کس بات کا جشن: عوام کی بھوک اور بے بسی کا یا پھر کورونا سے پہوئیں اموات کا؟... م۔ افضل

مودی حکومت اس جشن کے ذریعہ بظاہر یہ بتانے کی کوشش کر رہی ہے کہ پورے چھ برس مودی سرکار جس فرقہ وارانہ ایجنڈے پر کام کرتی رہی ہے وہ آگے بھی اسی ایجنڈے پر کام کرے گی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

م. افضل

کورونا وائرس ملک میں ایک خطرناک شکل اختیارکرچکا ہے، متاثرین کی تعداد جہاں ڈھائی لاکھ کے قریب پہنچ رہی ہے وہیں مرنے والوں کی تعداد بھی 7ہزار کے قریب جاپہنچی ہے دوماہ کے لاک ڈاؤن سے کوئی فائدہ نہیں ہوا نہ تو وبا پر قابو پایا جاسکا اور نہ ہی اسے پھیلنے سے روکا ہی جاسکا ایسے میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سرکار ترجیحی طور پر اپوزیشن پارٹیوں سے مشورہ کرکے آگے کی کوئی بہتر حکمت عملی تیار کرتی مگر افسوس کہ ایسا کرنے کے بجائے سرکار اپنے اقتدار کے 6 برس پورا ہونے کا جشن منا رہی ہے، سوال یہ ہے کہ آخر وہ کس بات کا جشن منارہی ہے عوام کی بھوک یا بے بسی کا یا کورونا سے مرنے والوں کا ؟ سوال تویہ بھی ہے کہ جب پورے ملک میں قیامت صغریٰ کا منظر ہے تو کیا یہ زیب دیتا ہے کہ اس طرح کا جشن منایا جائے دوسرے اس 6 برس کی مدت میں مودی سرکار نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا کہ جس پر وہ فخرکرے یا جسے وہ اپنی کوئی حصولیابی کہہ سکے چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ اس طرح اپنے اقتدار کا جشن منانا سرکار کی سیاسی بے غیرتی اور ہٹ دھرمی کا ایک مظاہرہ ہے اور ایسا کرکے نادانستہ طور پر ایک بار پھر یہ باورکرا دیا ہے کہ لوگوں کی پریشانیوں اور ان کے مسائل سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے بلکہ اس کا اصل مقصد تو اقتدار کی آڑمیں اس خفیہ ایجنڈے کو نافذ کرنا ہے جو آرایس ایس کا دیرینہ خواب ہے شاید یہی وجہ ہے کہ اب یہ کہا جارہا ہے کہ کشمیر سے 370 کی منسوخی، طلاق بل، سی اے اے اور 20 کروڑ کا اقتصادی پیکیج مودی سرکاری کی غیرمعمولی حصولیابی ہے۔

جس طرح ان نام نہاد حصولیابیوں کا ڈھنڈھوڑا پیٹا جارہا ہے اور میڈیا اس کی تشریح میں مصروف ہے اس کے دوسرے پہلوپر بھی غور کیا جانا چاہیے درحقیقت اس طرح کے آمرانہ اور مسلم مخالف فیصلوں کو حصولیابی کا نام دے کر سرکار ایک طرف اگر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی طفلانہ کوشش کررہی ہے تودوسری طرف ان ایشوز کو عوام میں زندہ بھی رکھنا چاہتی ہے، اس جشن کے ذریعہ بظاہر یہ بتانے کی کوشش ہو رہی ہے کہ پورے چھ برس مودی سرکار جس فرقہ وارانہ ایجنڈے پر کام کرتی رہی ہے وہ آگے بھی اسی ایجنڈے پر کام کرے گی چنانچہ کورونا سے پیدا شدہ حالات اور لاک ڈاؤن کو بھی اس نے اپنے لئے ایک موقع میں تبدیل کرلیا ہے اور جو کام وہ سی اے اے کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے درمیان نہیں کرسکی اس لاک ڈاؤن میں پورا کرلیا چن چن کر ایسے لوگوں کو گرفتار کیا جارہا ہے جوکسی نہ کسی حوالہ سے سی اے اے کے خلاف ہونے والے مظاہروں سے جڑے ہوئے تھے افسوس کا مقام تویہ ہے کہ ان میں سے بہت سے طلباء اورسماجی کارکنان کو دہلی فساد سے بھی جوڑ دیا گیا ہے یہ گرفتاریاں دہلی میں ہی نہیں ہوئیں بلکہ جن ریاستوں میں بی جے پی اقتدار میں ہے ایسے لوگوں کو وہاں بھی چن چن کر گرفتار کیا گیا ہے جس میں اترپردیش سرفہرست ہے، ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران ملک بھرمیں اقلیتی فرقہ کے تقریباً چالیس ہزارلوگوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے، کانگریس اور بعض غیر سیاسی تنظیموں نے ان گرفتاریوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے کانگریس نے تویہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ اگر لوگوں کو رہا نہیں کیا گیا تووہ پارلیمنٹ میں اس کے خلاف باقاعدہ تحریک چلائے گی۔

