ڈنکا بجوانے سے لنکا لگوانے تک... اعظم شہاب

وہی امریکہ جہاں مودی جی اپنی مقبولیت کا ڈنکا بجوایا کرتے تھے، اس مرتبہ اسی امریکہ میں صورتحال بالکل مختلف نظر آئی۔

نریندر مودی، تصویر یو این آئی
نریندر مودی، تصویر یو این آئی
user

اعظم شہاب

امریکہ کے تین روزہ دورے سے واپسی پر دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پردھان سیوک کا جس طرح استقبال کیا گیا اسے دیکھ کر ایسا لگا گویا موصوف کسی غیرملکی دورے سے نہیں بلکہ کسی بہت بڑے معرکے سے جان بچاکر واپس آئے ہیں۔ وہی ہوا میں ہاتھ ہلا ہلاکر لوگوں کا شکریہ ادا کرنا، ہرشخص کے سامنے ہاتھ جوڑنا لینا، گلدستے قبول کرنا اور پھر ساتھ چلنے والے کسی شخص کے حوالے کر دینا، ڈھول، تاشے ونگاڑوں کا بجنا، ملک کے مختلف حصوں سے بلائے گئے فنکاروں کے فنوں کے مظاہرے وغیرہ جیسے مناظر قومی میڈیا پر کل دن بھر چھائے رہے۔ چونکہ موصوف جہاں کھڑے ہوجاتے ہیں لائن وہیں سے شروع ہوجاتی ہے اس لئے اگر استقبال کی اس چکاچوند کو دیکھ کر کوئی انتخابی جلسہ یاد آجائے تو اس میں دیکھنے والوں کا کوئی قصور نہیں ہونا چاہئے۔ ایئرپورٹ پر بی جے پی کے صدر جے پی نڈا بہ نفسِ نفیس موجود رہے جبکہ قاعدے کے مطابق وزیر داخلہ کو آنا چاہئے تھا۔ لیکن ہمارے ملک کے وزیر داخلہ چونکہ آج کل اپنی پارٹی کے داخلی امور میں کچھ زیادہ ہی مصروف ہوگئے ہیں اس لئے ان کے نہ پہنچ پانے پر کوئی حیرت نہیں ہونی چاہئے۔

ہمیں موصوف کی وطن واپسی سے زیادہ ان کی جلد واپسی کی خوشی ہے وگرنہ اگر وہ دوچار روز مزید امریکہ میں رک گئے ہوتے تو نصیحتوں اور ڈانٹ ڈپٹ کی مزید نہ جانے کتنی اور ویڈیوز وائرل ہوجاتیں۔ بہرحال اب جبکہ موصوف بخیر وعافیت واپس آگئے ہیں تو ہم ان کے دورے پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔ مودی جی کا یہ امریکہ دورہ گوکہ یو این کی جنرل اسمبلی کی میٹنگ میں شرکت کے لئے تھی لیکن اس موقع پر انہوں نے کواڈ لیڈروں کی میٹنگ میں بھی شرکت کی جو 24ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں منعقد کی گئی تھی۔ اس میٹنگ کی میزبانی امریکی صدر جو بائیڈن نے کی تھی جس میں جاپان کے وزیراعظم یوشیہدے سُگا اور آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکاٹ ماریسن نے شرکت کی۔ اس سے پہلے مارچ میں بھی ایک بار کواڈ سمٹ کی میٹنگ ہوئی تھی جس میں مودی جی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کیا تھا۔ جس طرح اس میٹنگ میں چین، سمندری راستے، سیکورٹی، ماحولیات و ٹیکنالوجی کی آپسی تقسیم پر بات چیت ہوئی اسی طرح گزشتہ میٹنگ میں بھی ہوئی تھی لیکن بدقسمتی سے آج تک اس کے کوئی نتائج سامنے نہیں آسکے۔


مودی جی کے یو این کے جنرل اسمبلی میں خطاب سے ایسا لگا کہ مودی جی نے یو این کے اس اجلاس کو بھی بنگال یا بہار کا کوئی انتخابی جلسہ سمجھ لیا تھا۔ کیونکہ اس اجلاس میں بھی انہوں نے اپنی حکومت کی حصولیابیاں ہی گنواتے رہے۔ بین الاقوامی پلیٹ فارم پر مودی جی کی حکومت کی حصولیابی سے بھلا کسی ملک کو کیا سرورکار ہوسکتا ہے لیکن پتہ نہیں کیوں وہ ہرجگہ اپنے چائے بیچنے اور حکومتی اسکیموں کا ذکر چھیڑ دیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے پردھان سیوک جی سمجھ ہی نہیں پاتے ہیں کہ بین الاقوامی پلیٹ فارم پر کیا موضوعات اٹھانے ہیں اور کیا نہیں۔ مودی جی خیر مصروف شخص ہیں، 18-18 گھنٹے کام کرتے ہیں اس لئے بہت ممکن ہے کہ انہیں بین الاقوامی موضوعات پر غور کرنے کا وقت نہ ملا ہو، لیکن ان کے جو مشیرین ہیں انہیں تو کم ازکم اس بات کا لحاظ رکھنا چاہئے کہ ہر بار ایک ہی بانسری اور ایک ہی دھن ہمیشہ کارگر نہیں ہوتی۔ المیہ یہ ہے کہ مودی جی نے اپنی خارجہ و دفاعی پالیسی کو اپنے ووٹ بینک کی سیاست کا حصہ بنا دیا ہے اوہ وہ چاہتے ہیں کہ ٹرمپ کی مانند جوبائیڈن بھی ان کے نظریات کی حمایت کریں اورانہیں عظیم ملک کا عظیم لیڈر قرار دے دیں۔

