دلیپ کمار، جان جاتی ہے جس کے جانے سے

فلم ’جگنو‘ جو دلیپ کمار نے نور جہاں کےساتھ کی تھی وہ ان کی پہلی کامیاب فلم تھی۔ اس کے بعد انہوں نرگس اور راج کپور کے ساتھ کئی فلموں میں اداکاری کی اور ایک کے بعد ایک کامیاب فلمیں دیں۔

دلیپ کمار / آئی اے این ایس
دلیپ کمار / آئی اے این ایس
user

سید خرم رضا

ہمارے ہر دل عزیز، فلمی دنیا کے بے تاج بادشاہ، ذہین، بہترین انسان اور سب کے ہیرو دلیپ کمار لمبی علالت کے بعد آج صبح 7 بجے اس دنیائے فانی کو الوداع کہہ گئے۔ ہر دل پر راج کرنے والے دلیپ کمار ہر دل کو غمزدہ اور سُونا کر کے چلے گئے اور ان کے ساتھ ہی ایک دور کا اختتام ہوگیا۔ فلم انڈسٹری میں ایسے کم لوگ آئے، جنہوں نے صدیوں تک ناظرین کے دلوں پر راج کیا اور دلیپ کمار کا نام ایسے لوگوں میں ہمیشہ سر فہرست رہے گا۔

11 دسمبر 1922 کو جب ہندوستان غلام تھا اس وقت پیشاور میں واقع قصہ خوانی بازار کی حویلی میں یوسف خان جن کو آج پوری دلیپ کمار کے نام سے جانتی ہے، ان کی پیدائش ہوئی۔ ان کی والدہ کا نام عائشہ بیگم تھا اور والد کا نام غلام سرور خان تھا۔ دلیپ کمار 12 بھائی بہن تھے اور فلمی دنیا کے ایک اور مائے ناز اداکار راج کپور کے بچپن کے دوست تھے، کیونکہ دونوں ایک ہی محلہ میں رہتے تھے۔ 1966 میں ان کی شادی اپنے وقت کی بہترین اداکارہ سائرہ بانو سے ہوئی لیکن ان کے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔


یوسف خان اپنے اہل خانہ کے ساتھ 1935 میں ممبئی کاروبار کے سلسلے میں منتقل ہو گئے۔ 1940 میں والد سے کچھ اختلافات ہوئے، جس کے بعد انہوں نے گھر چھوڑ دیا اور پونا چلے گئے جہاں انہوں نے بزرگ اینگلو انڈین جوڑے کی مدد سے اپنا سینڈ وچ اسٹال کا کانٹریکٹ لیا تھا۔ اچھی انگریزی بولنے کی وجہ سے انہیں یہ کانٹریکٹ ملا تھا، جس میں ان کو پانچ ہزار روپے کی بچت ہوئی تھی۔ اس کے بعد وہ اپنے گھر ممبئی واپس آ گئے تھے۔

یوسف خان سے کیسے دلیپ کمار بنے

والد کا ہاتھ بٹانے کے لئے دلیپ کمار نے کام کی تلاش شروع کی اور 1943 میں وہ بامبے ٹاکیز پہنچے، جہاں انہوں نے شروع میں کہانیاں اور فلموں کے لئے اسکرپٹ تحریر کیں۔ اداکارہ دیویکا رانی جو بامبے ٹاکیز کی مالکن تھیں، انہوں نے یوسف خان کو مشورہ دیا کہ وہ اپنا نام یوسف خان کی جگہ دلیپ کمار رکھ لیں۔ یوسف خان اس کے لئے تیار ہو گئے اور پھر دیویکا نے دلیپ کمار کو فلم جوار بھاٹا میں کردار دیا اور اس طرح جوار بھاٹا دلیپ کمار کی وہ پہلی فلم تو بنی ہی ساتھ ہی پیشاور میں پیدا ہوئے یوسف خان دلیپ کمار بن گئے۔ دلیپ کمار نے فلم جوار بھاٹا سے فلمی دنیا کا اپنا سفر شروع کیا، جس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ 1944 میں یہ فلم ریلیز ہوئی تھی۔


شروع میں دلیپ کمار کو فلمی دنیا میں اتنی کامیابی نہیں ملی، لیکن پھر وہ وقت آیا جب چاروں طرف صرف ان کا ہی راج رہا۔ فلم ’جگنو‘ جو دلیپ کمار نے نور جہاں کےساتھ کی تھی وہ ان کی پہلی کامیاب فلم تھی۔ اس کے بعد انہوں نرگس اور راج کپور کے ساتھ کئی فلموں میں اداکاری کی اور ایک کے بعد ایک کامیاب فلمیں دیں۔

