پرینکا گاندھی کی مقبولیت سے حکومت اتنی خائف کیوں ہے؟... سہیل انجم

شاید حکومت کو ایسا لگنے لگا کہ پرینکا گاندھی اندرا گاندھی کی مانند ایک بڑی سیاسی قوت بنتی جا رہی ہیں اور اگر انھیں نہیں روکا گیا تو وہ حکومت کے لیے بہت بڑی مصیبت بن سکتی ہیں۔

پرینکا گاندھی، تصویر ٹوئٹر INC India
پرینکا گاندھی، تصویر ٹوئٹر INC India
user

سہیل انجم

لکھیم پور کھیری میں کسانوں کے ایک پر امن احتجاج کے دوران گاڑیوں سے روند کر کسانوں کی ہلاکت کے واقعہ نے مرکز اور اترپردیش کی موجودہ حکومتوں کی رعونت اور تکبر کی ایک اور داستان رقم کر دی ہے۔ رعونت کی یہ داستان صرف کسانوں کو کچل کر مارنے تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ اس کے بعد مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کے اس بیان نے کہ یہ لوگ کسان نہیں دہشت گرد تھے اور پھر قانون کو ٹھینگا دکھاتے ہوئے وزیر کے بیٹے کی قانون کے سامنے پیش نہ ہونے کی کارروائی نے اس رعونت کو مزید گہرا کر دیا۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت کے اشارے پر وزیر کے بیٹے آشیش مشرا کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنا بھی حکومت کے غرور و تکبر کی داستان بیان کرتا ہے۔

لیکن ہندوستان میں جہاں ایک طرف جمہوریت کو ختم کرکے آمریت قائم کرنے کی کوشش کامیاب ہوتی جا رہی ہے وہیں ملک کی عدالتیں کسی حد تک جمہوریت کے تحفظ اور آئین و قانون کی پاسداری کا فرض ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ لہٰذا جب ریاستی حکومت کی جانب سے قتل کا مقدمہ درج ہونے کے باوجود آشیش مشرا کو گرفتار نہیں کیا گیا اور اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ گمراہ کن بیانات دینے اور اس کا اعتراف کرنے کے باوجود کہ جس گاڑی سے کسان کچلے گئے وہ ان کی ہی تھی، اجے مشرا کو کابینہ سے برطرف نہیں کیا گیا تو پھر عدالت عظمیٰ نے از خود کارروائی کی اور ریاستی حکومت سے سخت سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ وہ کیا کر رہی ہے اور ملزموں کی گرفتاری کیوں نہیں ہو رہی ہے۔


چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا نے اس معاملے کی سماعت کے لیے ایک تین رکنی بینچ بنا دی اور حکومت کو ہدایت دی کہ وہ کارروائی کی اسٹیٹس رپورٹ پیش کرے۔ چیف جسٹس کی جانب سے ریاستی حکومت کی سرزنش کے بعد جا کر بڑی مشکل سے آشیش مشرا کو جانچ کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا اور اسے گرفتار کیا گیا۔ اس معاملے میں پولیس اور انتظامیہ کا رویہ بہت واضح طور پر اجے مشرا اور آشیش مشرا کی پشت پناہی والا رہا ہے جس کی ہر چہار جانب سے مذمت کی گئی اور اب بھی کی جا رہی ہے۔

جب کسانوں کو کچل کر انتہائی بے دردی کے ساتھ ہلاک کر دیا گیا اور حکومت و پولیس انتظامیہ کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں اور بالخصوص کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے لکھیم پور جانے اور متاثرہ خاندانوں سے ملنے کا اعلان کیا۔ بلکہ ہوا یوں کہ پرینکا گاندھی یو پی ہی میں تھیں اور وہ رات ہی میں لکھیم پور کے لیے روانہ ہو گئیں۔ لیکن پولیس نے ان کو جانے سے روکنے کی کوشش کی۔ انھوں نے یکے بعد دیگرے کئی گاڑیاں بدلیں اور پولیس سے بچتے ہوئے کافی آگے تک چلی گئیں۔ اس دوران پولیس کی جانب سے ان کے ساتھ دھکا مکی بھی کی گئی اور جبریہ طور پر روکنے کی کوشش کی گئی۔ انھوں نے پولیس سے پوچھا کہ آخر ان کو کس دفعہ کے تحت اور کس جرم میں روکا جا رہا ہے۔


