بی جے پی کی ریاستی شاخوں میں بغاوت جیسے آثار... سہیل انجم

ریاستی لیڈر جو پہلے مودی شاہ کے اشارۂ ابرو پر چپ ہو جایا کرتے تھے اب کھل کر بول رہے ہیں اور انھیں اس کی پروا نہیں ہے کہ ان کا بولنا ان کے لیے نقصاندہ ہو سکتا ہے۔

بی جے پی کے صدر جے پی نڈا / تصویر یو این آئی
بی جے پی کے صدر جے پی نڈا / تصویر یو این آئی
user

سہیل انجم

سال 2014 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد جب مرکز میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی تھی تو اس کے بعد اس وقت کے بی جے پی صدر امت شاہ نے ایک بار بولتے ہوئے یہ ڈینگ ہانکی تھی کہ ہم بیس سال تک راج کرنے آئے ہیں۔ اس سے پہلے ہمیں کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس قسم کے خیالات و رجحانات جمہوریت کی روح کے منافی ہیں۔ کیونکہ جمہوریت میں جہاں حکومت عوام کے ذریعے منتخب کی جاتی ہے کوئی ایسا دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ بیس سال تک راج کرنے کے لیے آیا ہے۔ راج کرنا اور ایک منتخب حکومت چلانا دونوں میں فرق ہے۔ راج کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ آپ راجہ ہیں اور عوام آپ کی پرجا۔ جبکہ جمہوریت میں کوئی راجہ نہیں ہوتا۔ جس کے ہاتھ میں اقتدار کی باگ ڈور ہے وہ عوام کا خادم ہوتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ سیاست ایک ایسا کھیل ہے جس میں کب کون بازی مار لے گا اور کون چت ہو جائے گا کہا نہیں جا سکتا۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔ یہاں آمریت یا ڈکٹیٹرشپ نہیں ہے کہ آپ جب تک چاہیں حکومت کریں۔ یہاں ہر پانچ سال کے بعد الیکشن ہوتا ہے اور آپ کو سرکار میں رکھنا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ عوام کرتے ہیں نہ کہ کوئی سیاسی پارٹی۔ سیاست میں کب کس کا سورج غروب ہو جائے اور کس کا نصف النہار پر چمکنے لگے کہا نہیں جا سکتا۔ کیا نریندر مودی کو کبھی اس کا خیال آیا ہوگا کہ وہ ملک کے وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ یا امت شاہ کو اس کا خیال آیا ہوگا کہ وہ جو ایک زمانے میں تڑی پار تھے جن پر گجرات میں داخلے پر پابندی عاید تھی اور جو جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہ چکے تھے، ملک کے دوسرے طاقتور لیڈر بن جائیں گے۔ یہ تو سیاسی حالات نے ایسی کروٹ لی کہ قسمت کی دیوی نے مودی اور شاہ کی جانب دیکھ کر مسکرانا شروع کر دیا۔


2014 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد بی جے پی پر مودی شاہ کی زبردست گرفت بن گئی تھی۔ 2019 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد بھی یہ گرفت قائم رہی۔ پارٹی میں وہی ہوتا تھا جو مودی شاہ کی جوڑی چاہتی تھی۔ ان دونوں کی مرضی کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں کھڑکتا تھا۔ ایل کے آڈوانی اور مرلی منوہر جوشی جیسے اپنے زمانے کے سیاہ و سفید کے مالکوں کو اس طرح کنارے لگا دیا گیا کہ اب لوگوں نے انھیں فراموش کر دیا ہے۔ لیکن اب حالات رفتہ رفتہ بدل رہے ہیں۔ پارٹی پر مودی شاہ کی گرفت کمزور سے کمزور ہوتی جا رہی ہے اور بی جے پی میں بھی حالات ایسے بنتے جا رہے ہیں جن کے آگے پارٹی اعلیٰ کمان اور بالخصوص مودی اور شاہ بے بس نظر آنے لگے ہیں۔ اس وقت کئی ریاستوں میں پارٹی کے اندر جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے۔ گروہ بندی عروج پر ہے اور اسے سلجھانے میں نہ تو بی جے پی اعلیٰ کمان کامیاب ہو رہا ہے اور نہ ہی اس کا نظریاتی سرپرست آر ایس ایس۔