یہ سب کچھ یوں ہی نہیں ہورہا ہے بلکہ منصوبہ بند طریقہ سے ایسا ہو رہا ہے پورے لاک ڈاؤن کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ غائب تھے وہ اس وقت بھی سامنے نہیں آئے کہ جب مزدور سڑکوں پر بھوکے پیاسے دم توڑ رہے تھے اور پولیس انہیں جگہ جگہ جانوروں کی طرح پیٹ رہی تھی، یہاں تک کہ ان کا کوئی بیان تک بھی سامنے نہیں آیا جبکہ سوشل میڈیا پر لوگ مسلسل یہ سوال کررہے تھے کہ اس برے وقت میں امت شاہ کہاں ہیں اورپھر اچانک وہ نمودارہوتے ہیں ایک ساتھ کئی ٹی وی چینلوں پر ان کا انٹرویو دکھایا جاتا ہے جس میں نہ تومزدوروں کی حالت پر بات ہوتی ہے اور نہ ہی کسانوں اورغریبوں کے مسائل پر یہاں تک کہ ملک کی دم توڑتی معیشت پر بھی وہ کچھ نہیں کہتے انٹرویو کے دوران ان گرفتاریوں کے حوالہ سے جب ایک سوال پوچھا جاتا ہے تو وہ آمرانہ لہجہ میں جواب دیتے ہیں کہ کسی کو بھی نہیں بخشا جائے گا ان کے اس جواب سے سرکار کی کرونولوجی کو سمجھا جاسکتا ہے سرکار کی اخلاقی پستی کا عالم یہ ہے کہ جب ملک کے شہری زندگی اورموت کی جنگ لڑ رہے ہیں مودی اورامت شاہ کی جوڑی اپنے نشانہ کو پورا کرنے میں مصروف ہے تاکہ آنے والے دنوں میں ایک بار پھر پولرائزیشن کی سیاست کو تیز کیا جاسکے اس بات کا اعتراف بہرحال کرنا پڑے گا کہ یہ نعروں کی سرکار ہے اس سے پہلے میک ان انڈیا کا نعرہ دیا گیا تھا اور اسے قوم پرستی سے جوڑنے کی کوشش بھی ہوئی تھی کورونا نے میک ان انڈیا کی قلعی کھول دی ہے یہاں تک کہ ہمیں حفاظتی کٹ اور ٹسٹ کے آلات تک باہر سے منگوانے پڑ رہے ہے اور اب خود کفیل بھارت کا نعرہ اچھال دیا گیا ہے، سوال یہ ہے کہ بھارت کو خود کفیل بنائے گا کون؟عوام یا صنعت کار؟ ملک کے عوام اپنی محنت سے اپنا پیٹ بھی بھر رہے ہیں اور ملک کو خوشحال بنانے کی کوشش میں بھی مصروف ہیں جہاں تک صنعت کاروں کا تعلق ہے تو انہیں ملک سے کہیں زیادہ اپنا مفاد عزیز ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو بہت سے سرمایہ دار بینکوں کا پیسہ لیکر ملک سے فرار نہ ہوجاتے اب بات سرکارپر آجاتی ہے، اس کو لیکر سرکار کے پاس نہ توکوئی منصوبہ ہے اورنہ ہی کوئی خاکہ تو کیا فساد کرانے اور لوگوں کو مذہبی طور پر تقسیم کرنے کے فلسفہ سے بھارت کو خود کفیل بنایا جائے گا؟

سرکار ہر محاذ پر ناکام رہی ہے صنعتیں دم توڑ چکی ہیں ملک کا خزانہ خالی ہوچکا ہے، اقتصادی مندی جاری ہے اور خارجہ پالیسی کا عالم یہ ہے کہ بنگلہ دیش اور نیپال جیسے پڑوسی ملک سے بھی ہمارے رشتے خوشگوار نہیں رہے، چین ہماری سرحدوں کے اندر داخل ہوچکا ہے اور آمادہ جنگ ہے، سچی بات یہ ہے کہ ہماری یک رخی خارجہ پالیسی امریکہ کو خوش رکھنے تک محدود رہی اس نے دوسرے ممالک کو ہم سے دورکردیا اور امریکہ بڑی خوبصورتی سے اس کمزوری کا فائدہ اٹھاکر ہمیں اپنے فائدہ کے لئے استعمال کرتا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ سے دوستی کے نتیجہ میں ہمیں اب تک کچھ بھی حاصل نہیں ہوا، اس کے باوجود مودی امریکہ کو اپنے نجات دہندہ کے طورپر دیکھتے ہیں یہاں تک کہ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لئے انہوں نے ملک کے شہریوں کی زندگیاں بھی داؤ پر لگادیں۔

