کنگنا کے کندھے پر بی جے پی کی بندوق... سہیل انجم

اس پورے کھیل میں میڈیا جس طرح ایک فریق بنا ہوا ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ ہمیشہ کی مانند اس بار بھی وہ بی جے پی کے ساتھ کھڑا ہے اور انسانی اور صحافتی قدروں کو روند رہا ہے۔

کنگنا رناوت / Getty Images
کنگنا رناوت / Getty Images
user

سہیل انجم

بالی ووڈ میں سنکی اداکارہ کے طور پر مشہور کنگنا راناوت نے اپنے متنازعہ اور ناشائستہ بیانات سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کے منہ میں کسی اور کی زبان ہے اور وہ جو کچھ کہہ رہی ہیں وہ خود نہیں کہہ رہیں بلکہ ان سے کہلوایا جا رہا ہے۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ ان کے کندھے پر ایک بندوق ہے جس کی لبلبی کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ بظاہر فائرنگ کنگنا راناوت کر رہی ہیں لیکن حقیقتاً کوئی اور کر رہا ہے۔ اس موقع پر بعض سیاسی تجزیہ کاروں نے فلم آنند کو یاد کیا جس میں اداکار راجیش کھنہ کہتے ہیں کہ ہم سب رنگ منچ کی کٹھ پتلیاں ہیں جو اپنا اپنا پارٹ ادا کر رہی ہیں۔

جس طرح سے مرکزی حکومت ان کی پشت پناہی کر رہی ہے، جس طرح ان کو وائی زمرے کی سیکورٹی فراہم کی گئی، جس طرح ان کی حمایت میں بی جے پی آگئی، ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ آگئے، مہاراشٹر کے سابق وزیرعلیٰ آگئے، دوسرے بی جے پی لیڈران آگئے، جس طرح ایک مخصوص برادری کی تنظیم کرنی سینا آگئی، جس طرح ایودھیا کے سادھو سنت آگئے اور جس طرح کنگنا کی والدہ نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا شکریہ ادا کیا، یہ تمام باتیں بس ایک ہی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ یہ کنگنا اور شیو سینا کی جنگ نہیں بلکہ دلی اور مہاراشٹر کی جنگ ہے۔

شیو سینا دہائیوں سے بی جے پی کی حلیف جماعت رہی ہے۔ وہ مرکز کی این ڈی اے اور ریاست مہاراشٹر کی مخلوط حکومت میں شامل رہی ہے۔ لیکن ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے بعد جس طرح اس نے بی جے پی کا دامن چھوڑ کر این سی پی اور کانگریس کا ساتھ پکڑا اور ان دونوں جماعتوں کے ساتھ مل کر مہاراشٹر میں ایک مخلوط حکومت قائم کی اس نے بی جے پی کو تڑپنے اور چھٹپٹانے پر مجبور کر دیا۔ بی جے پی کو یہ کسی بھی قیمت پر گوارہ نہیں ہے کہ ممبئی اس کے ہاتھ سے نکل جائے اور اس پر دوسروں کا قبضہ ہو جائے۔ لہٰذا وہ شروع سے ہی اس تاک میں بیٹھی تھی کہ کب موقع ملے اور وہ اپنا کھیل شروع کر دے۔ جسے سیاسی زبان میں ”آپریشن لوٹس“ کہا جاتا ہے۔

لہٰذا سوشانت سنگھ راجپوت کی مبینہ خود کشی کا معاملہ اس کے لیے ایک بہترین موقع بن کر سامنے آیا۔ بی جے پی کی جانب سے سوشانت کو ایک بہاری اداکار کے طور پر پیش کیا جانے لگا اور یہ کہا جانے لگا کہ ممبئی پولیس کی جانب سے بہار کی توہین کی گئی ہے۔ بہر حال یہ معاملہ سی بی آئی کے سپرد ہوا اور پھر این سی بی نے ریا چکرورتی کو گرفتار کر لیا۔ اس معاملے میں ممبئی اور بہار کی پولیس میں بھی ٹھن گئی تھی اور اس موقع پر بھی بی جے پی نے بہار پولیس کی حمایت کی۔ ادھر کنگنا پہلے سے ہی سوشانت کی موت کی جانچ سی بی آئی سے کروانے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ جب یہ معاملہ سی بی آئی کے سپرد ہو گیا تو کنگنا نے ممبئی پولیس پر اپنے عدم اعتماد کا مظاہرہ کیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ ممبئی پی او کے یعنی پاک مقبوضہ کشمیر جیسی ہو گئی ہے اور وہاں ڈر لگتا ہے۔

