بی جے پی میں ایسے ’راجاؤں‘ کی بھرمار ہے... سہیل انجم

بی جے پی لیڈر ٹی راجہ سنگھ جنوبی ہند میں اشتعال انگیز تقریروں اور بیانوں کے لیے بدنام ہیں۔ ان کے خلاف پولیس میں ساٹھ سے زائد مقدمات درج ہیں جن میں سے بیشتر نفرت انگیز تقریروں کے سلسلے میں ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سہیل انجم

سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کی جانب سے بی جے پی کی حمایت کرنے، اس کے لیڈروں کے نفرت انگیز بیانات اور تقریروں کو نہ ہٹانے اور مسلم مخالف مواد کے متواتر پوسٹ کیے جانے کا معاملہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا ہے۔ کانگریس نے فیس بک کے ذمہ داروں کے نام دو خطوط لکھے ہیں جن میں فیس بک انڈیا کی جانب سے بی جے پی کی طرفداری کی باتیں کہی گئی ہیں۔ فیس بک نے ان خطوط کے جواب میں اپنے سابقہ بیان کو پھر دوہرایا ہے کہ اس کی پالیسی نفرت اور تشدد کو ہوا دینے والی نہیں ہے اور یہ کہ اس پالیسی کا اطلاق بلا امتیاز کیا جاتا ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں جس کے چیئرپرسن سینئر کانگریس رہنما ششی تھرور ہیں، فیس بک انڈیا کے ذمہ داروں کو طلب کیا گیا تھا اور تقریباً تین گھنٹے تک چلی میٹنگ میں ان کے سامنے تقریباً ڈیڑھ سو سوالات رکھے گئے تھے۔ جن میں سے کچھ کے جواب دے دیئے گئے اور باقی کے جواب تحریری طور پر دینے کی بات کہی گئی ہے۔ اس میٹنگ میں بی جے پی سے وابستہ ممبران نے پوری کوشش کی کہ فیس بک اور بی جے پی کے درمیان رشتے کو الٹ دیا جائے یعنی یہ ثابت کر دیا جائے کہ فیس بک انڈیا کے ذمہ داروں کے کانگریس سے رشتے ہیں۔ اس کے لیے گڑے مردے اکھاڑے گئے۔ اور ایک روز قبل انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر روی شنکر پرساد نے فیس بک کے نام ایک مکتوب میں یہ الزام لگایا کہ فیس بک انڈیا کے کئی عہدے دار آن ریکارڈ وزیر اعظم مودی اور دیگر وزرا کو گالیاں دیتے ہیں۔ اس خط کا مقصد پورے معاملے کو پلٹ دینا تھا۔ لیکن بہر حال بی جے پی ایسا کرنے میں کامیاب تو نہیں ہوئی لیکن اس کے جارحانہ رویے کی وجہ سے مذکورہ میٹنگ بلا نتیجہ ختم ہو گئی۔

بی جے پی اس میٹنگ کے ہی خلاف تھی اور اسی لیے اس نے ششی تھرور کو چیئرمین شپ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ بہر حال اب اس کمیٹی کی مدت اسی ماہ ختم ہو رہی ہے۔ دوسری کمیٹی تشکیل پائے گی اور دوسرا چیئرمین نامزد ہوگا۔ اس طرح بی جے پی اپنے مقصد میں بڑی حد تک کامیاب ہو گئی۔ لیکن کانگریس کی جانب سے فیس بک پر دباؤ قائم رہا اور جس کا نتیجہ یوں نکلا کہ فیس بک نے تلنگانہ سے بی جے پی کے واحد ایم ایل اے ٹی راجہ سنگھ پر پابندی عاید کر دی۔ خیال رہے کہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا تھا کہ فیس بک بی جے پی لیڈروں کی طرفداری کرتا ہے اور ان کے نفرت انگیز مواد کو نہیں ہٹاتا۔ اس نے ٹی راجہ سنگھ کی مثال پیش کی تھی۔ اب راجہ سنگھ کا کہنا ہے کہ ان کا کوئی فیس بک اکاونٹ ہی نہیں ہے اور ان کے نام سے دوسرے لوگ اکاؤنٹ چلا رہے ہیں۔ ظاہر ہے یہ بات کسی سے ہضم نہیں ہو سکتی۔

ٹی راجہ سنگھ جنوبی ہند میں اشتعال انگیز تقریروں اور بیانوں کے لیے بدنام ہیں۔ ان کے خلاف پولیس میں ساٹھ سے زائد مقدمات قائم ہیں جن میں سے بیشتر نفرت انگیز تقریروں کے سلسلے میں ہیں۔ ہم یہاں انڈیا ٹوڈے کی ویب سائٹ پر ان کے بارے میں دی گئی تفصیلات کی تلخیص پیش کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انھوں نے مئی 2017 میں ایک تقریر میں پرانے حیدرآباد کو ”منی پاکستان“ کہا تھا اور حکومت سے کہا تھا کہ وہ تلاشی لے تو کئی گھروں سے بم اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوگا۔ اس تقریر پر ان کے خلاف کیس درج ہوا تھا۔

انھوں نے جولائی 2017 میں مغربی بنگال کے بدوریہ اور بشیر ہاٹ اضلاع میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے دوران ہندووں سے اپیل کی تھی کہ وہ وہی کریں جو 2002 میں گجرات کے ہندووں نے کیا تھا ورنہ بنگال جلد ہی بنگلہ دیش بن جائے گا۔ انھوں نے پدماوت فلم کے تنازعے کے دوران دھمکی دی تھی کہ اگر یہ فلم دکھائی گئی تو وہ سنیما ہالوں میں آگ لگا دیں گے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایسا کرنا ہر قوم پرست، ہر ہندو اور ہر راجپوت کی ڈیوٹی ہے۔ مئی 2017 میں انھوں نے کشمیری مسلمانوں کو غدار کہا تھا اور امرناتھ یاتریوں سے کہا تھا کہ وہ کشمیری مسلمانوں سے کچھ بھی نہ خریدیں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو یہ غدار کشمیری مسلمان گھٹنے ٹیک دیں گے اور کہیں گے کہ ان کو آزاد کشمیر نہیں چاہیے۔