پولیس نے ان کے سخت سوالوں کے جواب میں کہا کہ لکھیم پور کھیری میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ حالانکہ پرینکا گاندھی کا کہنا ہے کہ ان کی اطلاع کے مطابق وہاں اس وقت دفعہ 144 نافذ نہیں تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر دفعہ 144 نافذ بھی ہو تب بھی انھیں جانے کی اجازت ملنی چاہیے۔ کیونکہ صرف چار افراد کے ساتھ اور ایک ہی گاڑی میں جا رہی ہیں۔ ان کے ساتھ سیکورٹی بھی نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی انھیں جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور کئی گھنٹے کی مشقت کے بعد انھیں پہلے حراست میں لیا گیا اور پھر گرفتار کر لیا گیا۔ انھیں سیتا پور میں پی اے سی کے ایک گیسٹ ہاؤس میں بند کر دیا گیا۔

حالانکہ ان کے علاوہ کسی اور اپوزیشن لیڈر کو گرفتار نہیں کیا گیا صرف حراست میں لیا گیا۔ لیکن پولیس کی بددیانتی دیکھیے کہ پرینکا گاندھی کو نہ تو کوئی نوٹس دکھایا گیا نہ کسی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا اور نہ ہی کسی قسم کی قانونی کارروائی کی گئی۔ وہ کہیں وہاں سے نکل نہ جائیں اس لیے وہاں پر پولیس کا زبردست پہرہ بٹھا دیا گیا۔ اس دوران پرینکا گاندھی کی ایک تصویر وائرل ہوئی جس میں انھیں کمرے میں جھاڑو لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔ دراصل انھوں نے پولیس کی اس کارروائی کے خلاف بطور احتجاج جھاڑو لگائی۔ یہ گاندھی جی کے ستیہ گرہ کی مانند ایک ستیہ گرہ تھا تاکہ حکومت و پولیس انتظامیہ کی جانبداری کو واضح کیا جا سکے۔


موجودہ مرکزی حکومت اور اس کے ساتھ ساتھ یو پی کی ریاستی حکومت کی بھی یہ کوشش ہے کہ کانگریس پارٹی اپوزیشن پارٹی ہونے کا اپنا کردار ادا نہ کر سکے۔ ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ کانگریس ختم ہو رہی ہے اور دوسری طرف اسے کسی عوامی سرگرمی میں حصہ لینے سے روکنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔ پرینکا گاندھی کو جس طرح روکا گیا اور انھیں گیسٹ ہاؤس میں بند کر دیا گیا اور دو روز تک نہیں نکلنے دیا گیا اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت ان کی مقبولیت سے بہت زیادہ خوف زدہ ہو گئی ہے۔ حالانکہ پرینکا گاندھی نے یہی کہا تھا کہ وہ تو متاثرہ خاندان سے ملنے اور ان کے آنسو پونچھنے جا رہی ہیں۔ لیکن حکومت یہ بھی نہیں چاہتی کہ کانگریس کا کوئی لیڈر ایسے لوگوں سے ملے جن کے ساتھ ظلم ہوا ہو زیادتی کی گئی ہو اور جن کے انسانی حقوق پامال کیے گئے ہوں۔

دو روز تک پرینکا گاندھی کو بند رکھنا بعض قانونی ماہرین کے نزدیک حبس بیجا کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر واقعی یہ کارروائی حبس بیجا کے زمرے میں آتی ہے تو پھر حکومت اور پولیس کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے عدالت عظمیٰ سے رجوع ہونا چاہیے۔ بہرحال یہ ایک قانونی معاملہ ہے اور اس سلسلے میں وہی بہتر انداز میں بتا سکتے ہیں۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں پرینکا گاندھی کی مقبولیت سے حکومت ڈر گئی ہے۔ جس طرح سیتا پور کے گیسٹ ہاؤس کے باہر کانگریس کے کارکنوں کی بھیڑ جمع ہو گئی وہ اپنے آپ میں ایک انوکھا واقعہ تھا۔


