کرناٹک کا انتخابی ناٹک!

 کرناٹک کی 57 فیصد عوام تبدیلی چاہتی ہے اور تبدیلی کی یہ لہر نظر بھی آنے لگی ہے۔ ایسے میں دوبارہ اقتدار میں آنے کی بی جے پی کی کوششوں پر اس کا کیا اثر ہوگا؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

<div class="paragraphs"><p>بسواراج بومئی، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

بسواراج بومئی، تصویر آئی اے این ایس

user

اعظم شہاب

کرناٹک صوبائی انتخاب میں ایک ماہ کاعرصہ ہی بچا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر صوبائی انتخاب سے قبل اکثر اپنے وزیراعلیٰ کے ناموں تک کا اعلان کر دینے والی بی جے پی ابھی تک اپنے امیدواروں کے ناموں پر ہی مہر نہیں لگا سکی ہے۔ دوسری جانب سے کانگریس ہے جس نے دو مرحلوں میں اپنے 166؍امیدواروں کے ناموں کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ صورت حال یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ کرناٹک کے انتخاب میں کون سی پارٹی کس قدر پُراعتماد ہے۔غالباً اسی اعتماد کی بحالی کے لیے پردھان سیوک کو بار بار کرناٹک کا دورہ کر رہے ہیں لیکن بات ہے کہ بننے کے بجائے بگڑتی ہی جا رہی ہے۔

پردھان سیوک نے 9؍اپریل کو کرناٹک کے باندی پور میں پروجیکٹ ٹائیگر کے 50سال پورے ہونے کے پروگرام میں شرکت کی۔ اس پروگرام میں شکاریوں کے مانند کپڑے پہن کر انہوں نے خوب تصویریں بھی کھنچوائیں، غالباً وہ اس کے ذریعے پروجیکٹ ٹائیگر کا کریڈیٹ لینا چاہتے تھے۔ لیکن کانگریس کے جئے رام رمیش نے ایک ٹوئٹ کرکے ان کی اس کوشش کی ہوا ہی نکال دی۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ ”آج وزیر اعظم باندی پور میں 50 سال قبل شروع کیے گئے پروجیکٹ ٹائیگر کا پورا کریڈٹ لیں گے، وہ خوب تماشا کریں گے جبکہ ماحولیات، جنگل، جنگلی حیات اور جنگلاتی علاقوں میں رہنے والے آدیواسیوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے تمام قوانین کو ختم کیے جا رہے ہیں۔ وہ بھلے ہی سرخیاں بٹور لیں لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے“۔


جئے رام رمیش کے ٹوئٹ کا جواب دینے کے لیے بی جے پی نے مرکزی وزیر ہردیپ پوری کو میدان میں اتارا لیکن ان بیچارے کے سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کہیں تو کیا کہیں۔ لہذا انہوں نے یہ کہتے ہوئے اپنی عزت بچائی کہ ہمیں اس طرح کے بیانوں کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے گویا جئے رام رمیش کے بیان کو غیر اہم بتانے کی کوشش کی، لیکن کرناٹک کے لوگ اس کی اہمیت سے واقف ہوگئے۔ ہوا یوں کہ عین اس وقت جب پردھان سیوک ہاتھی کو گنا کھلا رہے تھے، کرناٹک کے لوگو ں نے گجرات برانڈ کے امول دودھ کے خلاف مہم چھیڑ دی۔ اس طرح کرناٹک کے لوگوں  نے یہ بتا دیا کہ ہر چیز کا کریڈیٹ لینے والے مودی کا گجرات ماڈل تو کیا گجرات کا برانڈ بھی برداشت نہیں کریں گے۔

اس صورت حال نے بیچارے وزیراعلیٰ بومئی کی حالت خراب کر دی اور وہ دوہری مصیبت میں گرفتار ہوگئے۔ ابھی تک وہ بدعنوانی اور ٹکٹوں کی تقسیم میں اختلافِ رائے سے ہی جوجھ رہے تھے کہ اس نئی مصیبت نے انہیں اور الجھا دیا۔ گجرات کے امول اور کرناٹک کے نندنی برانڈ کے مشترکہ کاروبار کو ہری جھنڈی چونکہ امت شاہ نے دکھائی تھی اس لیے بومئی صاحب کرناٹک کی اپوزیشن پارٹیوں، سول سوسائٹی اور ہوٹل ایسوسی ایشن کے مطالبات کے خلاف امول برانڈ کی ڈیری مصنوعات کو بادلِ نخواستہ فروخت کروا رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ بی جے پی و بومئی پر کرناٹک کے عوام کے مخالف ہونے کا لیبل لگ رہا ہے۔ ایک ایسی ریاست جہاں مہینے بھر بعد الیکشن ہونے والے ہوں اور جہاں بی جے پی دوبارہ اقتدار میں واپس آنا چاہتی ہو، یہ عوامی مخالفت اس کی کوششوں پر کس طرح اثرانداز ہوگی؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔


کرناٹک کی ایک روایت یہ بھی ہے کہ ہر صوبائی الیکشن کے بعد وہاں سرکار تبدیل ہوجاتی ہے یا اگر سرکار نہیں تبدیل ہوتی ہے تو کم ازکم وزیراعلیٰ تو ضرور تبدیل ہوجاتا ہے۔ 2013 کے الیکشن میں کانگریس نے 122؍سیٹیں جیت کر حکومت بنائی تھی لیکن 2018 میں بی جے پی 104 سیٹیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی بن گئی۔ اس وقت کانگریس اور جے ڈی ایس نے مل کر حکومت بنائی اور وزیراعلیٰ تبدیل ہوگیا۔ لیکن چونکہ اقتدار پر قابض ہونے کا بی جے پی کا اپنا یہ فارمولہ ہے کہ اگر الیکشن میں شکست مل جائے تو خرید وفروخت کرکے سرکار بنائی جائے، لہذا ہزاروں کروڑ روپئے خرچ کرکے کانگریس وجے ڈی ایس کی حکومت گرا دی گئی۔ اس کے بعد یدی یورپّا وزیراعلیٰ بنے۔ لیکن وہ بیچارے بھی اپنی مدت پوری نہیں کرسکے اور انہیں بہت بے آبرو کرکے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ بومئی کو لایا گیا۔ اس طرح گزشتہ پانچ سال کرناٹک کی سیاست کے لیے زبردست عدم استحکام رہا۔

وزیراعلیٰ بومئی چونکہ سیکولر بیک گراؤنڈ کے تھے اس لیے ان سے کرناٹک کے لوگوں کو بہت امیدیں تھیں کہ وہ کم ازکم ریاست میں فرقہ وانہ صورت حال کو خراب نہیں کریں گے۔ لیکن انہوں نے ٹیپوسلطان اور حجاب وغیرہ پر جو غلاظت پھیلائی، اس سے ان کی شبیہ ایک فرقہ پرست لیڈر کی بن گئی۔ اس کے علاوہ بدعنوانی کے معاملے میں انہوں نے اپنے وزراء کو کچھ ایسی چھوٹ دے دی کہ وہ سی ایم کے بجائے پے سی ایم کے نام سے مشہور ہوگئے۔ اب لے دے کر بی جے پی کے پاس رام کا نام کا ہی سہارا ہے لیکن کانگریس و جے ڈی ایس نے اس پورے الیکشن کو بدعنوانی اور مہنگائی کے گرد لاکر ریاست کے عوام میں تبدیلی کی لہر پیدا کر دی ہے۔ اب صورت حال یہ پیدا ہوگئی کہ صوبے کے57 فیصد عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔


کرناٹک کے صوبائی الیکشن میں گزشتہ 6 بار کے ووٹ شیئر پر اگر غور کریں تو ہرالیکشن میں کانگریس کا ووٹ فیصد بی جے پی سے زیادہ ہی رہا ہے۔ 2008 میں کانگریس کا ووٹ شیئر 34.76 تھا، بی جے پی کا 33.86 تھا جبکہ جے ڈی ایس کا 18.95 تھا۔ 2013 میں کانگریس کے ووٹ شیئر میں 2 فیصد کا اضافہ ہوا تھا جبکہ بی جے پی کے ووٹ شیئر میں تقریباً اتنی ہی کمی ہوئی تھی۔ 2018 میں کانگریس کا ووٹ شیئرمیں مزید 2 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ بی جے پی کو 4 فیصد زیادہ ووٹ ملے۔ اس سے یہ تصویر صاف ہوجاتی ہے کہ آنے والے 10؍مئی کو عوام کا رجحان کیا ہوگا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ الیکشن سے قبل کرناٹک کے تمام سروے میں کانگریس کو 100 سے 108؍ دی گئی ہیں، لیکن زمینی حقائق اس صورت حال کو کانگریس کے حق میں مزید بہتر ہونے کا اعلان کر رہے ہیں۔

(مضمون میں جو بھی لکھا ہے وہ مضمون نگار کی اپنی رائے ہے اس سے قومی آواز کا متفق ہونا لازمی نہیں ہے)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