حکومت سوشل میڈیا سے خوفزدہ، پابندی کا خطرہ... سہیل انجم

میڈیا کو زوال کے ایسے گہرے گڈھے میں پہنچا دیا ہے جہاں سے بآسانی نکل پانا اس کے لیے اب آسان نہیں ہوگا۔ اگر یہ کہا جائے کہ موجودہ میڈیا حکومت کا غلام بن گیا ہے تو بیجا نہ ہوگا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سہیل انجم

ایک دور تھا جب ہندوستان کے میڈیا کو پوری دنیا میں وقار اور اعتبار حاصل تھا۔ اخباروں میں کسی خبر کی اشاعت یا نیوز چینلوں پر کسی خبر کے نشریے پر پوری دنیا اعتبار کرتی تھی۔ لیکن گزشتہ چھ ساڑھے چھ برسوں میں ہندوستانی میڈیا اور بالخصوص الیکٹرانک میڈیا حکومت کے سامنے سجدہ ریز ہو گیا ہے اور اس نے حکومت کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کو ہی صحافت سمجھ لیا ہے۔ اس صورت حال نے میڈیا کو زوال کے ایسے گہرے گڈھے میں پہنچا دیا ہے جہاں سے بآسانی نکل پانا اس کے لیے اب آسان نہیں ہوگا۔ اگر یہ کہا جائے کہ موجودہ میڈیا حکومت کا غلام بن گیا ہے تو بیجا نہ ہوگا۔

اس صورت حال نے ملک کے ہر سنجیدہ شخص کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سنسنی خیزی نے تہذیب و شائستگی کے دامن کو تار تار کر دیا ہے اور اب میڈیا کسی کی بھی دستار اچھالنے میں کوئی گریز نہیں کرتا۔ اسے اس کی قطعاً پروا نہیں کہ اس کے اس رویے سے خاندان کے خاندان بدنام ہو جاتے ہیں اور لوگوں کی پیشانی پر ایسا داغ لگ جاتا ہے جو جلد مندمل نہیں ہوتا۔ اس صورت حال نے ملک کی عدالت عظمیٰ یعنی سپریم کورٹ کو بھی پریشان کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے الیکٹرانک میڈیا کو نظم و ضبط کا پابند بنانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی بات کہی ہے۔

اس وقت سپریم کورٹ میں سدرشن نامی ایک نیوز چینل کے ایک انتہائی خرافاتی پروگرام ”یو پی ایس سی جہاد“ کے خلاف سماعت چل رہی ہے۔ ممکن ہے کہ قارئین جب اس مضمون کو پڑھیں تو اس وقت تک سماعت کا یہ سلسلہ مکمل ہو چکا ہو۔ لیکن سماعت کے دوران جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس ایم کے جوزف اور جسٹس اندو ملہوترہ کی بنچ نے میڈیا کے بارے میں جو تبصرے کیے ہیں اور سیلف ریگولیشن باڈیز کے بارے میں جو رائے ظاہر کی ہے وہ عدالت عظمیٰ کی تشویش کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ میڈیا کو اس کی آزادی نہیں دی جا سکتی کہ وہ تفتیشی صحافت کے نام پر کسی ایک فرقے کو بدنام کرے۔

بنچ نے پریس کونسل، وزارت اطلاعات و نشریات اور نیشنل براڈ کاسٹنگ ایسو سی ایشن (این بی اے) کو بری طرح لتاڑا۔ اس نے کہا کہ این بی اے کا واضح طور پر کہنا ہے کہ سدرشن ٹی وی اس کا ممبر نہیں ہے اس لیے وہ اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ عدالت نے کہا کہ این بی اے کا کہنا ہے کہ اس کے پاس سابق جج کے زیر سربراہی ایک کمیٹی ہے اور وہ کسی بھی چینل پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ کر سکتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ این بی اے کے پاس اختیارات نہیں ہیں۔ وہ صرف اپنے ممبران کے لیے ہی ہے۔ سدرشن چینل اس کا ممبر نہیں ہے۔ آپ کیسے خود کو نظم و ضبط کا پابند بنا سکتے ہیں جب تمام چینل آپ کے ممبر ہی نہیں ہیں۔

عدالت نے نیوز چینلوں پر ہونے والی بحثوں پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ اکثر اوقات صرف اینکر ہی بولتا رہتا ہے۔ دوسرے لوگوں کو بولنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ان کی آواز بند کر دی جاتی ہے۔ عدالت نے این بی اے کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل سے پوچھا کہ کیا آپ ٹی وی دیکھتے ہیں۔ اس نے کہا جی مائی لارڈ۔ اس پر بنچ نے کہا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اس کو کنٹرول کرنے کے اہل ہیں۔ عدالت نے وزارت اطلاعات و نشریات اور دوسروں کو بھی نوٹس جاری کیا۔

