میرٹھ میں کچھ ہی گھنٹوں کے دوران مبینہ غیرت کے نام پر تین افراد کا قتل

سلیم کو قتل کرنے کے بعد محسن نے مقامی باشندوں کو فلمی انداز میں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی اس کی بہن اور کنبہ کی عزت سے کھیلے گا اس کا یہی انجام ہوگا

غیرت کے نام پر قتل / تصویر آس محمد
غیرت کے نام پر قتل / تصویر آس محمد
user

آس محمد کیف

میرٹھ: ملک کے دارالحکومت دہلی کے قریب مغربی اتر پردیش کے ضلع میرٹھ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مبینہ غیرت کے نام پر تین افراد کو قتل کرنے کے سنسنی خیز واقعات پیش آئے ہیں۔ یہ واقعات مختلف مقامات پر پیش آئے ہیں۔ قتل ہونے والوں میں سے ایک لڑکی کی عمر صرف 15 سال ہے، جبکہ ایک نوجوان کی عمر 20 سال ہے۔ ایک واقعہ تھانہ کھرکھودا کے گاؤں باغولی میں پیش آیا، جس میں دونوں لڑکے لڑکی کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ ملزم نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ میرٹھ شہر کے علاقے بھوسا منڈی میں ایک دوسرا واقعہ پیش آیا ہے۔ یہاں بہن سے دوستی سے ناراض ہو کر ایک بھائی نے لڑکے کو اس کے گھر جاکر قتل کر دیا۔ ان دونوں واقعات نے میرٹھ میں ایک سنسنی پیدا کر دی ہے اور محبت کرنے والوں میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔


معلومات کے مطابق، پہلا واقعہ شہر کے بھوسا منڈی کا ہے جو صبح چار بجے پیش آیا۔ یہاں 22 سال کے نوجوان سلیم کو اس کے گھر پر قتل کیا گیا۔ سلیم کے کنبہ کے افراد کے مطابق صبح چار بجے کے قریب ہمسایہ محلہ مچھیران کا محسن مقتول کے گھر پر آ کر گالی گلوچ کرنے لگا۔ جب سلیم گھر سے باہر نکلا تو محسن نے کہا کہ اس کی بہن سے دور رہے، اس کے بعد ہونے والی کہا سنی میں محسن نے پہلے سلیم کو تھپڑ مارا اور پھر اس کے سینے میں گولی اتار دی۔

اس کے بعد محسن نے مقامی باشندوں کو فلمی انداز میں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی اس کی بہن اور کنبہ کی عزت سے کھیلے گا اس کا یہی انجام ہوگا! صدر بازار انسپکٹر بجندر سنگھ رانا نے بتایا ہے مقتول سلیم کے اہل خانہ نے ملزم محسن کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرا دیا ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ محسن اس سے پہلے بھی سلیم کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا تھا۔


اس کے چند گھنٹوں بعد میرٹھ میں ایک اور سنسنی خیز واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ ہاپور روڈ پر میرٹھ شہر سے 15 کلومیٹر دور واقع باغولی گاؤں میں پیش آیا۔ یہ گاؤں کھرکھودا پولیس اسٹیشن کے تحت آتا ہے۔ یہاں کے 45 سالہ تحسین نے 20 سالہ عارف کو گولی مار کر قتل کر دیا، جو گاؤں کی مسجد میں نماز پڑھنے کے بعد باہر نکل رہا تھا۔ تحسین نے عارف کو دو گولیاں ماریں اور یقینی بنایا کہ وہ مر گیا ہے۔ اس کے بعد وہ گھر گیا اور اپنی 15 سالہ بیٹی کو بھی گولی مار دی۔ تحسین نے اپنی بیٹی کے سینے میں بھی دو گولیاں ماریں۔ قتل کا ارتکاب کرنے کے بعد تحسین نے گاؤں کے لوگوں کے سامنے چیخ چیخ کر کہا کہ اس کی دو اور بیٹیاں ہیں اور وہ نہیں چاہتا ہے کہ وہ غلط راہ پر چلیں، وہ انہیں سبق دے رہا ہے۔ اس کی عزت خراب ہو رہی تھی۔ تحسین اپنی بیٹی کو اس لڑکے کے ساتھ دیکھے جانے سے آگ بگولہ تھا۔ اس کے لئے اس نے 2500 روپے میں طمنچہ خریدا اور اس واقعے کو انجام دینے کے بعد خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

میرٹھ میں کچھ گھنٹوں کے عرصہ میں ان واقعات کی وجہ سے خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ بیس سالہ مہلوک عارف حال ہی میں تبلیغی جماعت سے واپس آیا تھا اور لاک ڈاؤن میں اپنی تعلیم سے محروم ہو گیا تھا۔ ان دونوں واقعات میں قتل کا ارتکاب کرنے کے بعد ملزمان نے پڑوسیوں کو متنبہ کیا کہ وہ یہ سب اپنی عزت کی خاطر کر رہے ہیں۔


میرٹھ کے وکیل ظفر منصوری کے مطابق یہ ایک انتہائی تکلیف دہ واقعہ ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ لڑکی کی عمر صرف 15 سال ہے وہ ابھی پوری طرح سمجھ دار بھی نہیں ہوئی تھی۔ اس کا قتل نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ ملزمان اپنی شان بگھار رہے ہیں، یہ ایک گھناؤنا جرم ہے۔

میرٹھ کی سماجی کارکن ناہید فاطمہ کے مطابق، یہ بہت ہی خوفناک واقعے ہیں اور اس کا معاشرے پر بہت برا اثر پڑنے والا ہے۔ یہ جنون ہے اور قاتل سول سوسائٹی میں رہنے کے مستحق نہیں ہیں۔ آج کے دور میں جب مرد اور خواتین ایک ساتھ کام کر رہے ہیں تو لڑکا-لڑکی کو ملنے کی پاداش میں ان کو کیسے مارا جاسکتا ہے! ملزموں کو سخت سزا دی جانی چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