48 ہزار سے زائد ووٹوں سے جیت لی۔ لیکن اسے زیادہ ہزیمت بی جے پی کو ناگپورکی سیٹ پر اٹھانی پڑی تھی جس پر اس کا 55 سالوں سے قبضہ تھا۔ یعنی کہ بی جے پی کے قیام سے قبل سے ہی یہ سیٹ آر ایس ایس کے پاس تھی۔ لیکن یہاں پر کانگریس کے ابھیجیت ونجاری نے بی جے پی کو اس بری طرح پٹخنی دی کہ اسے دن میں تارے نظر آگئے۔ اس سیٹ پر بی جے پی کی ہار کی گونج دہلی تک سنائی دی تھی۔ کانگریس کے امیدوار ابھیجیت ونجاری نے یہ سیٹ بی جے پی کے امیدوار سندیپ جوشی سے 14؍ہزار سے زائد ووٹوں سے جیت لی تھی۔

6 دسمبر کو ریاست کے 6؍اضلاع کی 85 ضلع پریشد اور 144؍پنچایت سمیتیوں کے انتخاب ہوئے۔ منی منترالیہ قرار دیئے جانے والے اس انتخاب میں سہ رخی مقابلہ تھا۔ ایک جانب بی جے پی تھی، دوسری جانب مہاوکاس اگھاڑی اور تیسری جانب سے آزاد امیدوار۔ آزاد امیدواروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مخالف پارٹیوں کو ہرانے کے لیے ایک فیکٹر کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مقابلہ دورخی ہی تھا۔ لیکن معلوم یہ ہوا کہ اس انتخابی تکڑم بازی کے باوجود بی جے پی ضلع پریشد میں اپنا کمل نہیں کھلاسکی۔ گوکہ بی جے پی کے لوگ پرچارکرتے گھوم رہے ہیں کہ ضلع پریشد میں بی جے پی سب سے زیادہ سیٹیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے لیکن اگر مقابلے کی نوعیت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو مہاوکاس اگھاڑی دونوں انتخاب میں یعنی ضلع پریشد کی 85 سیٹوں اور پنچایت سمیتیوں کی 144؍سیٹوں میں سب سے زیادہ سیٹوں پر کامیاب ہوئی ہے۔


پھر بھی اگر پارٹی وائز کامیابی کو ہی عوامی مقبولیت کا پیمانہ قرار دیا جائے تو ضلع پریشد کی کل 85 سیٹوں میں سے بی جے پی 22، کانگریس 19،این سی پی 15، شیوسینا 12؍ اور دیگر17 سیٹوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔ ان میں اگر بی جے پی کو سب سے زیادہ سیٹیں حاصل ہوئی ہیں تو کانگریس کو بھی کچھ کم نہیں ملی ہیں۔ اس نے بھی 19؍سیٹیں حاصل کی ہیں یعنی بی جے پی سے محض3 سیٹیں کم۔ لیکن بی جے پی کے لوگ ریاست بھر میں کچھ یوں اپنی ڈفلی پیٹ رہے ہیں گویا انہوں نے اسمبلی پر قبضہ کرلیا ہے۔ بی جے پی اپنے اتحادیوں کے ساتھ تشکیل دینے والی تمام ریاستی حکومتوں کو اگر بی جے پی کی حکومت قرار دیتی ہے تو پھر مہاوکاس اگھاڑی کے اتحاد کی وہ کیوں منکر ہے جس نے مجموعی طور پر ضلع پریشد میں 46 سیٹیں حاصل کی ہیں؟ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ بی جے پی سب سے بڑی پارٹی ہونے کی جو بنیاد بتا رہی ہے وہ صرف عوام کو دھوکہ دینے کے لئے ہے۔

سب سے زیادہ ہزیمت تو بی جے پی کو ناگپورمیں اٹھانی پڑی ہے جہاں کی کل 16؍ضلع پریشد کی سیٹوں میں سے مہاوکاس اگھاڑی نے 11؍سیٹیں حاصل کی ہیں۔ ان میں سے اکیلے کانگریس کے حصے میں 9 سیٹیں آئی ہیں جبکہ این سی پی نے 2 حاصل کی ہیں۔ 2سیٹیں دیگر نے جیتی ہیں۔ بی جے پی کی ناگپور کی ان سیٹوں پر شکست اس لئے بھی نہایت اہم مانی جا رہی ہے کیونکہ ناگپور میونسپل کارپوریشن پر گزشتہ 15؍سالوں سے بی جے پی کا قبضہ ہے۔ گزشتہ دو بار سے نتن گڈکری یہاں سے پارلیمانی انتخاب جیت رہے ہیں۔ اس سے قبل جب بی جے پی و شیوسینا کے درمیان اتحاد تھا تو ان ضلع پریشدوں میں 2012 سے2017 کے درمیان بی جے پی اکثریت میں تھی۔ لیکن ایسا کیا ہوگیا کہ بی جے پی اپنی زمین سے ہی کھسکتی جا رہی ہے؟ تو اس کا جواب ریاست میں مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے تئیں عوامی اطمینان اور بی جے پی کی کمزور ہوتی تنظیمی قوت ہے۔


کانگریس نے اس انتخاب میں اپنے دو اہم لیڈران جو کابینی وزیر بھی ہیں، سنیل کیدار اور ڈاکٹر نتن راؤت کو پہلے ہی دن سے میدان میں اتار دیا تھا۔ کانگریس کے ریاستی صدر ناناپٹولے خود پوری انتخابی مہم پر نظریں جمائے ہوئے تھے۔ جبکہ دوسری جانب بی جے پی نے اپنے ایک ایسے لیڈر کو انتخابی مہم کی ذمہ داری سونپ رکھی تھی جسے گزشتہ اسمبلی میں خود اس نے ٹکٹ تک نہیں دیا تھا۔ بی جے پی کی انتخابی مہم کا بار چندرشیکھر باون کولے کے ناتواں کندھوں پر تھا جبکہ نتن گڈکری و دیوندرفڈنویس پوری مہم سے غائب رہے۔ اس ضمن میں مراٹھی کے ایک سینئر جرنلسٹ اشوک وانکھیڈے نے بی جے پی کی صورت حال کی نہایت بہتر عکاسی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی مہاراشٹر میں اپنے اندورنی جھگڑے کی وجہ سے کمزور ہو رہی ہے اور شیوسینا، این سی پی وکانگریس کے اتحاد نے اس کی مشکلوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ مہاوکاس اگھاڑی کا اتحاد ایک اسٹریجی کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں۔ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو آنے والے پارلیمانی الیکشن میں ریاست کی کل 48 سیٹوں میں سے بی جے پی کے لئے 8 سیٹیں جیتنا بھی مشکل ہوجائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