جمہوریت بالائے طاق، ملک میں پولس راج... ظفر آغا

ابھی عمر خالد جیل گئے ہیں۔ کل کو سینکڑوں جیل بھیجے جائیں گے۔ ملک میں کہہ کر ایمرجنسی لاگو نہیں کی گئی، ملک میں پولس راج بڑھتا جائے گا اور مودی راج اسی طرح ظلم و استبداد کی ایک نئی تاریخ رقم کرے گا

عمر خان کی والدہ اور یونائیٹڈ اگینسٹ ہیٹ کے خالد سیفی کی اہلیہ دہلی میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں شامل ہوئیں/ Getty Images
عمر خان کی والدہ اور یونائیٹڈ اگینسٹ ہیٹ کے خالد سیفی کی اہلیہ دہلی میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں شامل ہوئیں/ Getty Images
user

ظفر آغا

آخر عمر خالد کو جیل پہنچا دیا گیا۔ ایک عرصہ سے اس سابق جے این یو طالب علم کی پولس کو تلاش تھی۔ کنہیا کمار کے ساتھ یہ بھی 'دیش دروہی' ٹھہرا دیا گیا تھا۔ مگر پچھلے ہفتے تو اس کو دہلی پولس نے دہلی دنگوں کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا۔ لیکن ان دنگوں کے سلسلے میں عمر خالد اکیلے ہی ملزموں کی صف میں نہیں ہیں۔ اس معاملے میں تو کیا ہندو، کیا مسلمان کسی کو نہیں بخشا جا رہا ہے۔ جناب حد تو یہ ہے کہ مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری اور سوراج پارٹی کے یوگیندر یادو کا بھی نام اسی چارج شیٹ میں ہے۔ پھر دہلی یونیورسٹی کے ہندی پروفیسر اپوروانند اور جے این یو کی مشہور ماہر معاشیات محترمہ جیتی گھوش کا نام بھی دہلی میں دنگے کروانے کی سازش کے سلسلے میں پولس چارج شیٹ کی فہرست میں ہے۔

عجیب عالم ہے۔ کیا ہندو اور کیا مسلمان، جو بھی حکومت کے خلاف چوں کرے وہ غدار وطن اور دیکھتے دیکھتے سلاخوں کے پیچھے۔ ابھی چند روز قبل پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں حکومت نے یہ انکشاف کیا کہ غدار وطن کے الزام میں پچھلے تین سالوں میں چار ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ یہ لوگ یو اے پی اے قانون کے تحت گرفتار ہیں جس میں ایک سال تک کسی قسم کی ضمانت کی بھی گنجائش نہیں ہے۔ خیال رہے کہ چار ہزار گرفتار افراد میں عمر خالد جیسے وہ لوگ جو اس سال پکڑے گئے ہیں وہ شامل ہیں۔ اب یہ عالم ہے کہ اگر کسی نے ذرا سا منھ کھولا اور بس وہ جیل گیا۔

صاحب یہ کون سی جمہوریت ہے جہاں کوئی حکومت وقت کے خلاف زبان نہیں کھول سکتا ہے۔ پھر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیے تو وہاں برسوں سنوائی کا سوال نہیں اٹھتا۔ افسرشاہی حکومت کی انگلیوں پر ناچ رہی ہے۔ میڈیا حکومت وقت کے قصیدے پڑھنے میں مصروف ہے۔ ملک میں ہاہاکار مچی ہے۔ لیکن کوئی حکومت کے خلاف زبان نہیں کھول سکتا ہے۔ اگر کسی کو آزادی ہے تو وہ صرف پولس ہے۔ وہ جو جی چاہے سو کرے۔ اور بھلا پولس من مانی کیوں نہ کرے! ذرا غور فرمائیے اتر پردیش حکومت نے ابھی پچھلے ہفتے یہ قانون پاس کیا ہے کہ یو پی پولس بغیر کسی وارنٹ اور ایف آئی آر کے جب چاہے جس کو چاہے گھر سے اٹھا کر لے جا سکتی ہے۔