لوگوں نے دیکھا کہ کس طرح اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ کو چار ماہ کے اندر ہی بدلنا پڑا۔ اس ریاست میں پہلے سے ہی گروپ بازی چل رہی ہے۔ اس گروپ بازی کے سبب ہی سابق وزیر اعلیٰ ترویندر سنگھ راوت کو ہٹا کر ان کی جگہ پر تیرتھ سنگھ راوت کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا۔ لیکن اعلیٰ کمان کا یہ حربہ کامیاب نہیں ہوا۔ تیرتھ سنگھ راوت کے زمانے میں یہ گروپ بازی اور بڑھ گئی۔ اس کے علاوہ وہ ایسے متنازعہ بیانات دیتے رہے جس سے پارٹی کی کرکری ہوتی رہی۔ گروپ بازی کی وجہ سے ہی اب پشکر سنگھ دھامی کو وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بٹھایا گیا ہے۔ دھامی کوئی سینئر لیڈر نہیں ہیں۔ وہ دو بار کے رکن اسمبلی ہیں۔ البتہ آر ایس ایس میں اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔


اترپردیش میں گزشتہ دنوں جو کچھ ہوا وہ عوام سے مخفی نہیں ہے۔ جب 2017 میں اسمبلی انتخابات کے بعد ریاست میں بی جے پی کی حکومت بننے والی تھی تو ایک ہندوتوا وادی امیج رکھنے کی وجہ سے یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیر اعلیٰ کا منصب سونپا گیا تھا۔ ساڑھے چار سال تک مرکزی قیادت اور ریاستی قیادت میں ہم آہنگی رہی اور مودی شاہ کے احکامات پر عمل ہوتا رہا۔ لیکن جب نریندر مودی نے گجرات کیڈر کے سابق آئی اے ایس افسر اور اپنے قریبی اے کے شرما کو ریاست میں بھیجا اور انھیں نائب وزیر اعلیٰ بنانا چاہا تو یوگی نے بغاوت کر دی۔ کئی دنوں تک دہلی اور لکھنؤ میں جنگ جاری رہی۔ بالآخر مودی شاہ کی جوڑی کو پسپائی اختیار کرنی پڑی اور یوگی کے سامنے اپنی ہار مان لینی پڑی۔ اب وہی اے کے شرما جنھیں مودی نائب وزیر اعلیٰ بنانا چاہتے تھے ریاستی بی جے پی کے نائب صدور میں سے ایک نائب صدر ہیں۔ یعنی یو پی میں یوگی کے سامنے مودی اور شاہ کی ایک نہیں چلی۔ اس کا اثر آنے والے اسمبلی الیکشن اور اس کے بعد کے سیاسی حالات پر بھی پڑے گا۔

مدھیہ پردیش میں جہاں بی جے پی نے جوڑ توڑ کرکے حکومت بنا لی ہے گروپ بازی نے اعلیٰ کمان کو پریشان کر رکھا ہے۔ داموہ کے ضمنی الیکشن میں بی جے پی کی شکست ہوئی ہے۔ ریاستی صدر وی ڈی شرما اور وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان الگ الگ خیموں کی نمائندگی کرتے ہیں اور دونوں میں چشمک چلتی رہتی ہے۔ وہاں مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر اور نروتم مشرا وزیر اعلیٰ بننے کے خواہشمند ہیں۔ ادھر جیوترادتیہ سندھیا کا الگ خیمہ ہے۔ وہ کانگریس سے بی جے پی میں گئے ہیں۔ لہٰذا ان کی اور ان کے پیروکاروں کی الگ خواہشات ہیں۔