شاید حکومت کو ایسا لگنے لگا کہ پرینکا گاندھی اندرا گاندھی کی مانند ایک بڑی سیاسی قوت بنتی جا رہی ہیں اور اگر انھیں نہیں روکا گیا تو وہ حکومت کے لیے بہت بڑی مصیبت بن سکتی ہیں۔ اس لیے ان کو لکھیم پور جانے سے روکنے کے لیے ہر حربہ اختیار کیا گیا۔ اسی دوران جب راہل گاندھی نے اعلان کیا کہ وہ لکھیم پور جائیں گے تو ان کے جانے پر بھی پابندی عاید کر دی گئی۔ لیکن وہ چھتیس گڑھ اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ لکھنؤ جانے کے لیے بذریعہ طیارہ روانہ ہو گئے۔ جب وہ لکھنؤ ایئرپورٹ پر پہنچے تو وہاں انھیں روک لیا گیا اور یہ کہا جانے لگا کہ انھیں پولیس کی گاڑی میں جانا ہوگا اس پر راہل گاندھی نے احتجاج کیا اور کہا کہ وہ ہمیشہ اپنی گاڑی سے چلتے ہیں یہاں سے بھی وہ اپنی گاڑی سے جائیں گے۔ ان کو شک تھا کہ پولیس اپنی گاڑی میں بٹھا کر انھیں کہیں اور لے جا سکتی ہے۔

تقریباً نصف گھنٹے تک پولیس نے ان کو روکے رکھا۔ راہل گاندھی وہیں ایئرپورٹ پر بیٹھ گئے۔ بالآخر پولیس نے ان کی بات مان لی اور انھیں اپنی گاڑی میں جانے کی اجازت دے دی۔ راہل گاندھی وہاں سے سیدھے سیتا پور گئے جہاں تقریباً دو گھنٹے تک وہ اس گیسٹ ہاؤس میں رہے جس میں ان کی بہن پرینکا گاندھی کو رکھا گیا تھا۔ جس وقت وہاں راہل گاندھی پہنچے ہیں تو عوام کی بھیڑ میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا۔ لوگ پرینکا اور راہل کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب تھے۔ یہاں تک کہ جب وہ دونوں وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے تو انھیں نکلنے کا موقع نہیں ملا۔ گیٹ پر عوام اور کانگریسی کارکنوں کا زبردست اژدہام تھا۔ بالآخر دونوں پھر اندر چلے گئے اور بعد میں پچھلے دروازے سے نکل کر لکھیم پور کے لیے روانہ ہوئے۔


گیسٹ ہاؤس کے آس پاس عوام کا اژدہام دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے پولیس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور یہی وجہ ہے کہ انھیں پچھلے دروازے سے نکالا گیا۔ دونوں رہنما ہلاک ہونے والے کسانوں کے اہل خانہ سے ملے اور ان کو دلاسہ دلایا اور کہا کہ اگر موجودہ حکومت اور اس کی پولیس ان کے ساتھ نہیں ہے تو کوئی بات نہیں ہم لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔ اس طرح اس پورے معاملے کا ایک باب ختم ہوا۔

اس دوران حکومت اور پولیس کی جانب سے پرینکا گاندھی کو روکنے کی جس بڑے پیمانے پر کوشش کی گئی اور جس طرح انھیں گرفتار کرکے ایک گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ حکومت پرینکا اور راہل گاندھی کی بڑھتی مقبولیت سے خائف ہو گئی ہے۔ لہٰذا وہ انھیں کسی بھی ایسی جگہ جانے اور متاثرین سے ملنے سے روکنے کی کوشش کرتی ہے جس سے ان کی مقبولیت میں اور اضافہ ہو اور ان کے حامیوں کی تعداد اور بڑھے۔ لیکن حکومت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اس قسم کی کارروائیاں عوامی جذبات کے طوفان پر بند نہیں باندھ سکتیں اور جب طوفان آنا ہوتا ہے تو آکر رہتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