انقلاب میرٹھ : 10 مئی 1857، پہلی جنگ آزادی کی 163ویں سالگرہ کے موقع پر

میر ٹھ سے اڑی انقلاب کی اندھی نے طوفان کی ایسی شکل اختیار کی جس کی زد میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے مضبوط ایوان سوکھے پتوں کی طرح لرزتے نظر آئے

 انقلاب میرٹھ: 10 مئی 1857
انقلاب میرٹھ: 10 مئی 1857
user

قومی آوازبیورو

ڈاکٹر محمد شاہد صدیقی (علیگ)

عشق آباد یعنی میرٹھ جسے عروس الاحرار اور تغیر آزادی جیسے اعزازی القاب سے بھی پکارا جاتا ہے، تاریخ عالم انقلاب کا جب بھی تذکرہ ہوگا وہاں میرٹھ کا نام زریں الفاظ سے درج ہوا ضرور نظر آئے گا۔ میرٹھ جسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ملک میں کئی صدی پرانی تجارتی ایسٹ انڈیا کمپنی کی مضبوط عمارت کی بنیاد کو کھودنے کا کام کیا، لیکن یہ سب اچانک نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے ان تمام عظیم مجاہدین کی حکمت عملی کارفرما رہی جنہوں نے اپنی طائرانہ نظروں سے مغلیہ سلطنت کے سفینہ کو ہچکولے کھاتے دیکھ کر احساس کرلیا کہ وطن عزیز پر بیرونی تجارتی کمپنی اپنا تسلط قائم کرنے کا خواب دیکھ رہی ہے، چنانچہ تاجران فرنگ کے ناپاک منصوبے سے عوام کو باخبر کرنے کے لئے سید احمد شہید کی مخلص سرفروش ٹولی نکل پڑی تھی، جنہوں نے اثنائے راہ میرٹھ میں اپنا پڑاؤ ڈال کرغفلت زدہ عوام کو جھنجوڑا اور یہاں ایک وہابی مرکز قائم کیا، جو خاموشی سے اپنے مقصد پر عمل پیرا ہوگیا۔

دریں اثنا مالیسن کے مطابق چپاتی کے موجد اور پہلی جنگ آزادی کے روح رواں مولوی احمداللہ شاہ نے بھی 1857ء کے آخری ایام میں کچھ عرصہ ٹھہر کر دیسی سپاہیوں کو سیاسی آزادی کے بارے میں وعظ دیا، ان کے بعد نانا صاحب اور ان کے مشیر عظیم اللہ ما رچ یا اپریل1857ء میں میرٹھ آئے تھے اور اہلیان میرٹھ اور دیسی سپاہیوں سے آزادی کی مہم کو آگے بڑھانے کے لئے سر پہ کفن باندھنے کی اپیل کی، لیکن وطن پرستی سے سرشار دیسی سپاہیوں نے انگریز وں سے پہلے ان کے مخبروں کو سبق سکھانے کے لئے مہم چھیڑ دی، جس کا پہلا شکار برج موہن ہوا، جس کی جھونپڑی مورخہ13؍ اپریل کی رات کو آگ کے حوالے کردی گئی، کیونکہ وہ دیسی سپاہیوں کی ہر خبر اپنے اعلیٰ افسران کو دیتا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ کرنل اسمتھ کی ناک کا بال بن گیا تھا۔ بموجب اس کی جھونپڑی کو دوبارہ 23؍اپریل کی رات کو بھی آگ کے حوالے کیا گیا۔ دیسی رجمنٹ11؍نمبر کے افسر اعلیٰ والی خاں نے بھی انگریزی افسر کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ کارتوس داخل اسٹور کردئیے جائیں مگر برطانوی حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی، الٹے انگریز افسر نے اس کو برا بھلا کہا۔

دریں اثنا 23؍اپریل 1857ء کی شب میں ملٹری میس میں ایک خفیہ میٹنگ ہوئی جس میں پیر علی اور قدرت علی نے دیسی مسلم فوجیوں کو قرآن مجید اورہندو سپاہ کو گنگا جل پر حلف دلایا کہ وہ مذہب کو خطرے میں ڈالنے والے چربی لگے کارتوسوں کا استعمال نہیں کریں گے، جس کا ردعمل 24؍فروری 1857 کو نظر آیا، جب بعض سپاہیوں نے انگریزی حکومت کے اس قدم کے خلاف مظاہرہ کیا۔ کارمائیکل اسمتھ کی موجودگی میں پہلے شیخ پیرعلی (نائک) اور پھر قدرت (نائک) نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ اگر ساری رجمنٹ لے لی گی تب وہ بھی لیں گے۔ ان کے علاوہ یکے بعد دیگرے 85 سپاہیوں نے بھی کارتوس چھونے سے منع کردیا تو اسے فوجی افسر کرنل اسمتھ نے حکم عدولی سے تعبیر کیا۔