دلیپ کمار کا ذکر آتے ہی سب سے زیادہ جس فلم کا ذکر ہوتا ہے وہ فلم مغل اعظم ہے اور جس میں شہزادہ سلیم کا کردار ان کی پہچان بن گیا۔ دلیپ کمار جن کو شہنشاہ جذبات کہا جاتا ہے وہ ایک زمانہ میں ڈپریشن کا شکار ہو گئے تھے کیونکہ اس زمانہ میں انہوں نے کئی غمزدہ اور ٹریجیڈی والے کردار ادا کیے جس کی وجہ سے وہ ڈپریشن کا شکار ہو گئےتھے، جس کے بعد ماہر نفسیات نے نہیں ہلکے پھلکے اور مزاحیہ کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا۔ محبوب خان نے انہیں اس دور سے باہر نکلنے میں بہت مدد کی۔


دلیپ کمار نے 1960 میں فلم مغل اعظم میں شہزادہ سلیم کا جو کردار نبھایا تھا اس کے بعد وہ برصغیر کے دلوں کی دھڑکن بن گئے تھے۔ مغل اعظم بالی ووڈ کی تاریخ میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم ثابت ہوئی اور 11 سال تک ٹاپ پر بنی رہی۔ ایسا نہیں ہے کہ دلیپ کمار نے صرف اداکاری ہی کی ہو، انہوں نے فلم بھی بنائی۔ انہوں نے 1961 میں اپنی پہلی اور واحد فلم’ گنگا جمنا ‘بنائی تھی۔

1970 کے دور میں دلیپ کمار کو کئی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا اور ان ناکامیوں کی وجہ سے انہوں نے پانچ سال کا بریک لے لیا تھا۔ دراصل دلیپ کمار کی عمر اور ناظرین کا بدلتا مزاج ان ناکامیوں کی وجہ بنا۔ راجیش کھنہ اب نئی نسل کی دلوں کے دھڑکن بن گئے تھے۔ اس کے بعد کئی اداکاروں نے بالی ووڈ میں دستک دی اور انہوں نے اپنی شناخت بنائی، لیکن دلیپ کمار کے مداحوں کا دل ابھی بھی دھڑکتا تھا۔


1981 میں دلیپ کمار نے فلم ’کرانتی‘ کے ذریعہ واپسی کی اور یہ فلم اس سال کی سب سے زیادہ ہٹ فلموں میں شامل تھی۔ 1991 میں ’سوداگر‘ ان کی باکس آفس پر آخری فلم تھی۔ 1998 میں فلم 'قلعہ' میں کام کرنے کے بعد انہوں نے فلمی دنیا کو خیر باد کہہ دیا تھا۔

دلیپ کمار ایک ایسے اداکار تھے جو کبھی فلمی پردے پر بہت زیادہ جذباتی نظر آ تے تھے تو کبھی سنجیدہ، اپنی اداکاری سے روتے ہوئے کو ہنسا دیا کرتے تھے۔ دلیپ کمار اپنے دور کے فلم دنیا کے ایسے اداکار تھے، جن پر ان کی اپنی ساتھی اداکارہ تو مرتی ہی تھیں لیکن عام لڑکیاں بھی ان پر جان فدا کرتی تھیں۔ اداکارہ مدھوبالا سے ان کے عشق کے چرچے رہے لیکن کسی وجہ سے ان کی یہ محبت دم توڑ گئی اور زندگی میں ہی دونوں علاحدہ ہو گئے۔ ان کی شخصیت اور اداکاری کی وجہ سے برطانوی اداکار ڈیوڈ لین نے انہیں فلم ’لارنس آف عریبیہ‘ میں ایک رول کی پیشکش کی، لیکن دلیپ کمار نے اسے ٹھکرا دیا۔


ہندوستانی فلمی دنیا پر راج کرنے والے دلیپ کمار نے آن، انداز، دیوداس، کرما، کرانتی، سوداگر جیسی مشہور فلموں میں کام کیا۔ سنگ دل، امر، اڑن کھٹولہ، آن، انداز، نیا دور، مدھومتی، یہودی اور مغل اعظم ایسی چند فلمیں ہیں جن میں کام کرنے کے دوران انہیں شہنشاہ جذبات کا خطاب دیا گیا۔ لیکن انہوں نے فلم کوہ نور، آزاد، گنگا-جمنا اور رام اور شیام میں ایک کامیڈین کی اداکاری کر کے یہ ثابت کیا کہ وہ لوگوں کو ہنسانے کا فن بھی جانتے ہیں۔

ملک کی کئی تنظیموں کی یہ خواہش ہے کہ دلیپ کمار کو ہندوستان کے سب سے بڑے اعزاز ’بھارت رتن‘ سے نوازہ جائے۔ ویسے دلیپ کمار کو اپنی زندگی میں بے شمار اعزازات سے نوازا گیا۔ انھیں ہندوستانی فلموں کا سب سے بڑا اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ بھی دیا گیا۔ پاکستان حکومت کی طرف سے 1998ء میں ان کو پاکستان کے سب سے بڑے سیویلین اعزاز ’نشان پاکستان‘ سے بھی نوازا گیا۔ بھارت کا دوسرا سب سے بڑا شہری اعزاز 2015 میں پدم ویبھوشن سے نوازا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