یہ ایمرجنسی نہیں تو اور کیا ہے! ہم نے اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کا دور بھی دیکھا ہے۔ اس وقت نوجوان ہوتے تھے۔ یونیورسٹی طالب علم تھے۔ اندرا گاندھی سے سخت ناراض تھے۔ ہم اور ہمارے ساتھی کھلے عام دن رات کافی ہاؤس میں بیٹھ کر کھلے بندوں حکومت کے خلاف بولتے تھے۔ مجال ہے کہ کبھی جھوٹے منھ بھی پولس نے سوال کیا ہو۔ اب مودی کے خلاف بول کر تو دیکھیے، چوبیس گھنٹے نہیں گزریں گے اور پولس گھر پر دستک دے رہی ہوگی۔ کہنے کو کوئی ایمرجنسی نہیں، لیکن ایمرجنسی سے بدتر حالات ہیں۔ جمہوریت اور جمہوری حقوق بالائے طاق۔ ملک میں پوری پولس راج اور مودی-شاہی چل رہی ہے۔

خیال رہے کہ یہ ایمرجنسی جیسے حالات اور پولس کی من مانی اب روز بہ روز بڑھتی جائیں گی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مودی حکومت ہر فرنٹ پر بری طرح ناکام ہے۔ ملک سے روزگار اڑ چکا ہے۔ جو روزگار سے لگے تھے لاک ڈاؤن ان کی بھی روزی روٹی کھا گیا۔ ہر دھندا چوپٹ ہے۔ ادھر کسان سڑکوں پر ہے۔ ابھی 17 ستمبر کو وزیر اعظم نریندر مودی کے یوم پیدائش کو نوجوان نے بطور یومِ بے روزگار منایا۔ سینکڑوں شہروں میں حکومت مخالف جلوس نکلے۔ کئی جگہوں پر پولس نے نوجوانوں کے خلاف لاٹھی چارج بھی کیا۔ ادھر مہنگائی ہے کہ روز بڑھتی جا رہی ہے۔ بازار خریداری کے لیے جائیے، روز مرہ کے سامان خریدیے ہزار روپے منٹوں میں ختم۔ لب و لباب یہ کہ مودی حکومت کی ناکامیوں سے اب عام آدمی کے پیٹ پر لات پڑ رہی ہے۔ ظاہر ہے بھوکے پیٹ کو ہر وقت ہندو-مسلم دشمنی کا نشہ جاری نہیں رہ سکتا ہے۔ یعنی پچھلے چھ سالوں میں مودی حکومت نے ہندو-مسلم منافرت کی سیاست کا جو جال بُنا تھا وہ ملک کے معاشی حالات کے آگے اب ڈھیلا پڑنے لگا۔

ظاہر ہے کہ ان حالات میں عوام کا غصہ اب سڑکوں پر نکلے گا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حکومت مخالف مظاہرے شروع ہو چکے ہیں۔ ابھی حال میں ہریانہ میں ہزاروں کسان سڑکوں پر تھے۔ دہلی کے پڑوس اتر پردیش سے بھی ایسی ہی خبریں آئیں۔ پھر نوجوان روزگار مانگ رہا ہے۔ تاجر کو قرض چاہیے۔ ادھر بینک ڈوب رہے ہیں۔ قرض کہاں سے دیئے جائیں۔ مودی جی کے پاس اب صرف دو راستے بچے ہیں۔ پہلا، نفرت کی سیاست کا بازار اتنا گرم کیا جائے کہ ملک ہی جھلس جائے۔ مگر معاشی پریشانیوں نے منافرت کا نشہ بھنگ کر دیا ہے۔ حد یہ ہے کہ رام مندر تعمیر کے نام پر بھی ہندو عوام میں جوش پیدا نہیں ہوا۔ یعنی اب مودی جی کی پرانی حکمت عملی یعنی بانٹو اور راج کرو بہت کارگر ہونا مشکل ہے۔

ایسے کٹھن حالات میں مودی حکومت کے پاس پولس کے مظالم کے ساتھ حکومت چلانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں بچا ہے۔ یعنی جیسے جیسے دن گزریں گے، ویسے ویسے عوام کی پریشانی بڑھیں گی۔ اور ساتھ میں عوام کا غصہ حکومت کے خلاف بڑھے گا۔ لوگ سڑکوں پر نکلیں گے اور ادھر پولس کے مظالم بڑھیں گے۔ یعنی مودی حکومت عوام پر مظالم ڈھانے کے نئے ریکارڈ قائم کرنے جا رہی ہے۔ کیونکہ زبردست معاشی پریشانیوں کے سبب پولس مظالم کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا ہے۔ ابھی عمر خالد جیل گئے ہیں۔ کل کو سینکڑوں جیل بھیجے جائیں گے۔ ملک میں کہہ کر ایمرجنسی لاگو نہیں کی گئی، ملک میں پولس راج بڑھتا جائے گا، اور مودی راج اسی طرح ظلم و استبداد کی ایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔

Published: 20 Sep 2020, 9:11 AM
next