مودی سرکار کو سونیا اور راہل گاندھی کے قیمتی مشورے... م۔ افضل

لاک ڈاؤن کے بعد بے روزگاری کی شرح میں زبردست اضافہ، 12 کروڑ لوگ ہوچکے ہیں بے روزگار

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

م. افضل

کورونا وائرس کے حملہ کے بعد ملک میں غیر منظم طریقہ سے کیے گئے لاک ڈاؤن کے خطرناک اثرات اب سامنے آنے لگے ہیں جو حالات پیدا ہوچکے ہیں ان میں عام لوگ تو کسی طرح زندگی کی گاڑی کو کھینچ رہے ہیں لیکن وہ مزدور طبقہ جس کی محنت اور پسینہ سے ملک کی ترقی کی عبارت لکھی جاتی ہے وہ گھر لوٹنے کی فکر میں بھوکا پیاسا سڑکوں پر دم توڑ رہا ہے، کوئی اس کا پرسان حال نہیں نہ سرکار اور نہ مالکان۔ اس کو لیکر ہوئی تنقید کے بعد بعض شہروں سے مزدوروں کو ان کے گھروں تک پہنچانے کی کوشش تو ہوئی ہے مگر اب بھی ان کی ایک بڑی تعداد گھر لوٹنے کی تگ ودو میں مصروف ہے ایسے میں جب کچھ لوگوں کا صبر ٹوٹتا ہے تو وہ اپنے گھروں کے لئے پیدل نکل پرتے ہیں جن میں بعض گھر پہنچنے سے قبل ہی لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

اورنگ آباد سانحہ اس کی افسوسناک مثال ہے اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان غریب مزدوروں کولیکر سرکار نہ فکرمند ہے اور نہ ہی اس کے پا س کوئی واضح پالیسی ہے حالانکہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کے بعد سرکار کچھ حرکت میں آئی ضرور ہے مگر دوسرے معاملوں کی طرح اس معاملہ میں بھی سرکار بے حسی اور غیر انسانی رویہ کا مظاہرہ کر رہی ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ ریلوے نے جب مزدوروں کے لئے کچھ ٹرینوں کا انتظام کیا تو مزدوروں سے نہ صرف کرایہ لیا گیا بلکہ جن کے پاس کرایہ نہیں تھا انہیں واپس کردیا گیا اس موقع پر کانگریس صدرسونیا گاندھی نے انسانیت نوازی کی مثال پیش کرتے ہوئے ہوئے اعلان کیا کہ سرکار مزدوروں کے لئے گاڑیوں کا انتظام کرے ان کا کرایہ اگر سرکار نہیں دے سکتی تو کانگریس کی ریاستی اکائیاں کرایہ اداکریں گی اس اعلان سے سرکارمیں بھگدڑمچ گئی اور فوراً یہ بیان سامنے آیا کہ مزدوروں کا 85 فیصد کرایہ ریلوے ادا کر رہا ہے اور 15 فیصد ریاستوں کے ذمہ ہیں، لیکن بعد میں بھی جن مزدوروں کو ٹرینوں سے بھیجا گیا ان سے کرایہ لیا گیا ہے اس کا اعتراف خود مزدورں نے کیا ہے اور اس کے ثبوت میں انہوں نے اپنے ٹکٹ بھی دکھائے ہیں یہ باتیں بعض ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا پر آچکی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے آج کے یہ حکمراں سیاسی اخلاق سے بھی عاری ہوچکے ہیں چنانچہ کسی معاملہ پر اپوزیشن اگر کچھ کہتا تو فوراً یہ لوگ ایک سیاسی جملہ کی گردان شروع کردیتے ہیں کہ اپوزیشن پارٹیاں سیاست کر رہی ہیں، پھر الکٹرانک میڈیا اس بات کو لے اڑتا ہے، اس طرح اصل معاملہ پس منظرمیں چلا جاتا ہے سونیا گاندھی نے غریب طبقوں کی مالی مدد کی بات بھی کہی ہے۔

