بیس لاکھ کروڑ: مصیبت کی گھڑی میں ملک کے غریبوں کے ساتھ مودی سرکار کا سنگین مذاق... م۔ افضل

سچ تو یہ ہے کہ مودی سرکار جس طرح کارپوریٹ گھرانوں کے لئے فیاضی کا مظاہرہ کرتی ہے اس کا عشرعشیر بھی ملک کے غریب عوام کے تعلق سے نہیں دکھاتی، پچھلے 6 سال سے یہی ہو رہا ہے

لکھنؤ کے چار باغ اسٹیشن پر مہاجر مزدور
لکھنؤ کے چار باغ اسٹیشن پر مہاجر مزدور
user

م. افضل

کورونا وائرس کے حملہ اور مسلسل لاک ڈاؤن سے ملک کی معیشت دم توڑ رہی ہے غریبوں مزدوروں اور کسانوں کے ساتھ ساتھ متوسط طبقہ کے سامنے بھی مسائل آکھڑے ہوئے ہیں تجارتی سرگرمیوں کی اجازت اور لاک ڈاؤن میں کچھ ڈھیل دے کر گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دینے کی کوشش کی گئی ہے اس کے لئے بہت پہلے سے شراب کی دوکانیں بھی کھولی جاچکی ہیں لیکن ماہرین اقتصادیات کے جو تجزے آرہے ہیں اس سے صاف لگتاہے کہ آئندہ چندماہ میں اقتصادی طورپر ملک میں ایک سنگین بحران آنے والا ہے ایک طرف تو کارخانوں اور بنیادی ڈھانچہ کے شعبہ ہیں کام کرنے والے مزدور ایک ایک کرکے گھروں کولوٹتے جارہے ہیں وہیں عظیم پریم جی یونیورسٹی کے ایک حالیہ سروے میں کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے 67 فیصد مزدور اپنا روزگار کھوچکے ہیں، شہری علاقوں میں جہاں 10میں سے 8مزدوروں کے پاس کام نہیں ہے وہیں دیہی علاقوں میں 10میں 6کے پاس کوئی کام نہیں رہ گیا ہے، پچھلے دنوں وزیراعظم نریندرمودی نے جب ٹی وی پرنمودار ہوکر 20 لاکھ کروڑ کے اقتصادی پیکیج کا اعلان کیا تھا تو ملک کے بھولے بھالے عوم کے دلوں میں امید کی ایک کرن روشن ہوگئی تھی وہ سمجھنے لگے تھے کہ شاید اب ان کے لئے بھی اچھے دن آجائیں گے۔

اعلان کرتے وقت وزیراعظم نے یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ پیسے کہاں سے آئیں گے اور اسے کن کن مدوں میں خرچ کیا جائے گا البتہ دوسرے دن وزیرمالیات نرملاسیتارمن نے جب کمان سنبھالی تو انہوں نے ایک ایک کرکے اس کی تفصیل دی مسلسل پانچ دن تک وہ اس پیکج کو لیکر انہوں نے تقریر کی، لیکن کوئی بھی شخص یہ جاننے سے قاصررہا کہ اس پیکیج میں اگر کوئی راحت جیسی چیز ہے تووہ نظر کیوں نہیں آرہی ہے؟ سیتارمن ایک تیارشدہ اسکرپٹ پڑھتی رہیں اور انہیں سننے والے غالب کا یہ مصرا دہراتے رہے کہ ایک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔ درحقیقت دوسرے جھانسوں کی طرح 20 لاکھ کروڑ کا پیکیج بھی ایک خوبصورت جھانسہ ہے، مودی جی اقتدار میں آنے کے بعد سے یہی توکر رہے ہیں 2014 میں انہوں نے کہا تھا کہ غیر ممالک سے کالادھن واپس لایا جائے گا اور ہرشہری کے کھاتے میں 15لاکھ ڈالے جائیں گے کچھ عرصہ بعد کہہ دیا گیا کہ یہ ایک جملہ تھا اس کے بعد نوٹ بندی ہوئی کہا گیا کہ اب وہ پیسہ باہر آجائے گا جو لوگوں نے چھپا رکھا ہے یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ اس سے دہشت گردی کی کمرٹوٹ جائے گی مگر نہ توسارا پیسہ باہر آیا اور نہ دہشت گردی کی کمر ٹوٹی بلکہ نوٹ بندی سے ملک کی معیشت کو زبردست نقصان پہنچا، یہ پیکج بھی اسی نوعیت کا ایک اعلان ہے اور اس کے ذریعہ عوام کو بڑی خوبصورتی سے دھوکا دینے کی کوشش ہوئی ہے۔