مودی جی کا یہ امریکہ کا پہلا دورہ نہیں تھا۔ 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ان کا امریکہ کا یہ چھٹا دورہ تھا۔ اس بار کے دورے سے قبل 2019 کے دورے میں انہوں نے ہوسٹن میں ’ہاؤڈی مودی‘ کا پروگرام کیا جس میں ٹرمپ کے علاوہ کئی امریکی ممبرانِ پارلیمنٹ، سنیٹرس وگورنرس نے شرکت کی تھی۔ اس وقت ایک جانب مودی جی ٹرمپ کی تعریفوں کے پل باندھتے تھے تو دوسری طرف ٹرمپ بھی جگل بندی کرتے ہوئے مودی جی کو بڑے ملک کا بڑا لیڈر قرار دیتے تھے۔ اس موقع پر مودی کے امریکہ دورے کا امریکی میڈیا میں خوب چرچا تھا یہاں تک کہ کچھ اخبارات نے تو مودی کا انڈیا کا ٹرمپ تک کہہ دیا تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو سے لے کر راجیو گاندھی تک اور نرسمہا راؤ سے لے کر منموہن سنگھ تک سب نے وقتاً فوقتاً امریکہ کا دورہ کیا، ان کی بھرپور پذیرائی بھی ہوئی اور ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے قیام اور استحکام میں مدد ملی، لیکن جتنا شور شرابہ اور دھوم دھام نریندرمودی کے امریکی دوروں کے موقع پر دیکھنے میں آیا تھا، اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ اسی موقع پر مودی جی نے’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘ کا نعرہ دیا تھا جس کی کڑواہٹ آج تک ختم نہیں ہوسکی ہے۔


لیکن اس بار مودی جی جب امریکہ گئے تو صورت حال یکسر تبدیل ہوچکی تھی۔ 23ستمبر کی شام 6 بجے جب ان کا ہوائی جہاز واشنگٹن ڈی سی ایئرپورٹ پراترا تو دیکھا یہ گیا کہ خود مودی جی اپنی چھتری تانے ہوئے ہوائی جہاز سے باہر آرہے ہیں۔ ائیرپورٹ تو خیر وائٹ ہاؤس سے دور ہے اس لئے بہت ممکن ہے کہ جوبائیڈن نہ پہنچ سکے ہوں لیکن جب مودی جی وہائٹ ہاؤس پہنچے تو بھی بائیڈن دروازے پر انہیں لینے نہیں آئے۔ امریکہ کی نائب صدر کملاہیرس نے ملاقات کے دوران مودی جی کو جمہوریت کا سبق پڑھاکر اگر ان کو آئینہ دکھایا تو صدر جوبائیڈن نے گاندھی جی کے ضبط وعدم تشدد کے نظریات کو اپنانے کی تلقین کرکے رہی سہی کسر نکال دی۔ جس امریکی میڈیا میں کئی کئی دنوں تک مودی کا دورۂ امریکہ چھایا رہتا تھا اس بار وہاں بھی بالکل سناٹا چھایا رہا۔ اگر کسی اخبار نے کچھ لکھا بھی تو کملاہیریس کے جمہوری قدروں کی تلقین اور ہندوستان یعنی کہ مودی حکومت میں حقوقِ انسانی کی پامالی کو موضوع بنایا۔

امریکی صدر ونائب صدر نے پردھان سیوک کو چونکہ اندرونِ خانہ نصیحت کی تھی اس لئے بہت ممکن تھا کہ اسے دوممالک کے سربراہان کی آپسی بات چیت اور امریکہ کی جمہوری قدروں کی پاسداری کی تلقین کی عادت قرار دے کر خاموشی اختیار کرلی جاتی لیکن ہمارے قومی میڈیا نے مزید بے عزتی کا سامان کروا دیا۔ ہوا یوں کہ اپنے دورے کی تشہیر کے لیے مودی جی اپنے جن لاڈلے میڈیا والوں کوساتھ لے گئے تھے انہوں نے وہاں پر مودی جی کے دورے سے پائے جانے والے جوش وخروش کی تلاش کرنا شروع کردیا۔ ان میڈیا والوں کے سامنے مودی جی کا 2019 کا دورہ تھا کہ اس بار بھی لوگ کیمرے کے سامنے آکر مودی مودی جی کا نعرہ لگائیں گے۔ لیکن جو کچھ نظرآ یا وہ سب دیکھ کرمشیت پر یقین مزید گہرا ہوجاتا ہے کہ وہی امریکہ جہاں ایک وقت میں مودی جی ڈنکا بجایا کرتے تھے آج وہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