بی جے پی کانگریس سے نہیں بلکہ اس کے نظریہ سے خوفزدہ ہے... سید خرم رضا

جتن پرساد جیسے موقع پرست سیاست داں جن کا کوئی نظریہ نہیں ہے وہ کسی پارٹی کے لئے کبھی اثاثہ نہیں ہو سکتے۔ بی جے پی کانگریس سے پریشان نہیں ہے بلکہ وہ اس کے نظریہ سے خوفزدہ ہے

کانگریس پارٹی
کانگریس پارٹی
user

سید خرم رضا

ایک سال سے جتن پرساد کے تعلق سے یہ بات کہی جا رہی تھی کہ وہ کانگریس چھوڑ کر بی جے پی کا دامن پکڑ سکتے ہیں۔ جب ان کو مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کی ذمہ داری دی گئی اور ان کو انچارج بنایا گیا تو اس بحث پر فل اسٹاپ لگ گیا، لیکن جب بی جے پی میں اتر پردیش کو لے کر روز میٹنگیں ہو رہی تھیں اس وقت اچانک جتن پرساد کے بی جے پی میں شامل ہونے کی خبر سامنے آئی۔

بی جے پی میں شامل ہوتے وقت جتن پرساد نے کانگریس اور اس کی قیادت کی کوئی تنقید نہیں کی، البتہ بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ضرورت سے زیادہ تعریف کی، جو ان کی مرضی کم اور مجبوری زیادہ لگتی ہے۔ اس کے بعد کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کی قیادت پر سوال کھڑے کیے جانے لگے اور ساتھ میں سچن پائلٹ اور جیوتیرادتیہ سندھیا کا ذکر بھی شروع ہو گیا۔ زیادہ تر لوگوں نے جتن پرساد کی بی جے پی میں شمولیت کو کانگریس کے نقصان کے طور پر پیش کیا اور بی جے پی کے لئے زبردست فائدہ کے طور پر پروسہ۔ یہ بات بھی بہت زور شور سے لکھی اور کہی گئی کہ جتن پرساد کے بی جے پی میں شامل ہونے سے اتر پردیش کے براہمنوں کی ناراضگی کم ہو جائے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ کورونا وبا کی دوسری لہر نے اور پنچایت انتخابات کے نتائج نے اتر پردیش کے تعلق سے بی جے پی اور سنگھ کی اعلی قیادت کی نیند اڑا دی ہے۔ یہ بھی جگ ظاہر ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ میں زبردست ٹھنی ہوئی ہے۔ کوئی اس کو اروند شرما کو اتر پردیش کی کابینہ میں شامل نہ کرنے کو وجہ بتا رہا ہے، کوئی دونوں کی انا کو ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے تو کوئی اس کو اتر پردیش میں براہمن اور رجپوتوں میں بڑھتے ٹکراؤ کو وجہ مانتا ہے۔ لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اتر پردیش میں بی جے پی کے لئے سب کچھ اچھا نہیں ہے اور اس کو اتراکھنڈ کی طرح قیادت بدل کر سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہونے کی شکل میں بھی پیش نہیں کیا جا سکتا۔

جو لوگ جتن پرساد کے بی جے پی میں شامل ہو نے کو لے کر کانگریس یا راہل گاندھی کی شکست کے طور پر پیش کر رہے ہیں وہ دراصل اس حقیقت پر پردہ ڈالے رکھنا چاہتے ہیں کہ جتن پرساد کے اس عمل نے ان کی اور بی جے پی کی کمزوری کو اجاگر کر دیا ہے۔ اگر جتن پرساد کو بی جے پی میں اس لئے شامل کیا گیا ہے کہ وہ براہمن ہیں تو اس سے دو باتیں صاف ہو جاتی ہیں، ایک تو یہ کہ بی جے پی کو ا پنی پارٹی میں موجود براہمنوں پر یقین نہیں ہے، جس میں نائب وزیر اعلی دنیش شرما ہیں، جس میں ریاست کے وزیر شری کانت شرما اور ریتا بہوگنا جوشی ہیں اور برجیش پاٹھک جیسے کئی براہمن ارکان اسمبلی ہیں۔ دوسرا یہ کہ اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ ریاست کے براہمن پارٹی سے ناراض ہیں اور کہیں نہ کہیں اسمبلی انتخابات سے پہلے یہ پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ سب کچھ راجپوت یا ٹھاکروں کے ہاتھوں میں نہیں ہے۔

جتن پرساد جن کو کانگریس نے بہت کچھ دیا یہاں تک کہ وہ منموہن سنگھ کی وزارت میں وزیر رہے عوام ان کو موقع پرست سیاستداں کے خانے میں لاکر کھڑا کر دیں گے اور الزام لگائیں گے کہ اس شخص کا کوئی سیاسی نظریہ یا موقف نہیں ہے، بس اقتدار ہی اس کے لئے سب کچھ ہے۔ براہمن ہونے کی وجہ سے وزیر اعلی اتر پردیش ان کو ہر اہم فیصلوں سے دور رکھیں گے۔ بی جے پی کے دوسرے براہمن رہنما ان کے قد کو پارٹی میں کبھی بڑھنے نہیں دیں گے اور کوشش کریں گے کہ وہ کبھی بھی ان کے لئے کوئی خطرہ نہ بن سکیں۔ کانگریس سے آنے کی وجہ سے ان پر بی جے پی اور سنگھ کبھی اعتماد نہیں کرے گا یعنی جتن پرساد صرف اس پارٹی کے رکن ہوں گے جو اقتدار میں ہے اور وہ پارٹی اقتدار میں بھی اس وقت آئی تھی جب وہ اس کے مخالف تھے۔ مرکز میں اگر کسی کو قلم دان دینے کی بات شروع ہوتی ہے تو پہلے جیوتیرادتیہ سندھیا کا نمبر آ ئے گا۔

جتن پرساد کے بی جے پی میں شامل ہونے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ بی جے پی میں بہت گھبراہٹ اور خوف ہے ساتھ میں یہ بھی صاف ہو گیا ہے کہ جتن پرساد کسی بھی طرح اقتدار سے دور نہیں رہ سکتے اور ان کا راہل گاندھی کی طرح کوئی مضبوط سیاسی نظریہ نہیں ہے۔ جتن پرساد اور سندھیا جیسے رہنماؤں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کانگریس کی قیادت اور راہل گاندھی کا سیاسی نظریہ بالکل صاف ہے اور وہ اس سے سمجھوتہ نہیں کر سکتے، چاہے وہ اس جنگ میں اکیلے ہی کیوں نہ کھڑے ہوں۔ جتن پرساد جیسے موقع پرست سیاست داں جن کا کوئی نظریہ نہیں ہے وہ کسی پارٹی کے لئے کبھی اثاثہ نہیں ہو سکتے۔ بی جے پی کانگریس سے پریشان نہیں ہے بلکہ وہ اس کے نظریہ سے خوفزدہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 10 Jun 2021, 4:11 PM