سچائی یہ ہے کہ نرملا سیتارمن نے پانچ روز تک جو کچھ بتایا اس کا ماحصل یہ ہے کہ یہ پیکیج کوئی مدد نہیں بلکہ ایک طرح کا قرض ہے جو مختلف شعبوں میں دیا جائے گا دوسرے جن مدوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کے لئے پچھلے بجٹ میں فنڈ کا اعلان کیا جاچکا ہے مگر اب خوبصورتی سے ان مدوں کو بھی اس پیکیج میں شامل کردیا گیا ہے، اس پیکیج میں سے غریب کلیان یوجنا اورکورونا وائرس کی روک تھام اور اس سے متعلق دوسرے اخراجات کے لئے 2 لاکھ 17ہزارکروڑ چھ قسطوں میں پہلے ہی نکالے جاچکے ہیں، انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس اپنی ایک رپورٹ میں اس کا خلاصہ کرچکا ہے، اس کا صاف مطلب ہے کہ امداد کے نام پر بس اتنی ہی رقم اب تک خرچ کی گئی ہے اور پیکیج میں جو باقی رقم ہے وہ قرض کی صورت لوگوں کو مہیا کی جائے گی۔ لوگوں کو امداد کے نام پرقرض فراہم کیا جائے گا جن میں کسان بھی شامل ہیں۔

اس کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ پیکیج میں سب سے بڑاحصہ بینکوں سے ملنے والا قرض ہے۔ ملک میں 6 کروڑ 30 لاکھ چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتیں ہیں ان میں 45 لاکھ صنعتوں کو 3لاکھ کروڑ کسی گارنٹی کے بغیر قرض دینے کی بات کہی گئی ہے اس سیکٹرکی باقی صنعتوں کے لئے سرکار کا منصوبہ کیا ہے اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے دوسرے اس سیکٹرمیں کام کرنے والے مزدوروں کے مفادات پر سرکار خاموش ہے قابل ذکربات یہ ہے کہ 2019 میں اس سیکٹرکو دیئے گئے مجموعی قرض کا 12.6 فیصد یعنی 2لاکھ 3ہزارکروڑ روپے این پی اے یعنی دیوالیہ ہونے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

پیکیج میں ان 13 کروڑ خاندانوں کے بارے میں کچھ نہیں ہے جو کووڈ-19 پھیلنے کے بعد سب سے زیادہ پریشانی میں ہیں اگر سرکار ان خاندانوں کے اکاؤنٹ میں براہ راست پیسہ بھیج دیتی تو لازمی ہے کہ بازار میں ڈیمانڈ پیدا ہوتی جس کا براہ راست فائدہ صنعتوں کو ہوتا، کانگریس لیڈرراہل گاندھی مسلسل یہ بات کہہ رہے ہیں اور یہ مطالبہ بھی کررہے ہیں کہ غریب خاندانوں کو اس وقت نقد مدد کی ضرورت ہے اگر ان کے کھاتوں میں فی کس 75سو روپے بھیج دیئے جائیں تو ان کے حالات کسی قدربہتر ہوسکتے ہیں مگر سرکارنے ان کی بات پر کوئی توجہ نہیں دی معیشت کا ایک آسان سا اصول ہے کہ اگر لوگوں میں قوت خرید بڑھے گی تو اس سے چیزوں کی مانگ میں اضافہ ہوگا اور قوت خرید اسی وقت بڑھ سکتی ہے جب لوگوں کے پاس پیسہ ہو۔ ملازمین کے پی ایف کے لئے سرکارنے 25 سوکروڑ کا اس پیکج میں نظم کیا مگر ان کے بھتوں پر وہ پہلے ہی قینچی چلاچکی یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ راشن کارڈ ہویا نہ ہو 8 کروڑ غیر مقامی مزدوروں کو پانچ کیلو اناج اور ایک کیلو دال مفت دی جائے گا اس کے لئے 20 لاکھ کروڑمیں سے 35سوکروڑروپے مختص کئے گئے ہیں۔