اپریل 2017 میں انھوں نے ایودھیا کے بارے میں کہا تھا کہ وہ رام مندر کے لیے جان دے بھی سکتے ہیں اور جان لے بھی سکتے ہیں۔ 2017 ہی میں انھوں نے وندے ماترم گانے سے انکار کرنے والوں کے بارے میں بھی اشتعال انگیز بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ انھیں ہند پاک سرحد پر لڑنے کے لیے بھیج دو۔ دو روز کے بعد وہ واپس آئیں گے اور کہیں گے کہ ہم وندے ماترم گائیں گے۔ انھوں نے اپنی ایک تقریر میں کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنیاری وجئین کو ہندووں کا قاتل بتایا تھا۔ ان اشتعال انگیزیوں کے باوجود فیس بک نے ان کی پوسٹس کو اپنے پلیٹ فارم سے نہیں ہٹایا تھا۔ اب جبکہ خوب ہنگامہ ہوا تب اس نے ان پر پابندی عاید کی ہے۔

ٹی راجہ سنگھ بی جے پی کے واحد ایسے ”راجہ“ نہیں ہیں جو اشتعال انگیزی میں ماہر ہیں اور جن کو فیس بک کا تحفظ حاصل ہے۔ اس پارٹی میں تو ایسے ”راجاؤں“ کی بھرمار ہے۔ مثال کے طور پر آسام میں بی جے پی کے ایک ایم ایل اے ہیں شلادتیہ دیو۔ ٹائم میگزین کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک بین الاقوامی واچ ڈاگ گروپ آواز سے وابستہ الفیہ زویاب نے جولائی 2019 میں فیس بک کے ملازمین کے ساتھ ایک ویڈیو میٹنگ میں حصہ لیا تھا اور ان کو بتایا تھا کہ فیس بک پر ملک بھر سے ایسی 180 پوسٹس ڈالی گئی ہیں جو نفرت و تشدد کے خلاف اس کی پالیسی کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ لیکن ان کی بات پر کسی نے توجہ نہیں دی۔

زویاب کے مطابق شلادتیہ دیو کے اسمبلی حلقے ہوجائی میں ایک لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں ایک مسلمان کو گرفتار کیا گیا تو شلادتیہ نے کہا تھا کہ دیکھیے کیسے بنگلہ دیشی مسلمان ہماری ماؤں اور بہنوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ بیان فیس بک پر اکتوبر 2019 میں شائع کیا گیا اور اسے آٹھ سو مرتبہ شیئر کیا گیا۔ فیس بک کا دعویٰ تھا کہ اس نے یہ پوسٹ ہٹا دی ہے لیکن مذکورہ میٹنگ کے ایک سال بعد تک یہ بیان آن لائن موجود تھا۔ شلادتیہ بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات میں ماہر ہیں اور ان کے خلاف بھی کئی ایف آئی آر درج ہیں۔ انھوں نے یہ الزام بھی عاید کیا تھا کہ آسام کے 80 فیصد مسلمان بنگلہ دیشی ہیں۔ ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ بھی جاری ہو چکا ہے۔ ان کے خلاف اور بھی دیگر متعدد معاملات ہیں۔

دہلی اسمبلی انتخابات اور پھر سی اے اے مخالف تحریک کے دوران بی جے پی کے کئی لیڈروں نے نفرت انگیز تقریریں کی تھیں اور بیانات دیئے تھے جن کے بارے میں سب کو پتہ ہے۔ خواہ وہ کپل مشرا ہوں یا انوراگ ٹھاکر ہوں یا پرویش ورما ہوں یا پھر دوسرے لوگ ہوں۔ ان کے بیانات فیس بک پر بھی موجود تھے۔ پلوامہ حملے کے بعد کپل مشرا نے ایک اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کوکھوں کو تباہ کر دیں جو دہشت گرد پیدا کرتی ہیں۔

کرناٹک میں بی جے پی ایم ایل اے کے ایس ایشورپا نے انتخابات کے موقع پر کہا تھا کہ مسلمانوں کو پارٹی کا ٹکٹ نہیں دیا جانا چاہیے اور اگر اقبال انصاری بی جے پی کا ٹکٹ چاہتے ہیں تو پہلے وہ بی جے پی جوائن کریں اور دس سال تک اس کے آفس میں جھاڑو پونچھا کریں۔ سی اے اے کی منظوری کے بعد کیتھل ہریانہ سے بی جے پی کے ایم ایل اے لیلا رام گورجر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ نریندر مودی کا ہندوستان ہے۔ میاں جی! اگر ہم سے کہا جائے گا تو ہم ایک گھنٹے میں تم سب کو صاف کر دیں گے۔ یوگی آدتیہ ناتھ، گری راج سنگھ اور اننت کمار ہیگڑے جیسے اور بھی بہت سے لیڈران ہیں جو اس فن میں ماہر ہیں۔

ان میں سے کئی لیڈروں کے بیانات فیس بک کی بھی زینت بنتے ہیں۔ یہ چند مثالیں تھیں کہ کس طرح بی جے پی کے لیڈران نفرت انگیز بیانات دیتے اور تقریریں کرتے ہیں اور ان کو فیس بک کا تحفظ حاصل رہتا ہے۔

Published: 6 Sep 2020, 10:10 PM
next