اس سے زیادہ مایوس کن بات تو یہ ہے کہ مودی سرکار حالات کی سنگینی کو سمجھنے کی کوئی کوشش نہیں کر رہی ہے اس کے پاس موجودہ حالات سے نمٹنے کا کوئی لائحہ عمل ہے اور نہ ہی مستقبل کے لئے کوئی ایکشن پلان، جبکہ ملک کی معیشت دم توڑ رہی ہے، اکنامکس ٹائمس کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے چیف اقتصادی مشیر کے وی سبرامنیم نے اپنے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی یعنی اپریل سے جون تک کی مدت میں مجموعی گھریلو پیداوار یعنی جی ڈی پی میں کمی آئے گی اور پورے سال شرح نمو دو فیصد تک رہ سکتی ہے اس سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ آنے والے دن کتنے خطرناک ہوسکتے ہیں، ایک دوسرے مشہور اخبار میں چھپی رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران دی گئی کچھ رعایتوں کے بعد فیکٹریاں تو کھل گئی ہیں لیکن ابھی ان میں 20 سے 30 فیصد ملازمین ہی کام کر رہے ہیں، ایسے میں پیداوار بڑھانے میں دو سے تین ماہ کا وقت لگ سکتاہے۔

یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ آنے والے وقتوں میں بہت سی چیزیں عدم دستیاب ہوسکتی ہیں اور اگر دستیاب ہوں گی بھی تو مانگ سے بہت کم، ایسے میں کالابازاری کو شہ مل سکتی ہے پھر یہ بھی ہے کہ قوت خرید کا معاملہ سیدھے طور پر آمدنی سے جڑا ہے آمدنی ہوگی تو لوگ چیزیں خریں گے، نہیں ہوگی تو چاہتے ہوئے بھی لوگ خریداری سے دور رہیں گے، لاک ڈاؤن کو جلد ہی دوماہ پورے ہوجائیں گے تمام تر سرگرمیاں بند ہیں لوگ گھروں میں قید ہیں سرکاری ملازمین کی بات دوسری ہے لیکن پرائیویٹ سیکٹرمیں کام کرنے والوں کی آمدنی بند ہوچکی ہے سرکارنے اعلان تو کر دیا کہ مالکان ملازمین کو پوری تنخواہ دیں لیکن پچھلے ماہ بعض اداروں اور کمپنیوں نے ملازمین کو آدھی تنخواہ دی اور یہ بھی کہہ دیا کہ آئندہ ادارہ آدھی تنخواہ دینے سے بھی قاصر رہے گا اب ذرا تصور کریں کہ یہ صورت حال کچھ دن اور برقرار رہی تو کیا ہوگا؟ مزدور طبقہ تو فاقوں سے مرہی جائے گا ملک کا متوسط طبقہ بھی زندگی اور موت کے مرحلہ میں داخل ہوچکا ہوگا۔ حالات کس قدر دھماکہ خیز ہوتے جا رہے ہیں اس کا کچھ کچھ اندازہ سینٹرفار مانیٹر نگ اکنامی کی تازہ رپوٹ سے لگایا جاسکتا، جس میں واضح طور سے کہا گیا ہے کہ 24 ؍مارچ سے جاری لاک ڈاون کی وجہ سے ملک میں بے روزگاری کی شرح میں زبردست اضافہ ہوچکا ہے اور اب تک 12 کروڑ سے زیادہ لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں۔

رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ بے روزگاری کی شرح 27 فیصد سے اوپر جاپہنچی ہے، ہندی کے مشہور اخبار نوبھارت ٹائمس نے 5؍مارچ کو ایک اداریہ لکھا ہے جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ خلیجی ممالک میں رہ رہے تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی شہریوں کے سامنے بھی بے روزگارہونے کا خطرہ آکھڑا ہوا ہے اور اب وہ وطن لوٹ نا چاہتے ہیں اخبار کے مطابق ان کی وطن واپسی کا عمل شروع ہوچکا ہے اس کے لئے آن لائن رجسٹریشن کروایا جا رہا ہے ان میں 40 فیصد مزدور ہیں جبکہ پروفیشنل کی تعداد 25فیصد ہے اخبار یہ بھی لکھتا ہے کہ اس کا اثرہندوستان کو بھیجی جانے والی 50 ارب ڈالر کی کمائی پر پڑے گا جو ہندوستان کے لئے ایک بڑا اقتصادی جھٹکا ہوسکتاہے۔