حال یہ ہے کہ اپریل ماہ میں 19کروڑخاندانوں کو ایک کیلودال فی کس دی جانی تھی مگر صارفین امورکی وزارت کے مطابق مجموعی طورپر 15فیصد خاندانوں کو ہی اس کا فائدہ ملا ہے جب کہ وزیرمالیات اس کو لیکر یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ ایک ہزار ٹن سے زیادہ دال تقسیم کی جاچکی ہے، منریگا کو لیکر بھی اعلانات کیے گئے ہیں اور اس کے لئے پیکج میں فنڈ کا اضافہ کیا گیا ہے یہ وہی منریگا ہے جس کی بین الاقوامی سطح پر ستائش ہوتی رہی ہے اور اقتدارمیں آتے ہی مودی جی اس کا تمسخر اڑا چکے ہیں، مگر اب اسی منریگا کا سہارا لیکر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے ملک میں کل 7کروڑ 60 لاکھ منریگا مزدور ہیں مگرمارچ میں صرف ایک کروڑ60 لاکھ مزدوروں کو ہی روزگار ملا ہے جبکہ اپریل میں محض 30لاکھ لوگوں کوہی روزگارمل سکا ہے، جیسا کہ اوپر آچکا ہے کہ 67فیصد مزدور بے روزگار ہوچکے ہیں ایسے میں منریگا اسکیم ان کے لئے لائف لائن بن سکتی ہے مگر اس اسکیم کو لیکر سرکار قطعی سنجیدہ نہیں ہے۔

سال 20-21 کے بجٹ میں درمیانی اور کمزوردرجہ کے کسانوں کو قرض دینے کے لئے 90 ہزار کروڑ مخصوص کیے گئے تھے اور اب 20لاکھ کروڑ میں اس کے لئے 30 ہزارکروڑ مزید افاضہ کیا گیا ہے اس کے ساتھ ہی اس زمرے کے 3کروڑ کسانوں کے لئے 4لاکھ کروڑکا فصلی قرض مہیاکرانے کی بات کہی گئی ہے اعدادوشمارکے مطابق ملک کے کل کسانوں میں 12کروڑ30لاکھ کسان ایسے ہیں جن کے پاس 2ہکٹیئرسے بھی کم زراعتی زمینیں ہیں یہی لوگ قرض سے دبے ہوئے ہیں کانگریس کی جہاں جہاں سرکاریں ہیں کسانوں کا قرض معاف کیا جاچکاہے مگر دوسری ریاستوںمیں کانگریس کے لگاتارمطالبہ کے باوجود کسانوں کاقرض معاف نہیں ہواہے ایسے میں کیا وہ مزید قرض لینے کا وہ حوصلہ کرسکتے ہیں ؟ بالکل نہیں بلکہ موجودہ حالات میں انہیں مالی مددکی سخت ضرورت ہے جس کا مطالبہ راہل گاندھی باربارکررہے ہیں مگر افسوس کسی طرح کی مددکی جگہ ان کے لئے پیکیج میں قرض کااہتمام کیاگیا ہے ، یوں بھی اگراس پیکج میں گنجائش نہیں تھی تو پی ایم کیئرسے ہی ملک کے 12کروڑمنجھولے کسانوں کے کھاتوںمیں پیسے ڈالے جاسکتے تھے اس سے پہلے بھگوڑوں کا قرض سرکارمعاف ہی کرچکی ہے کمپنیوں کے ٹیکس کی شرح بھی 30گھٹاکر 20فیصدکرچکی ہے اس سے سرکاری خزانہ کو جتنا نقصان ہورہا ہے اس سے بھی کم پیسے میں غریب خاندانوں اورکسانوں کی مدد ہوسکتی تھی۔

مودی جی کے اعلان کے فریب میں آکر غریب لوگ بینکوں میں جن دھن کھاتے پہلے ہی کھلوا چکے ہیں جن کی تعداد 38 کروڑکے آس پاس ہے ان میں کسانوں کے بھی کھاتے ہیں اب اگر ان جن دھن کھاتوں میں ہی فی کس ایک ہزارروپے تین ماہ تک ڈال دیئے جاتے تو غریبوں اورکسانوں کی مدد ہوسکتی تھی دوسرے یہی پیسہ لوٹ کر بازار میں آجاتا تواس سے صنعتوں کو فائدہ مل سکتا تھا اورملک کی گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا بھی دیا جاسکتا تھا مگر اس کی جگہ 20 ہزار کروڑ کی شکل میں مودی سرکار قرض کا تحفہ لیکر آگئی سچ تو یہ ہے کہ مودی سرکار جس طرح کارپوریٹ گھرانوں کے لئے فیاضی کا مظاہرہ کرتی ہے اس کا عشرعشیر بھی ملک کے غریب عوام کے تعلق سے نہیں دکھاتی، پچھلے 6 سال سے یہی ہورہا ہے کانگریس صدرسونیا گاندھی نے گزشتہ دنوں اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ پہلی آن لائن میٹنگ میں مودی سرکارکے تعلق سے تبصرہ کیا ہے وہ بالکل درست ہے انہوں نے کہا کہ سرکارنے خود کے جمہوری ہونے کا دکھاوا کرنا بھی چھوڑ دیا ہے اس کے دل میں غریبوں اورمزدوروں کو لیکر کوئی درد اور ہمدردی نہیں ہے اور 20کروڑ کا اقتصادی پیکیج ملک کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے۔