ٹرمپ کتنے طاقتور ہیں اب اس کا بھی بھرم کھل چکا ہے، مودی اورٹرمپ میں منافرت کی سیاست قدر مشترک کے طور پر ہے پچھلے دنوں ایک سیاہ فام کی ہلاکت کے بعد امریکہ میں احتجاج اور عوامی غصہ کا جو نظارہ دیکھنے کو مل رہا ہے وہ حیرت انگیز بھی ہے اور قابل عبرت بھی لوگ نہ صرف برادری اور مذہب سے اوپر اٹھ کر اس واقعہ کی مذمت اور احتجاج کر رہے ہیں بلکہ ٹرمپ کے خلاف ان کا غصہ قابل دید ہے، لوگوں کا وائٹ ہاؤس پر دھاوا اورٹرمپ کا بنکر میں چھپنا امریکیوں کے مجموعی رویہ میں آئی غیر معمولی تبدیلی کا مظہر ہے جو یہ بھی بتا رہا ہے کہ اب امریکہ میں نسلی امتیاز کا رویہ بڑی حدتک ختم ہوچکا ہے، حیرت تویہ ہے کہ اس دوران بھی ٹرمپ نے منافرت کی سیاست کو ہوا دینے اور نسل پرستانہ صف بندی قائم کرنے کی کوشش بھی کی مگر انہیں ناکامی ہوئی، ٹرمپ کی یہ ناکامی پوری دنیا اور خاص طور پر ہندوستان کے لئے ایک بڑاسبق ہے اس سے ایک بار پھر یہ صاف ہوگیا کہ نفرت کی سیاست زیادہ عرصہ تک نہیں چل سکتی لیکن سوال تویہی ہے کہ امریکہ میں ٹرمپ اور ان کے حواریوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اس سے مودی اور شاہ کی جوڑی کوئی سبق حاصل کرے گی کیونکہ ہندوستان میں بھی اب نفرت کی سیاست کا یہی انجام ہوسکتا ہے، اور اس کے خلاف لوگ اسی طرح سڑکوں پر اترسکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا کہ آنے والے دن ملک کی معیشت کے لئے چیلنج بھرے ہوں گے اور اقتصادی مندی اپنے شباب پر ہوگی اس کا احساس کرکے ہی کانگریس لیڈر راہل گاندھی انتباہ کی شکل میں سرکار کو مسلسل مشورہ دے رہے ہیں کہ ملک کے کسانوں مزدوروں اور غریبوں کو یک مشت دس ہزار روپے کی مدد کی جائے بعد ازاں 75 سو کے حساب سے مسلسل چھ ماہ تک ان کے اکاؤنٹ میں پیسے ڈالے جائیں، راہل گاندھی ہوا میں اپنی بات نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ اس کو لیکر وہ ماہرین اقتصادیات سے پہلے ہی مشورہ کرچکے ہیں اس سے یہ ہوگا کہ عام لوگوں کے پاس پیسے آجائیں گے ان کی قوت خرید بڑھے گی تب بازارمیں ڈیمانڈ پیدا ہوگی اس کا براہ راست فائدہ صنعتوں کو ہوگا دوسرے پیسہ چلن میں آئے گا تو معیشت کو رفتار ملے گی مگر ایسا کچھ کرنے کی جگہ ایک بار پھر نفرت اور تقسیم کی سیاست شروع ہوگئی ہے، یہ بات بالکل طے ہے کہ کورونا کے خاتمہ کے بعد دنیا میں سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر ایک بہت بڑی تبدیلی آنے والی ہے یہ تبدیلی مثبت بھی ہوسکتی ہے اور منفی بھی، ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ اس تبدیلی کو ایک مثبت رخ دے کر اسے اپنے حق میں سود مند بنانے کی کوشش کریں لیکن مودی سرکار اس حقیقت سے بے خبر اپنا خفیہ ایجنڈا لاگو کرنے میں مصرروف ہے، ہندوستان جیسے عظیم ملک کے لئے کہ جس کی اکثریت افلاس اور بے روزگاری کا شکار ہے اس بات کو نیک شگون نہیں کہا جاسکتا۔