قابل غور بات ہے کہ جب 6؍مئی کو برٹش افسر نے 90؍دیسی سپاہیوں سے چربی لگے کارتوس کو چیک کرنے کی ضد کی تو 85 سپاہیوں نے کارتوسوں کو چھونے تک سے انکار کردیا، جن میں سے 49؍مسلمان اور 36 ہندو تھے۔ مگر جن پانچ دیسی سپاہیوں کو کارتوسوں کے استعمال کرنے میں کوئی قباعت محسوس نہ ہوئی ان میں برج موہن سنگھ پیش پیش تھا۔

برطانوی افسران نے معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کے لئے دیسی حکام پرمشتمل فوجی عدالت تشکیل دے دی۔ 9؍مئی کی صبح کو کورٹ مارشل کے حکم کی تعمیل ہوئی، انگریزی اعلیٰ افسران نے اپنے پرانے فرمابردار سپاہیوں کے ساتھ جو ذلت آمیز اور سفاکیت کا برتاؤ کیا، اسے دیکھ کردیگر دیسی سپاہ پر سکوت طاری ہوگیا مگر خون کے آنسو رونے کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ وہ چاہ کر بھی انگریز حکام کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے تھے۔ ان سپاہیوں کو وکٹوریہ پارک کے قید خانہ میں ڈال دیا گیا۔ پورے شہر میں اس شرمناک واقعہ کی اطلاع آگ کی طرح پھیل گئی۔ جب دیسی سپاہی شام کو سیر وتفریح کے لئے صدر بازار گئے تو ان کو دیکھ کر طوائفوں نے طعنہ زنی کی جس نے ان کے زخموں پر نمک پاشی کا کام کیا۔ اب جنگ آزادی کی متعین تا ریخ 31؍مئی کا انتظار کرنا مشکل ہوگیا۔ دریں اثنا میرٹھ کے جہادی مرکز نے بھی فوراً سپاہیوں کی اس بے عزتی کا بدلہ لینے کے لئے شہر میں جگہ جگہ اشتہار تقسیم اور چسپاں کردیئے۔ دوپہر تک یہ خبر شہریان کے بیچ پھیل گئی کہ آج کسی بھی وقت دیسی سپاہ انقلاب کا پرچم بلند کردیں گے البتہ انگریز افسران نے اس اطلاع پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا، کیونکہ پورے ملک میں میرٹھ ہی وہ شہر تھا جہاں سے انہیں بغاوت کی کوئی امید نہیں تھی کیونکہ اس وقت میرٹھ چھاؤنی کا شمار سب سے مضبوط چھاؤنیوں میں ہوتا تھا۔

بہرکیف تقربیاً شام 5؍بجے صدر بازار میں یہ افواہ پھیل گئی کہ یورپین فوجیں ہندوستانی فوجوں کو ننگا کرنے آرہی ہیں۔ جسے سن کر بازار میں بھگ دڑ مچ گئی۔ حالات نے اتنی تیزی سے کروٹ بدلی کہ انگریزوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے مگر اس کے باوجود کرنل فینس(Col.Finnis) بغاوت پر اتارو سپاہیوں کو سمجھانے کے لئے آگے بڑھا۔ ان سے کہا کہ یورپین فوج ان کے ہتھیار چھیننے نہیں آرہی ہے اور کارتوس بھی وہی پرانے ہیں جنہیں گھی سے چکنا کیا گیا ہے۔ جسے سن کر بغاوت پر اتارو رجمنٹ اپنے قدم پچھے کھینچنے لگی لیکن کمپنی کو ملک سے باہرنکالنے کا مصمم ارادہ کرنے والے جانباز شیخ امیراللہ اور قادر بخش موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتے تھے، لہٰذا انہوں نے20؍ویں دیسی پیدل فوج کے اپنے ساتھیوں سے 11؍ویں پلٹن کی جانب ہوا میں گولیاں چلانے کو کہا۔ بغاوت میں چلنے والی یہ پہلی گولی تھی۔ اس کی آواز سن کرکرنل فینش 20؍رجمنٹ کی طرف بغیر ہتھیار ہی گیا اس نے انہیں بھی سمجھانے کی کوشش کی لیکن 20؍ویں پلٹن نے اس کی باتوں پر دھیان دئیے بغیر اسے وہاں سے جانے کو کہا، لیکن وہ پھر بھی انہیں سمجھانے کے لئے کوشاں رہا کیونکہ اس کا پیام اجل آچکا تھا۔