نوٹس کے جواب میں مرکزی حکومت نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا کو نظم و ضبط کا پابند بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے پاس اس سلسلے میں ضوابط ہیں اور وہ خود کو نظم و ضبط کا پابند بناتا ہے۔ ڈیجٹل میڈیا (یا سوشل میڈیا) کو نظم و ضبط کا پابند بنانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ واٹس ایپ، ٹوئٹر اور فیس بک جیسے پلیٹ فارموں سے اطلاعات تیزی سے دوسروں تک پہنچ جاتی ہیں اور وائرل ہو جاتی ہیں۔ حکومت نے اپنے حلف نامے میں الیکٹرانک میڈیا کے سلسلے میں عدالت کے تبصرے کے برعکس اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ وہ نہیں چاہتی کہ الیکٹرانک میڈیا کے سلسلے میں کوئی ضابطہ بنایا جائے۔

اس کی وجہ بہت صاف ہے۔ چند کو چھوڑ کر بیشتر چینل حکومت کی خوشامد میں لگے رہتے ہیں اور اس کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔ یہ چینل حکومت سے کوئی سوال پوچھنے کے بجائے اپوزیشن سے ہی سوالات کرتے ہیں اور ملکی مسائل کے سلسلے میں اسے ویلن بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکومت کی پالیسیوں کی حمایت کرتے وقت انھیں نہ سچائی دیکھائی دیتی ہے اور نہ ہی وہ حقائق سے آنکھیں چار کرنا چاہتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جس طرح سنسنی خیزی کو بڑھاوا دیا گیا اور دیا جا رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ سوشانت سنگھ کی خود کشی کے واقعہ کو جس طرح تین ماہ سے اچھالا جا رہا ہے اور اس کی آڑ میں حکومت کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے میں حکومت یہ کیوں چاہے گی کہ الیکٹرانک میڈیا کی ناک میں نکیل ڈالی جائے۔ وہ تو یہی چاہتی ہے کہ وہ شتر بے مہار کی مانند دندناتا پھرے اور اپوزیشن کو نشانہ بناتا رہے۔

جبکہ سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو حکومت کی خوشامد نہیں کرتا۔ جو اس کے ایجنڈے کو آگے نہیں بڑھاتا۔ جو اس سے اشتہارات کے حصول کی لالچ میں صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح نہیں کہتا۔ ہاں فیس بک کی جانبداری گزشتہ دنوں ضرور اجاگر ہوئی اور اس کی جانب سے بی جے پی کے رہنماؤں کے نفرت انگیز بیانات کے تئیں نرمی سامنے آئی۔ لیکن باقی دوسرے پلیٹ فارموں پر جس طرح حکومت کی غلط پالیسیوں اور فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اس سے حکومت پریشان رہتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ڈجٹل میڈیا کے دباؤ کی وجہ سے حکومت کو اپنے کئی فیصلوں میں ترمیم کرنی پڑی ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ الیکٹرانک میڈیا جو جھوٹ پھیلاتا ہے سوشل میڈیا اس کو بے نقاب کرنے کا اپنا فریضہ انجام دیتا رہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ حکومت کو اس سے پریشانی ہے اور اسی لیے وہ الیکٹرانک میڈیا کے بجائے سوشل میڈیا کو ضابطہ بند کرنا چاہتی ہے۔ اس لیے اگر آگے چل کر حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کو غلام بنانے کی کوئی کوشش ہوتی ہے تو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن اگر حکومت ایسا کوئی قدم اٹھاتی ہے تو عوام کو اس کی شدید مخالفت کرنی ہوگی۔ کیونکہ یہ قدم سوشل میڈیا پر نہیں بلکہ عوامی جذبات و خیالات پر بند باندھنے کے مترادف ہوگا۔ یاد رکھیں کہ اگر سوشل میڈیا بھی حکومت کا غلام بن گیا تو پھر اس کی غلط پالیسیوں، اس کے غلط فیصلوں اور میڈیا کے غلط پروپیگنڈوں کا جواب دینے کے لیے کوئی پلیٹ فارم نہیں بچے گا۔ کوئی آواز اٹھانے والا نہیں رہے گا۔

Published: 20 Sep 2020, 10:10 PM
next