امریکہ: اور راج کرے گی خلق خدا، جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو… ظفر آغا

آخر اس سیاہ فام افریقی جارج فلائیڈ کا خون ناحق صرف اس پولس افسر کے کف قاتل پر ہی نہیں بلکہ خود امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور امریکی نسل پرست نظام پر ایک بدنما داغ بن کر جم گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ظفر آغا

کچھ بھی ہو خون ناحق آخر رنگ لاتا ہی ہے۔ اگر خون ناحق بے وجہ بہِے گا تو انصاف میں دیر تو ہو سکتی ہے، لیکن ایک نہ ایک دن وہ جما ہوا خون سر چڑھ کر بولے گا۔ یہی سبب ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے امریکہ میں بلیک امریکی جارج فلائیڈ کا خون ناحق امریکہ کی نسل پرستی کے خلاف سر چڑھ کر بول رہا ہے، اور اس پس منظر میں مجھے ساحر لدھیانوی کی ایک نظم کے یہ ابتدائیہ مصرعے بے حد یاد آ رہے ہیں جو پیش خدمت ہیں:

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

خاک صحرا پہ جمے یا کف قاتل پہ جمے

فرق انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے

تیغ بیداد پہ یا لاشہ بسمل پہ جمے

خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

آخر اس سیاہ فام افریقی امریکی جارج فلائیڈ کا خون ناحق صرف اس پولس افسر کے کف قاتل پر ہی نہیں بلکہ خود امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور امریکی نسل پرست نظام پر ایک بدنما داغ بن کر جم گیا۔ اور اب وہی خون پورے امریکہ کی سڑکوں پر صرف ایک بے گناہ کی موت کا انصاف ہی نہیں مانگ رہا ہے بلکہ جارج فلائیڈ کے خلاف ہونے والا ظلم تو اب ایک انقلاب بن چکا ہے جو پوری نسل پرست نظام کے خلاف کھڑا ہے۔ جی ہاں، ان دنوں امریکہ میں چل رہی 'بلیک لائف میٹرس' تحریک اب صرف ایک تحریک ہی نہیں بلکہ ایک انقلاب بن چکی ہے۔ صدیوں سے امریکہ کی سفید نسل پرست گوروں کی وہ قوم جو افریقی امریکیوں کو اپنا غلام سمجھتی رہی ہے، اس وقت 'سیاہ غصے' کی آندھی کے نشانے پر وہ پوری نسل پرستی کا نظام ہے۔ اس وقت امریکی سماج اور نظام میں گوروں اور افریقی امریکی کے درمیان جیسی شغاف پیدا ہو گئی ہے۔ ایسا بٹوارا ان دونوں کے درمیان پہلے کبھی امریکہ کی سڑکوں پر نظر نہیں آیا۔ اور اس بار مانگ محض یہ نہیں ہے کہ جارج فلائیڈ کو مارنے والے کو سزا ملے بلکہ اب تو تحریک یہ ہے کہ امریکہ میں نسل پرستی پر مبنی پورے نظام کا خاتمہ ہو۔

لیکن یہ کوئی معمولی مانگ نہیں ہے۔ کیونکہ محض امریکہ میں ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں گوروں نے صدیوں سے نسل پرستی کا جو غلبہ قائم کر رکھا ہے، اس تبدیلی سے وہ پوری 'سفید سپرمیسی' ہی ختم ہو سکتی ہے۔ کیونکہ سائنس اور ٹیکنالوجی پر مبنی دنیا میں جو انڈسٹریل انقلاب بپا ہوا اس پر گوروں اور بالخصوص انگلینڈ کی گوری اینگلو سلیکن قوم نے اپنی اجارہ داری قائم کر پہلے تقریباً ساری دنیا کو اپنا غلام بنا لیا۔ آخر جب بیسویں صدی میں دوسری جنگ عظیم کے بعد ہندوستان سمیت دنیا بھر میں آزادی کی تحریکیں کمایاب ہوئیں تو اسی اینگلو سلیکن گوری قوم نے امریکہ کو اپنا اڈہ بنا کر ایک نیا نظام قائم کیا جو دنیا پر تب سے اب تک حاوی ہے۔ اگر امریکہ میں گوری نسل پرستی کو خطرہ لاحق ہے تو بس یوں سمجھیے کہ دنیا بھر میں امریکی دبدبے کو خطرہ ہے۔

