عوام کے تو کبھی آئے ہی نہیں، بی جے پی کے ’اچھے دن‘ بھی غائب ہو گئے!... سید خرم رضا

اب حکمراں جماعت کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ عوام خواب غفلت سے باہر آ گئے ہیں اور حقیقت کو دن کی روشنی میں جاگتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی / Getty Images
وزیر اعظم نریندر مودی / Getty Images
user

سید خرم رضا

سال 2014 میں عوام کو لگا تھا کہ ملک بہت ہی برے دنوں سے گزر رہا ہے اور ملک کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو ملک میں اچھے دن لے آئے۔ ذرائع ابلاغ نے معصوم عوام کے سامنے اس وقت کے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کی ایسی تصویر پیش کی کہ بس ان کو لگنے لگا کہ ملک کے اچھے دن اسی شخص کی قیادت میں آ سکتے ہیں اور انہوں نے آنکھیں اور عقل دونوں بند کرکے ان اچھے دنوں کا خواب دیکھنا شروع کر دیا۔

بی جے پی نے ان بیچارے عوام کو ایسے اچھے دنوں کا خواب دکھایا جس میں ان کو نظر آیا کہ ملک سے کالا دھن ختم ہو گیا ہے اور نتیجہ میں ان کے نجی کھاتوں میں پندرہ پندرہ لاکھ جمع ہو گئے ہیں، پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے انہوں نے اپنی گاڑی استعمال کرنی بند کر دی تھیں، وہ اب ان گاڑیوں کو محض 34 روپے فی لیٹر پٹرول ڈلوا کر سڑکوں پر دوڑاتے پھر رہے ہیں، ڈالر کے مقابلہ روپے کی قیمت جو سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی عمر کی طرح بڑھ رہی تھی وہ بھی نوجوانوں کی عمر سے مقابلہ کرنے لگی ہے، مہنگائی کا تو پوچھو ہی نہیں، ایسا لگ رہا ہے جیسے ہر چیز مفت مل رہی ہو۔ کافی دنوں تک تو عوام اس خواب میں اتنے مست رہے کہ انہوں نے آنکھ کھولی ہی نہیں، لیکن بیچارے کب تک آنکھیں بند کیے سوتے رہتے، جینے کے لئے آنکھ تو کھولنی ہی تھی، لیکن آنکھ کھلتے ہی خواب چکنا چور ہو گیا کچھ لوگوں نے ابھی بھی ان اچھے دنوں کے لالچ میں آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور اس خواب کے حقیقت ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔


اب جب مہنگائی میں 30 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہو چکا ہے، ڈالر کے مقابلہ روپے کی قیمت بڑھتی ہی جا رہی ہے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں عالمی منڈی میں وزیر اعظم کے ’نصیب‘ سے کم ہو گئی ہیں، لیکن عوام کے لئے یہ مستقل آسمان چھو رہی ہیں، یہ ضرور ہے کہ کالے دھن کے نام پر کی گئی نوٹ بندی نے عوام کے کاروبار تو ختم کر دیئے ہیں، لیکن کالا دھن ختم نہیں ہوا بلکہ ’سوئس‘ بینک میں ہندوستانیوں نے رقم خوب جمع کی ہے، جو ایک ریکارڈ بن گیا ہے، جب کالا دھن ختم نہیں ہوا تو پندرہ لاکھ بینک کھاتوں میں کیسے آتے۔ اوپر سے کورونا کی وبا نے حکومت کی کارکردگی پر اور سوال کھڑے کر دیئےہیں۔ اسپتالوں میں بستر نہ ہونے کی وجہ سے مریض دھکے کھاتے رہے، آکسیجن کی قلت کی وجہ سے مریض تڑپ تڑپ کر دم توڑتا ہوا نظر آیا، شمشان گھاٹ پر جب جگہ نہیں ملی تو کیسے کیسے آخری رسومات ادا کیں، اس کا حال اس کو ہی معلوم ہے۔

قصہ مختصر عوام کے نہ کبھی اچھے دن آئے تھے اور اچھے دنوں کا وعدہ کرنے والوں نے پندرہ لاکھ کو شروع میں ہی ’جملہ‘ قرار دے دیا تھا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں، اچھے دن کے جملوں کی وجہ سے بر سر اقتدار جماعت بی جے پی اور اس کے قائد کے دن بہت اچھے آئے۔ زیادہ تر ریاستوں میں انتخابی فائدہ ہوتا نظر آیا، عوام میں اپنے قائد کے لئے ایسا بھکتی والا رجحان پیدا ہوا کہ وہ اپنے قائد کی تنقید سننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ بہر حال اب ایسا لگتا ہے کہ اس پارٹی اور اس کے قائد کے بھی اچھے دن غائب ہوتے نظر آ رہے ہیں، کیونکہ عوام نے آنکھیں کھولنی شروع کر دی ہیں اور وہ زمینی حقیقت کو سمجھنے لگے ہیں ان کو احساس ہوگیا ہے کہ وہ اچھے دنوں کے نعرے میں چھلے گئے ہیں۔


بی جے پی کو آج ہر ریاست میں پریشانی کا سامنا ہے چاہے وہ اتر پردیش ہو، چاہے وہ کرناٹک ہو، چاہے وہ مدھیہ پردیش ہو، اترا کھنڈ میں چار مہینے میں ہی وزیر اعلی بدلنے کی مجبوری ہے کیونکہ چار ماہ پہلے جس کو وزیر اعلی بنایا گیا تھا اس نے استعفی دے دیا ہے۔ اس کے سب سے پرانے سیاسی ساتھی اکالی دل اور شیو سینا اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں اور کورونا وبا نے جس طرح گورننس کی پول کھولی ہے اس نے عوام کو خواب سے باہر بھی نکالا ہے اور اس کی وجہ سے ان کے غصہ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب حکمراں جماعت کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ عوام خواب غفلت سے باہر آ گئے ہیں اور حقیقت کو دن کی روشنی میں جاگتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