11؍ویں پلٹن کے حولدار پرتی سنگھ نے اسے چلے جانے کے لئے مجبور کیا۔ اسی بیچ اسے ایک گولی لگی وہ زخمی ہوگیا تو اس پر گولیوں کی بوچھار ہوگئی۔ کرنل فنیش کے ہلاک ہونے کے بعد پورا منظر ہی بدل گیا۔ اسی بیچ تیسری کو لیری کے سپا ہی وکٹوریہ پارک پرانے جیل خانے کی طرف تیزی سے روانہ ہوگئے۔ ہاتھوں میں بندوقیں اور برہنہ تلواریں لئے ہوئے بہ آواز بلند ’’باباؤں یہ جنگ مذہب کے خلاف ہے جو ہمارے ساتھ آنا چاہے آجائے۔ تیزی سے جیل خانہ پر پہنچ کر دھاوا بول کر 85؍ سپاہوں کو چھڑا لیا، لیکن ان اعلیٰ طینت انقلابیوں نے نہ تو جیل خانہ کے افسروں کوستایا اور نہ کسی انگریز پر ہاتھ اٹھایا۔ 85 فوجیوں کوجیل سے چھڑا کرشاہ پیرؔ صاحب کے تاریخی مقبرے پر پاوؤں کی بیڑیاں کاٹی گئیں، بیڑیاں کٹنے کے بعد سپاہیوں کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں شہر کے لوگوں نے روزہ افطار کیا۔ علاوہ ازیں بوعلی شاہ جو شاہ پیر گیٹ چوکی پر دیوان تھا اور مولوی منشی عبدالرحیم انصاری جو میرٹھ میں مختار عدالت تھے دونوں نے اہم رول ادا کیا۔ شاہ پیر گیٹ سے نوچندی میدان تا حدنظر سرہی سر نظر آرہے تھے۔ تھے یکایک کپتان ڈیرکؔ اسلحہ سے لیس ایک فوجی دستہ لئے بلند شہر اور گلاؤ ٹھی روڑپر نمودار ہوا اور ہجوم پر فائرنگ کردی۔ اس سانحہ کے بعد حر یت پسندوں کی بھیڑ منتشر ہو گئی۔ تحصیل، عدالتوں اور انتظامیہ کے دفاتر کو آگ لگادی گئی۔

اسوسی ایٹ کوتوال صدر دھن سنگھ نے انگریزی راج سدا کے لئے ختم کر دو کے لئے تمام انقلابیوں کو آج نہیں تو کبھی نہیں کے فلسفہ پر عمل کرنے کی پوری چھوٹ دے دی، مگر تمام آزادی کے دیوانوں کی ایک حسرت ابھی باقی تھی کہ جلد از جلد ہندوستان سے ایسٹ انڈیا کمپنی کی بالادستی ختم ہو، چنانچہ سپاہیوں اور عوام کے ’’دلّی چلو‘‘کے فلک شگاف نعروں سے فضا گونج اٹھی۔ ان باغی سپاہیوں نے مصلحتاً دلّی قومی شاہراہ کو چھوڑ قیصرگنج کی پرانی جیل کے سامنے سے رواد گڑ ے سے نکل کر پانچلی سیوال ہوتے ہوئے اپنی منزل مقصود کی جانب روانہ ہوگئے۔ ادھر علی الصباح ایک بار پھر شہری اور دیہاتی وطن پرستوں نے نئی اور پرانے جیل خانہ پر دھاوا بول دیا۔ جس میں شاہجہاں پور کے رحیم خاںؔ افغان، عبداللہؔ تلنگی، امیر خاںؔ اور پیر جیؔ الہٰی بخش بھی شامل تھے، پیر جیؔ الہٰی بخش نے قیصر گنج جیل کا تالا اپنی بندوق کے فائر سے توڑا تھا۔ جیل کے سارے دستاویز و ریکارڈ کو آگ کے حوالے کر دیئے اور وہ قیدی بھی انگریزی چنگل سے آزاد ہوتے ہی انقلابیوں کے لشکر سے جا ملے۔ اب میرٹھ میں بلا توقف دھڑ پکڑ کا سلسلہ شروع ہوا۔ انگریز حکام نے 11؍مئی 1857کو بائیس حریت پسندوں کو نوچندی کے میدان میں پھانسی دے دی جن میں سید عالمؔ علی اور سید شبیرؔ علی صاحبان بھی شامل تھے۔

انگریزوں کے جو بنگلے کل تک گل و گلزا ر تھے و ہ اب راکھ کے ڈھیر بن چکے تھے۔ ان میں کئی روزتک دھواں اٹھتا رہا، چاروں طرف انگریزوں کی لاشیں بکھری ہوئیں پڑی تھیں۔ میر ٹھ سے اڑی انقلاب کی اندھی نے طوفان کی ایسی شکل اختیار کی جس کی زد میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے مضبوط ایوان سوکھے پتوں کی طرح لرزتے نظر آئے کاش اگر اس موقع پر انگریزوں کے بہی خواہ نفس بہ نفس ساتھ نہ دیتے تو...

Published: 10 May 2020, 4:11 PM