حال ہی میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ایک پریس کانفریس کی ہے جس میں انہوں نے جہاں سرکار کو کچھ اچھے مشورے دیئے ہیں وہیں کچھ بنیادی سوال بھی اٹھائے ہیں، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مزدوروں اور غریب طبقات کو آج پیسوں کی سخت ضرورت ہے اس لئے ان کے اکاونٹ میں 7500 فی کس امدادی رقم ڈالی جانی چاہیے اس کے ساتھ ہی اسمال اور میڈیم انڈسٹری کو بھی فوری مدد کی ضرورت ہے کیونکہ یہ چھوٹی صنعتیں سب سے زیادہ روزگارفراہم کرتی ہے اگر ان کی مدد نہ کی گئی تو ملک میں بے روزگاری کی سونامی آسکتی ہے، راہل گاندھی نے کہا کہ ملک کے غریب خاندانوں کو فوری امداد کی ضرورت ہے وہ ہماری نصف آبادی کا احاطہ کرتے ہیں اور اگر انہیں مالی امداد فراہم کی جاتی ہے تو ایک طرف جہاں ان کے لئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست ہوجائے گا وہیں اس پیسے کے بازار میں آجانے سے معیشیت کو سہارا ملے گا، انہوں نے گارنٹی روزگار منصوبہ کو فوری لاگو کرنے اور اسے 100 سے بڑھا کر دوسو دن کرنے کا مشورہ بھی دیا اور یہ بھی کہا کہ پی ڈی ایم اسکیم کے دائرہ سے بارہ رہ گئے 11 کروڑ خاندانوں کو بھی خوردنی اشیاء مہیا کرائی جائے، اس کے ساتھ ساتھ کسانوں کے کھاتوں میں بھی دس ہزار روپے ڈالے جائیں، راہل گاندھی نے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے پی ایم کیئر فنڈ پر نہ صرف سوال اٹھا بلکہ یہ بھی کہا کہ اس کا آڈٹ ہونا چاہیے تاکہ عوام کو یہ معلوم ہوکہ اب تک اس فنڈ میں کتنے پیسے آئے اور اسے کس طرح خرچ کیا جارہا ہے؟

خبریں تو یہ آرہی ہے کہ پی ایم کیئر فنڈ سے قرضوں کی ادائے گی ہو رہی ہے حالانکہ دعوی کیا گیا تھا کہ اس سے کورونا وائرس سے متاثر ہوئے لوگوں کی نگہداشت اور طبی آلات و دیگر ضروری سازوسامان خریدے جائیں گے۔ اور اب تو آر ٹی آئی سے یہ انکشاف بھی ہوچکا ہے کہ نیرومودی اور دوسرے بھگوڑوں کا قرض آر بی آئی معاف کرچکا ہے، ظاہر ہے سرکار کی ہدایت پر ہی اس نے ایسا کیا ہوگا، ممبئی آئی ٹی کے اس دفترمیں آگ بھی لگ چکی ہے جہاں نیرومودی اور دوسرے بھگوڑوں سے متعلق کاغذات رکھے تھے، موجودہ حالات کے تناظرمیں راہل گاندھی کے مشوروں کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے اگر ان پر عمل ہوجائے توملک کے غریب عوام کو بھوک سے مرنے سے بچایا جاسکتا ہے اور ملک کی دم توڑتی معیشت کو نئی زندگی بھی دی جاسکتی ہے، لیکن میں جانتا ہوں کہ سرکار ان مشوروں کو کوئی اہمیت نہیں دے گا، لیکن کیا اس سے سچائیوں کوجھٹلایا جاسکتاہے ؟ کہتے ہیں کہ صحرا میں طوفان آتا دیکھ کر شترمرغ اپنا منہ ریت کے ڈھیرمیں چھپا لیتا ہے مگر اس کے ایسا کرنے سے طوفان رکتا نہیں اب وقت آگیا ہے کہ سرکار ہوش کے ناخن لے اپوزیشن پارٹیوں کو اعتماد میں لیکر کورونا وائرس سے پیدا ہوئی صورت حال میں ملک کی معیشت کو واپس پٹری پر لانے کے لئے فوری ایکشن پلان تیارکرے ورنہ کل تک بہت دیر ہوچکی ہوگی نفرت کی سیاست کرکے اور ہندووں اور مسلمانوں کو آپس میں بانٹ دینے سے ان مسائل کا حل نہیں نکل سکتا بلکہ ان کاحل تعمیری سوچ سے ہی نکل سکتا ہے، مگر افسوس وزیراعظم نریندرمودی اوران کے ہمنواؤں میں اس کا فقدان ہے مگر اب پروپیگنڈے اور دوسروں پر الزام تراشی سے کام نہیں چلنے والا نریندرمودی جی کے لئے اگنی پرکشا کا وقت آ پہنچا ہے۔