اس پر ان کے اور شیو سینا رہنما سنجے راوت کے مابین جو تو تو میں میں ہوئی وہ سب کے سامنے ہے۔ اس پر اظہار خیال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی درمیان مرکزی حکومت نے انھیں وائی زمرے کی سیکورٹی فراہم کر دی۔ ادھر بی ایم سی یعنی برہن ممبئی کارپوریشن نے ممبئی میں واقع ان کے گھر میں مبینہ ناجائز تعمیرات کے خلاف کارروائی کی اور ان کے دفتر کے کچھ حصوں کو توڑ دیا۔ اس واقعہ نے آگ میں گھی کا کام کیا اور کنگنا ابل پڑیں۔ انھوں نے اس دوران متعدد ٹوئٹس کیے اور ایک بار پھر ممبئی کو پی او کے اور پاکستان بتایا اور اس قدم کو جمہوریت کے قتل سے تعبیر کیا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ انھوں نے اپنے گھر کو رام مندر بتایا، بی ایم سی اور مہاراشٹر حکومت کو بابر کی فوج بتایا اور کہا کہ ان کے رام مندر کو توڑا جا رہا ہے۔ انھوں نے ایودھیا اور کشمیر پر فلم بنانے کا بھی اعلان کیا اور اسی تسلسل میں انھوں نے کشمیری پنڈتوں کا بھی راگ چھیڑ دیا۔

اس پر مختلف حلقوں سے شدید رد عمل ظاہر کیا گیا۔ خاص طور پر کشمیری عوام، دانشوروں اور رہنماوں اور کشمیری پنڈتوں کی طرف سے ان کے بیانات کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ کشمیری پنڈتوں نے جو کچھ جھیلا ہے اس کا موازنہ ایک دیوار کے انہدام سے نہیں کیا جا سکتا۔ ابھی یہ سب کچھ چل ہی رہا تھا کہ کنگنا نے اپنی بندوق کا رخ کانگریس صدر سونیا گاندھی کی طرف موڑ کر یہ ثابت کر دیا کہ یہ لڑائی دراصل ان کی نہیں بلکہ بی جے پی کی ہے اور انھیں ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ شیو سینا نے اپنے نظریات سے سمجھوتہ کر لیا ہے اور اب وہ سونیا سینا بن گئی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ انھوں نے اس معاملے میں سونیا گاندھی کی خاموشی کو بھی ہدف تنقید بنایا۔ جبکہ اس معاملے میں سونیا گاندھی یا کانگریس کو بولنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔

اگر ان کے بیانات اور ان کے انداز تخاطب اور بیانات کے بین السطور کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات شیشے کی مانند صاف ہو جائے گی کہ یہ کھیل دراصل بی جے پی ہی کھیل رہی ہے۔ اس کھیل کے پس منظر میں بہار کا اسمبلی الیکشن ہے۔ سوشانت سنگھ کو ایک بہاری اداکار کے طور پر پیش کرنے اور ان کی آڑ میں بہار و اہل بہار کی توہین کا بے بنیاد الزام لگا کر اور یہ دعویٰ کرکے کہ سوشانت کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے، درپردہ بہار میں ووٹوں کی فصل کاٹنا ایک بڑا مقصد ہے۔ بی جے پی کے نظریے سے اتفاق رکھنے والے سادھو سنتوں کا کنگنا کی حمایت میں کھڑا ہو جانا بھی یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ پورا کھیل سیاسی ہے اور اس قضیہ کی آڑ میں بہار میں بی جے پی یا این ڈی اے کو کامیابی دلوانا ہے۔

اس موقع پر کنگنا کو ”بھارت کی بہادر بیٹی“ کے طور پر بھی پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن ایسا کرنے والے ریا چکرورتی کو بھول جاتے ہیں۔ جو لوگ ناری سمان کی بات کرتے ہیں ان کے نزدیک ریا چکرورتی ناری نہیں ہے۔ وہ بھارت کی بیٹی نہیں ہے۔ اس کی عزت نفس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ جس طرح اس کی اور اس کے اہل خانہ کی عزت اچھالی جا رہی ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ لیکن سیاسی مقاصد کے حصول میں سرگرداں طاقتوں کو ریا اور اس کے اہل خانہ کا درد نظر نہیں آتا۔ ممبئی میں بحریہ کے ایک سابق افسر کے ساتھ ہونے والی مار پیٹ کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ مخصوص طاقتیں اس افسر کی حمایت تو کر رہی ہیں لیکن ریا چکرورتی کے والد کی حمایت نہیں کر رہی ہیں جبکہ وہ بھی فوج کے ایک سابق افسر ہیں۔ گویا اپنی سہولت کے حساب سے حکمت عملی طے کی جا رہی ہے اور اس میں انصاف پسندی کا کوئی دخل نہیں ہے۔

اس پورے کھیل میں میڈیا جس طرح ایک فریق بنا ہوا ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ ہمیشہ کی مانند اس بار بھی وہ بی جے پی کے ساتھ کھڑا ہے اور انسانی اور صحافتی قدروں کو روند رہا ہے۔ وہ ایک بار پھر سر راہ بے نقاب ہو گیا ہے اور مادر زاد برہنہ ہو کر جس طرح وہ حکومت اور بی جے پی کے مقاصد کی تکمیل میں تمام حدود سے گزر رہا ہے اس کی کسی بھی طرح حمایت اور تائید نہیں کی جا سکتی۔

Published: 13 Sep 2020, 10:09 PM
next