گاندھی کی جینتی پر گوڈسے کی پوجا! ... اعظم شہاب

2 اکتوبر کو جب پورا ملک گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کر رہا تھا عین اسی وقت سوشل میڈیا پر گوڈسے کی پوجا کی ایک نئی تاریخ رقم کی جا رہی تھی۔

مہاتما گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
مہاتما گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
user

اعظم شہاب

بات صرف شخصی آزادی کی ہوتی تو کہا جا سکتا تھا کہ ہر شخص کو اپنی پسند و ناپسند ظاہر کرنے کا حق ہے اس لئے اگر کچھ لوگ ناتھورام گوڈسے کو حق بہ جانب قرار دیتے ہیں تو یہ ان کی اپنی سوچ ہوسکتی ہے۔ لیکن جب بات علانیہ طور پر ایک ایسے نظریے کی حمایت کی ہو، جسے آزاد ہندوستان میں دہشت گردی کے پہلی واردات کا محرک قرار دیا جاتا ہے، بات اس شخص کو حق بہ جانب قرار دینے کی ہو، جسے ملک کی عدالت نے پھانسی کی سزا دی تھی۔ جب کوشش اس نظریے اور اس کے حامل شخص کو ایک قومی ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی ہو جسے پوری دنیا ایک دہشت گرد کے طور پر جانتی ہے، تو شخصی آزادی اور پسند وناپسند کا جواز خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن مودی جی ہیں تو سب کچھ ممکن ہے اور جب سے مودی جی آئے ہیں اس وقت سے سب کچھ ممکن ہوتا جا رہا ہے، اس لئے اگر مہاتماگاندھی کی جینتی کے موقع پر سوشل میڈیا پر ناتھورام گوڈسے کی پوجا کی جاتی ہے تو کوئی حیرت نہیں ہونی چاہئے۔

دو اکتوبر کو جبکہ پورا ملک مہاتماگاندھی کی جینتی منا رہا تھا، سوشل میڈیا پرکچھ لوگ اپنی گندی ذہنیت کی گولی ایک بار پھر باپو کے سینے میں اتار رہے تھے۔ جس ٹوئٹر پر وزیراعظم مودی باپو کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ باپو کی زندگی اور ان کے اصول ملک کی ہر پیڑھی کو سچائی کے راستے پر چلنے کے لیے تحریک دیتے رہیں گے، اسی ٹوئٹر پر ’ناتھورام گوڈسے زندہ باد‘ اور ’ناتھورام گوڈسے‘ کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا تھا جس میں مہاتماگاندھی کی ایسی ایسی فرضی تصویریں پوسٹ کی جا رہی تھیں، ناتھورام گوڈسے کی حمایت میں ایسے ایسے جملے لکھے جا رہے تھے کہ سچائی ہی نہیں جھوٹ اور نفرت بھی شرمشار ہو جائے۔ اب جبکہ یہ سطریں قلمبند کی جا رہی ہیں (اتوار شام 7 بجے) تو ان دونوں ہیش ٹیگ کے تحت کئے جانے والے پوسٹس چار لاکھ سے تجاوز کرچکے ہیں۔ یہ ہیش ٹیگس عین مہاتماگاندھی کی جینتی کے موقع پر شروع کیے گیے یعنی اس کے ذریعے گاندھی کے نظریے کے بالمقابل گوڈسے کی مذموم سوچ کو کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی اور یہ کرنے والے یہ تک بھول گئے کہ ابھی چند روز قبل ہی ان کے آدرش پردھان منتری کو ہندوستان نہیں بلکہ امریکہ کی سرزمین پر گاندھی کے اصولوں کو اپنانے کی تلقین پلائی گئی ہے۔


سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ ہیش ٹیگس کیوں ٹرینڈ کرائے گئے اور وہ کون لوگ ہیں جو مذکورہ مہم کے تحت اپنے متعفن ذہنیت کی عکاسی کر رہے ہیں؟ تو اس کا جواب 2019 کے پارلیمانی انتخابات کے عین بعد ہی سامنے آگیا تھا جب بھوپال سے بی جے پی کی ایم پی اور مالیگاؤں بم دھماکہ کی اہم ملزمہ سادھوی پرگیہ سنگھ نے پارلیمنٹ میں ناتھورم گوڈسے کو ایک سچا محب وطن قرار دے کر اس کو خراجِ عقیدت پیش کیا تھا۔ اس وقت سادھوی کی اس حرکت پر پورے ملک میں خوب تنقید ہوئی تھی۔ اس وقت بی جے پی نے پرگیہ کے بیان کی مذمت کی تھی اور بی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے کہا تھا کہ ہم لوگ اس طرح کے ذہنیت کی حمایت نہیں کرتے۔ ہم نے انہیں دفاعی معاملے کی مشاورت کمیٹی سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے اور اسی کے ساتھ ہی پارلیمنٹ کے موجودہ سیشن میں انہیں پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ میں شریک ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ پردھان سیوک نے موصوفہ کو کبھی دل سے معاف نہیں کرنے کا اعلان فرمایا تھا۔ لیکن اس واقعے کے بعد ہی یہ محسوس کیا جانے لگا تھا 30 جنوری 1948 کوجس ناتھورام گوڈسے نے باپو کے سینے میں گولیاں اتاری تھیں اب وہ دوبارہ زندہ ہوجائے گا اور اس کو آکسیجن وہی پارٹی فراہم کرے گی جو آج پرگیہ کے بیان کی مذمت کرتے نہیں تھک رہی ہے۔

اور پھر وہی ہوا۔ محض دو سال کے اندر اس ملک میں ناتھورام گوڈسے کے چاہنے والوں اور اسے قومی ہیرو قرار دینے والوں کی فصل میں نہ صرف تیزی سے اضافہ ہوا بلکہ اس فصل کی کاشت کرنے والے بھی آج بڑی تعداد میں وجود میں آگئے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر گوڈسے کی تعریف کرنے اور مہاتما گاندھی کی تضحیک کرنے والوں کی شخصی آزادی کے حق کی آڑ میں مدافعت کی جا رہی ہے۔ 2019 میں بی جے پی نے پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے گوڈسے کی حمایت میں دیئے گئے بیان سے خود کو علاحدہ کرلیا تھا اور نڈا سے لے کر راج ناتھ سنگھ تک اور شیوراج سے لے کر پردھان سیوک نے سب نے اس کی مذمت کی تھی، لیکن دو سال بعد جب سوشل میڈیا پر ایک بار پھر مہاتماگاندھی کے سینے میں گوڈسے کی نفرت کی گولی اتاری جا رہی تھی، ہرطرف سناٹا پسرا ہوا ہے۔ یہ اس لئے کہ اسی طرح کی مہم کے ذریعے اترپردیش کو جیتنے کا ہدف تیار کیا گیا ہے۔


سچائی یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والوں اور گوڈسے کو اپنا آئیڈیل قرار دینے والوں کی بی جے پی کو اشد ضرورت ہے۔ اگر نفرت کی یہ مہم نہ چلائی گئی اور ملک کے لوگوں کو گاندھی و گوڈسے کے درمیان تقسیم نہ کیا گیا تو اترپردیش تو ہاتھ سے جائے گا ہی 2024 میں بھی مشکل ہو جائے گی۔ اس لئے اگر سوشل میڈیا گوڈسے زندہ باد کے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرائے جا رہے ہیں تو پرم ہنس جیسے لوگ ہندو راشٹر کے مطالبے کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ سب ایک منصوبہ بند طریقے سے ہو رہا ہے اور جس کے سیاسی مقصد سے ملک کا ہرشہری واقف ہے۔ گوڈسے کو اپنا آئیڈیل قرار دینے والے دراصل زبردست احساسِ کمتری کے شکار ہیں۔ ان کی پوری تاریخ ملک سے غداری اور مجاہدینِ آزادی کی جاسوسی سے داغدار ہے اور اسی داغ کو مٹانے کے لئے وہ گوڈسے کی دہشت گردی کا جواز تلاش کر رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