کابینہ کی توسیع اپنی خامیوں کا اعتراف، الٹی ہو گئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کام کیا... سید خرم رضا

مودی کابینہ میں ہوئی توسیع سے بنیادی مسائل حل کرنے میں مدد نہیں مل سکتی، بلکہ اس توسیع سے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔ یہی کہا جا سکتا ہے کہ ’’ الٹی ہو گئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کام کیا‘‘۔

تصویر یو این ئی
تصویر یو این ئی
user

سید خرم رضا

جب دنیا کے بیشتر معروف جرائد اور اخبار ہمارے ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران ہوئی بد انتظامی کو لے کر خبریں اور رپورٹیں شائع کر رہے تھے تب ہمارے حکمراں یا تو خاموشی کا روزہ رکھے ہوئے تھے یا پھر وہ اپنی پیٹھ تھپ تھپا رہے تھے۔ برسر اقتدار جماعت نے نہ تو ان خبروں کو سنجیدگی سے لیا اور نہ ہی ملک کی حزب اختلاف کی تنقید پر کان دھرے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس لہر میں سب سے زیادہ لوگ اس وائرس سے متاثر ہوئے اور سب سے زیادہ اموات ہوئیں۔ کل جب مرکزی وزارت کی کابینہ کی توسیع سے پہلے وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن کے استعفی کی خبر آئی تو اس نے ان ساری رپورٹوں اور حز ب اختلاف کی تنقید پر مہر لگا دی۔

ویسے تو مودی کے بارہ وزراء نے وزیر اعظم کے کہنے پر استعفے دیئے ہیں اور ان میں سے کچھ کے پاس تو انتہائی اہم قلم دان تھے، لیکن وزیر صحت کے استعفے نے اس بات پر مہر لگا دی ہے کہ کورونا کی دوسری لہر کے دوران بد انتظامی ہوئی ہے اور اس کے لئے حکومت ذمہ دار ہے۔ ویسے کچھ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کورونا وبا کے دوران تھالی، تالی، لاک ڈاؤن سے ٹیکہ کاری تک، تمام فیصلے مودی کی قیادت والی حکومت کے ہیں اور ان فیصلوں میں وزارت صحت کا کوئی دخل نظر نہیں آتا، اس لئے پوری حکومت اور حکومت کا قائد اس بد انتظامی سے بچ نہیں سکتے۔ اسی لئے یہ بات ہضم نہیں ہوتی کہ پونا میں ٹیکے کے پروڈکشن کی جانچ وزیر اعظم کریں اور استعفی دیں وزیر صحت۔


اسپتالوں میں بستروں کی کمی ہو، مریضوں کو وقت پر آکسیجن یا دوا نہ ملنے کا معاملہ ہو یا مرنے کے بعد شمشان گھاٹ میں آخری رسومات ادا کرنے میں ہونے والی دشواریاں ہوں، سب کے لئے پوری حکومت ذمہ دار ہے۔ اب نئے وزیر صحت گجرات کے بن گئے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کون سی جادو کی چھڑی چلاتے ہیں، جو سب چیزیں ٹھیک، یا ایک دم بدل جائیں گی۔ اگر خدا نا خواستہ ملک میں کورونا کی تیسری لہر آ جاتی ہے تو نئے وزیر کو تو سب کچھ سمجھنے میں کافی وقت لگے گا اور سمجھنے میں تاخیر کی وجہ سے نقصان زیادہ ہونے کے امکان ہیں۔

ویسے تو وزیر اعظم نے کئی اہم وزیروں کے استعفے لے لئے ہیں جن میں ٹیلی مواصلات، تعلیم اور اطلا عات ونشریات کے وزراء بھی شامل ہیں۔ روی شنکر پرساد، رمیش پوکھریال نشنک اور پرکاش جاوڈیکر کا شمار بی جے پی کے قد آور رہنماؤں میں کیا جاتا ہے اور حکومت کی اہم پالیسیوں میں ان کا دخل رہتا تھا۔ نشنک جن کی قیادت میں نئی تعلیمی پالیسی تیار کی گئی اور جن کا تعلق اترا کھنڈ ریاست سے ہے، جہاں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے ہیں وہاں کے نمائندہ سے اہم وزارت لینے کا مقصد زیادہ تر مبصرین کو سمجھ میں نہیں آیا۔ اطلاعات و نشریات کے شعبہ میں کئی نئی تبدیلیاں ہو رہی ہیں اور ایسے موقع پر جاؤڈیکر کو ہٹایا جانا بھی نئی مصیبتوں کو دعوت دینا ہے۔ روی شنکر پرساد جن کی سرپرستی میں ٹوئٹر سے لڑائی چل رہی ہے ان کا ہٹایا جانا کہیں نہ کہیں ٹوئٹر کو مظبوط کرنے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔


اگر یہ سب اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات اور 2024 کے عام انتخابات کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے تو یہ خود میں وقت سے پہلے شکست تسلیم کرنے جیسا ہے۔ اپنے ’کرمی‘ رہنما گنگوار کی جگہ اتحادی پارٹی کی کرمی رہنما انو پریا پٹیل پر زیادہ بھروسہ بی جے پی کے لئے نقصاندہ ہو سکتا ہے۔ کوشل کشور جن کو مودی کابینہ میں جگہ دی گئی ہے انہوں نے وبا کے دور میں یوگی حکومت کے خلاف کھل کر زہر اگلا تھا۔ انہوں نے کورونا کی وبا میں بد انتظامی کو لے کر وزیر اعلی یوگی پر ذاتی حملہ کیے تھے۔ کوشل کشور کے وزیر بنائے جانے سے یوگی کے ذہن میں ایک مرتبہ پھر اعلی قیادت کے خلاف شکوک کے بادل گہرے ہو گئے ہوں گے۔ برہمن سماج سے کسی قد آور شخص کو وزیر نہ بنایا جانا اور ساتھ میں صرف ایک براہمن کو کابینہ میں شامل کرنا بھی اعلی ذاتوں کی ناراضگی کو کم کرنے میں کوئی مدد نہیں کرے گا۔ اس کابینہ کی توسیع نے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے لئے بی جے پی کو مزید پریشانی میں ڈال دیا ہے۔

بی جے پی حامی کابینہ کی اس توسیع کو لے کر چاہے کتنی تعریف کریں، لیکن کارکردگی اور انتخابی سیاست کے بنیادی نکات پر یہ اقدام پوری طرح فیل ہے۔ یہ توسیع حکومت کی نا اہلی اور غلطیوں کے اعتراف کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آتا۔ حکومت کے سامنے اتنے مسائل منہ پھاڑے کھڑے ہیں کہ اس نئی ٹیم سے ان کو حل کرنے کی توقع کرنا بھی غلط ہوگا۔ حکومت کے سامنے کسانوں کے مسائل ہیں، حکومت کے سامنے مہنگائی کا مسئلہ ہے، حکومت کے سامنے خراب معیشت ایک بڑا مسئلہ ہے، حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔ حکومت کو ان پر توجہ دینے کی ضرورت تھی جو اس نے نہیں کیا۔ ایسے میں اس توسیع سے مسائل سے توجہ ہٹانے اور ہیڈ لائن مینجمنٹ میں تو مدد گار ثابت ہو سکتی ہے لیکن بنیادی مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہو سکتی، اس لئے اس توسیع سے صرف مسائل میں اضافہ ہو گا۔ یہی کہا جا سکتا ہے کہ ’’ الٹی ہو گئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کام کیا۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