ویڈیو: عمر خالد کی گرفتاری کے پیچھے کی سازش، کاروانِ محبت نے کیا پردہ فاش

کاروانِ محبت کی تقریباً 5 منٹ کی ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ دہلی پولیس سی اے اے مخالف احتجاج میں شامل ہونے والے لوگوں پر بیجا الزام عائد کر کے انہیں گرفتار کر رہی ہے

user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: اسٹوڈنٹ ایکٹوسٹ عمر خالد کو حال ہی میں دہلی پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ ان پر دہلی فسادات کی سازش رچنے کا الزام ہے۔ عمر خالد کے علاوہ بھی پولیس نے ایسے کئی لوگوں کو اس معاملہ میں گرفتار کیا ہے جو سی اے اے مخالف احتجاج میں شامل رہے تھے۔ ان سماجی جہد کاروں کی گرفتاریوں کے بعد پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ تنظیم کاروانِ محبت نے بھی ایک ویڈیو جاری کر کے دہلی پولیس کی کارکردگی اور نیت پر سوال اٹھائے ہیں۔

کاروانِ محبت کی تقریباً پانچ منٹ کی ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ دہلی پولیس سی اے اے مخالف احتجاج میں شامل ہونے والے لوگوں پر بیجا الزام عائد کر کے انہیں گرفتار کر رہی ہے اور جو لوگ فسادات کی سازش کے اصل مجرم ہیں وہ کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ عمر خالد اور دیگر گرفتار سماجی جہد کاروں کے لئے آواز اٹھانا ضروری ہے۔

کاروانِ محبت کی ویڈیو میں عمر خالد کی اس ویڈیو کو بھی شامل کیا گیا ہے جس میں انہوں نے اپنے گرفتار ہونے کے خدشہ کا اظہار کیا تھا۔ عمر خالد اس ویڈیو میں کہہ رہے ہیں کہ پولیس اصل مجرموں کو گرفتار نہیں کر رہی ہے اور وہ پولیس کے سامنے ہی قابل اعتراض باتیں کر رہے ہیں۔ فساد بھڑکانے اور نفرت انگیز تقریر کرنے میں بی جے پی کے لیڈر کپل مشرا، پرویش ورما اور انوراگ ٹھاکر بھی شامل ہیں۔

کپل مشرا نے پولیس کی موجودگی میں کہا تھا کہ ٹرمپ کے جانے تک تو وہ جا رہے ہیں لیکن اس کے بعد پولیس کی بھی نہیں سنین گے! اسی طرح پرویش ورما نے کہا تھا کہ اگر دہلی میں بی جے پی کی حکومت بن گئی تو ایک گھنٹے کے اندر اندر شاہین باغ کو خالی کرا لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ انوراگ ٹھاکر نے دیش کے غداروں کو، گولی مارو... کے نعرے لگوائے تھے۔ واضح رہے کہ ان میں سے کسی کو بھی پولیس نے ملزم تک نہیں مانا ہے۔

ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے کہا کہ 12 ملزمان نے اعتراف جرم کر لیا ہے، لیکن تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ 12 میں سے 9 لوگوں کے بیان ہوبہو ایک جیسے تھے۔ نیز عمر خالد کی گرفتاری عین اسی طرح کی گئی ہے جس طرح 2016 میں ان کی گرفتاری ہوئی تھی۔ جیسے اس وقت کہا گیا تھا کہ جے این یو کی ایک تقریب میں ملک مخالف نعرے بازی کی گئی تھی لیکن جب حقیقت منظر عام پر آئی تو معلوم ہوا کہ اس ویڈیو کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی اور ملک مخالف نعرے کسی نے نہیں لگائے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2016 سے اب 2020 تک پولیس نے اس معاملہ میں فرد جرم تک دائر نہیں کی ہے۔ جو لوگ بھی جیلوں میں قید ہیں اگر ان لوگوں کو ہم نے آج بھلا دیا تو آنے والے دنوں میں یہ لڑائی مزید مشکل ہو جائے گی۔

ویڈیو عمر خالد کے ان الفاظ پر ختم ہوتی ہے، ’’وہ ہم کو ڈرا رہے ہیں لیکن وہ ساتھ میں آپ کو بھی ڈرا رہے ہیں۔ وہ ہماری آواز کو بند کر رہے ہیں، ہم کو قید کر رہے ہیں جیلوں کے پیچھے، لیکن آپ کو بھی جھوٹ کے اندر قید کرنا چاہتے ہیں، آپ کو ڈرا کر چپ کرانا چاہتے ہیں۔ بس اپیل کر کے میں اپنی بات ختم کروں گا۔ ڈرئیے مت۔ ناانصافی کے خلاف آواز بلند کیجئے۔ جن لوگوں کو جھوٹے مقدموں میں پھنسایا جا رہا ہے ان لوگوں کی رہائی کی مانگ کیجئے، ہر ظلم کے خلاف آواز اٹھائیے۔‘‘

Published: 20 Sep 2020, 7:10 PM
next