کرناٹک میں وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا نے اعلیٰ کمان کو پریشان کر رکھا ہے۔ دہلی کی قیادت ان کو ہٹانا چاہتی ہے لیکن وہ ایسا کر نہیں پا رہی ہے۔ کئی برس قبل جب انھیں ہٹایا گیا تھا تو انھوں نے الگ پارٹی بنا لی تھی جس سے بی جے پی کو شدید نقصان ہوا تھا۔ وہاں بھی ریاستی یونٹ میں خیمہ بندی ہے اور دونوں خیمے ایک دوسرے کے خلاف کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔ دہلی کی قیادت اس گروپ بازی کو ختم کرانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن ناکام ہے۔ مودی اور شاہ یدی یورپا کو وزیر اعلیٰ بنائے رکھنے پر مجبور ہیں۔

راجستھان میں اگر چہ بی جے پی کی حکومت نہیں ہے لیکن وہاں بھی گروپ بازی جم کر ہو رہی ہے۔ وہاں سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے کا ایک خیمہ ہے تو گجیندر شیخاوت کا دوسرا خیمہ ہے۔ بی جے پی نے جس طرح مدھیہ پردیش اور کرناٹک میں جوڑ توڑ کرکے کانگریس کی حکومتیں گرا دیں اسی طرح وہ راجستھان میں اشوک گہلوت کی حکومت گرانا چاہتی ہے۔ بی جے پی کی مرکزی قیادت نے گجیندر شیخاوت کی مدد سے اس کی کوشش بھی کی، لیکن وسندھرا راجے کا خیمہ اس کے لیے تیار نہیں ہوا۔ وہ نہیں چاہتا کہ ریاست میں کانگریس کی حکومت گرائی جائے۔ کیونکہ اس سے ان کو کوئی سیاسی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ان کے مخالف گروپ کو ہوگا۔


مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی دوبارہ شاندار کامیابی نے ریاستی بی جے پی میں بغاوت کو اور ابھار دیا ہے۔ ریاست کی روایتی قیادت اور ٹی ایم سی سے بی جے پی میں جانے والے لیڈروں کے درمیان جوتم پیزار جاری ہے۔ مکل رائے ٹی ایم سی میں واپس جا چکے ہیں۔ دوسرے کئی بی جے پی لیڈر بھی جانے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ سابق گورنر اور بی جے پی لیڈر تتھاگت رائے بنگال کے بی جے پی انچارج کیلاش وجے ورگیہ کے خلاف بیانات دیتے رہتے ہیں۔ وہ مسلسل انھیں اپنا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ہریانہ میں وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر اور وزیر داخلہ انل وج کے الگ الگ خیمے ہیں۔ دونوں میں زبردست اختلافات ہیں۔ وہاں طاقت کے دو مراکز قائم ہیں۔ ایک کی قیادت کھٹر کرتے ہیں تو دوسرے کی انل وج کرتے ہیں۔ بعض اوقات انل وج بالکل باغیانہ تیور میں نظر آتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے ساتھ ان کی لڑائی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ پارٹی اعلیٰ کمان نے کئی بار ان دونوں کی لڑائی ختم کرانے کی کوشش کی مگر کامیابی نہیں ملی۔ دونوں دھڑوں کے اپنے اپنے مفادات ہیں اور مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے وہاں بھی جوتیوں میں ڈال بٹ رہی ہے۔


اسی طرح تری پورہ، کیرالہ اور مہاراشٹر میں بھی ریاستی بی جے پی میں دھڑے بندی ہے۔ بی جے پی کے موجودہ صدر جے پی نڈا پارٹی پر اس طرح اپنی گرفت نہیں رکھ پا رہے ہیں جیسی کہ امت شاہ کی تھی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نریندر مودی اور امت شاہ ریاستی بی جے پی شاخوں میں جاری لڑائی کو ختم کرانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں۔ وہ ریاستی لیڈر جو پہلے مودی شاہ کے اشارۂ ابرو پر چپ ہو جایا کرتے تھے اب کھل کر بول رہے ہیں اور انھیں اس کی پروا نہیں ہے کہ ان کا بولنا ان کے لیے نقصاندہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ان کو بھی معلوم ہے کہ اب مرکزی قیادت پہلے کے مانند مضبوط نہیں رہ گئی ہے۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ بی جے پی کی ریاستی شاخوں میں بغاوت جیسے آثار ہیں اور اس کا اثر آئندہ سال پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات پر بھی ضرور پڑے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