سفید نسل پرستی پر مبنی نظام اس بات کو بخوبی سمجھ رہا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس نسل پرستی کے کھلے علمبردار اور وہاں کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کالوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ لیکن دوسری جانب سیاہ فام امریکی اور وہاں کے انصاف پسند خود گورے نوجوان سڑکوں پر ڈٹے ہیں اور ٹرمپ کی ہر دھمکی کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ اور ان دونوں کے درمیان اس وقت جو رن پڑا ہے اس کا فیصلہ نومبر میں امریکہ کے صدارتی چناؤ کے نتائج کے ساتھ ہوگا۔ نومبر میں ہونے والے انتخابات ٹرمپ اور بائیڈن کے خلاف ایک چناؤ نہیں بلکہ دنیا سے نسل پرستی کے خاتمے کی ایک رسہ کشی بن گئے ہیں۔ تب ہی تو ڈونالڈ ٹرمپ کھل کر کالوں کو قانون کے نام پر دھمکی دے رہے ہیں۔ لیکن دوسری جانب انصاف پسند قوتیں بھی اس شد و مد سے اپنی لڑائی لڑ رہی ہیں کہ وہ وہائٹ ہاؤس کے دروازے تک پہنچ گئیں۔ اور نوبت یہ آئی کہ پچھلے ہفتے ٹرمپ کو وہاں کی سیکورٹی نے اس انقلابی مجمع کے درمیان سے کسی طرح گھیر کر سٹرک پار کر ڈالی۔ ذرا سوچیے امریکہ جیسا دنیا کا سب سے طاقتور ملک جو جب چاہے افغانستان اور عراق جیسے ملک کو اپنے پیروں تلے روند دے اس ملک کا صدر اس قدر مجبور اور لاچار ہو جائے کہ انقلابیوں کے مجمع میں پولس ان کو بچا کر سڑک پار کروائے۔

خیر اب سوال یہ ہے کہ نومبر میں ہونے والے امریکی انتخاب کیا رنگ دکھائیں گے! یہ سوال اب اس وقت دنیا کی تمام انصاف پرست عوام کا سوال بن چکا ہے۔ ایک بات بہت واضح ہے کہ جیسے ہندوستان میں نریندر مودی ہندو اکثریت کا ووٹ بی جے پی کے پرچم تلے مسلم منافرت اور پاکستان کے خلاف منافرت پھیلا کر کامیاب ہوتے ہیں، ڈونالڈ ٹرمپ بھی ویسے ہی اس سیاہ اور انصاف پرست عوام کے انقلاب کے خلاف گوروں میں کالوں کے خلاف نفرت کا سیلاب پھیلا کر اپنا چناؤ جیتنے میں کامیاب ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سطحی طور پر تو یہ حکمت عملی ٹرمپ کے حق میں کامیاب ہونی چاہیے، کیونکہ اب بھی امریکہ میں گوروں کی اکثریت ہے اور اگر وہ کالوں کے خطرے کے نام پر اکٹھا ہو کر ٹرمپ کے حق میں ووٹ ڈالتی ہے تو پھر فتح ٹرمپ کی ہی ہوگی۔

لیکن بات اتنی سیدھی اور آسان نہیں ہے۔ ٹرمپ کے پچھلے چار برسوں کے دور میں امریکی سماج میں بہت کچھ فرق بھی آ گیا ہے۔ جس طرح ٹرمپ نے ان چار سالوں میں گوری نسل پرستی، اسلام دشمنی، کالوں کے خلاف مظالم اور لیٹن امریکہ اور دنیا بھر سے آنے والے مہاجرین کے خلاف جو نفرت کا سیلاب بپا کیا ہے اس سے ان تمام نسل پرستی کے خالف گروہوں میں ایک اتحاد پیدا ہو چکا ہے۔ پھر خود جیسے ہندوستان میں پوری کی پوری ہندو آبادی تو مودی کو ووٹ نہیں دیتی ہے، ویسے ہی گوروں میں انصاف پسند اور خصوصاً گورے نوجوان بھی اب ٹرمپ کے خلاف ہیں۔ اگر یہ تمام گروہ نومبر میں باقی تمام نااتفاقیوں کو بھلا کر ٹرمپ کو ہرانے کے لیے متحد ہو کر ووٹ ڈالتے ہیں تو نومبر کے چناؤ ویسے ہی ثابت ہو سکتے ہیں جیسے کہ دہلی اسمبلی چناؤ ثابت ہوئے تھے جن میں کیجریوال جیتے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ڈیموکریٹک پارٹی کے نمائندے جو بائیڈن وہاں کے اروند کیجریوال ثابت ہوتے ہیں کہ نہیں۔ اور اگر ایسا ہو گیا تو سمجھیے کہ یہ ایک عالمی انقلاب ہوگا۔ کیونکہ اس کے بعد نہ صرف امریکہ میں نسل پرستی کے خاتمے کی شروعات ہوگی بلکہ ہندوستان میں منواد مخالف قوتوں اور عرب دنیا میں شاہی نظام مخالف قوتوں کو بھی قوت ملے گی۔ اور جیسے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں ایک نیا دور شروع ہوا تھا، ویسے ہی امریکمہ سمیت ساری دنیا میں انسانی آزادی کے ایک نئے دور کی شروعات ہوگی۔

اس وقت امریکہ میں گوروں کی نسل پرستی اور کالوں کی انصاف پسند تحریک کے درمیان جو جدوجہد ہو رہی ہے وہ ایک تاریخی جدوجہد ہے۔ اور ان ہی مواقع کے لیے فیض احمد فیض نے لکھا تھا؟

اٹھے گا انالحق کا نعرہ

جو میں بھی ہوں اور تم بھی

اور راج کرے گی خلق خدا

جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

تو کیا امریکہ میں خلق خدا کے راج کا وقت آ رہا ہے!