بہار: کانگریس ہی موردِ الزام کیوں؟... اعظم شہاب

جے ڈی یو کو کم سیٹیں حاصل کرنے کے بعد بھی این ڈی اے کی بیساکھی مل گئی ہے۔ لیکن اس بیساکھی کے سہارے خرگوش و کچھوے کا ساتھ کہاں تک رہتا ہے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

اعظم شہاب

زیادہ کچھ نہیں لیکن کم از کم ہمارا قومی میڈیا دیش کو یہ بھی تو بتائے کہ بہار الیکشن میں صرف کانگریس کی ہی نہیں ہے بلکہ جے ڈی یو، آرجے ڈی، ایل جے پی کی بھی سیٹیں بھی کم ہوئی ہیں۔ اور اگر بی جے پی چراغ کے نیچے کے اندھیر ے کو مزید نہیں بڑھاتی تو بہت ممکن تھا کہ جے ڈی یو اور بی جے پی اوپر نیچے کے پائیدانوں پر رہتے۔ لیکن اگر یہ باتیں ہمارا قومی میڈیا ہمیں بتانے لگے، اس طرح کے تجزیاتی رپورٹیں دکھانے لگے تو پھر لوگ باگ اسے گودی میڈیا ہی کیوں کہتے۔ یہ باتیں بتاکر وہ اپنے خداوندوں کو ناراض تھوڑی نا کرنا چاہے گی۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ اس طرح کی رپورٹیں سوشل میڈیا پر اسی طرح تیر رہی ہیں جس طرح آئی ٹی سیل پر مودی کی لہر تیرتی ہے۔ ان رپورٹوں سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس بار کے الیکشن میں بی جے پی 74 سیٹیں جیت کر بھی کس طرح ناکام ثبات ہوئی ہے اور کانگریس کو 8سیٹوں کے نقصان کے باوجود کس طرح سے فائدہ ہوا ہے۔ آئیے انہیں رپورٹوں کی بنیاد پر ہم بھی کچھ حقائق کا آموختہ دوہراتے ہیں۔

کانگریس و بی جے پی کی سیٹوں کی کمی و زیادتی کا موازنہ 2015 کے انتخابات سے کیا جا رہا ہے کیونکہ اس الیکشن میں بی جے پی نے 53 سیٹیں حاصل کی تھیں جو اس بار 74 تک ہوگئیں۔ کانگریس نے گزشتہ الیکشن میں 27 سیٹیں حاصل کی تھیں جو کم ہوکر 19ہوگئی ہیں۔ لیکن اگر سیٹوں کی کمی زیادتی کی بنیاد پر ہی ان پارٹیوں کی کامیابی وناکامی کو ناپا جائے تو پھر 2010 کے انتخابات کے نتائج کیا برے ہیں؟ اس پر بھی ایک نگاہ ڈال لینی چاہیے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی جے پی کی کامیابی پر بغلیں بجانے والوں کو کیا اس بات کا علم نہیں ہے کہ 2010 کے انتخابات میں بی جے پی نے جے ڈی یو کے ساتھ مل کر 102سیٹوں پر انتخاب لڑا تھا، جس میں اس کو 91 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں اور جے ڈی یو 141سیٹوں پر لڑکر 115سیٹوں پر کامیاب ہوئی تھی؟ بی جے پی کو اس الیکشن میں 36 اور جے ڈی یو کو27 سیٹوں کا فائدہ ہوا تھا۔ اس الیکشن میں این ڈی اے کو کسی پردھان سیوک کا بھی سہارا نہیں تھا۔ اس کے بعد 2015 میں جو انتخابات ہوئے، اس میں اسے تو پردھان سیوک کا اسے بھرپور سہارا تھا، ملک میں ہرجانب مودی لہر کی دھوم تھی اور ابھی مرکز میں این ڈی اے کا حکومتی نشہ بھی تازہ تھا۔ ان سب کے باوجود 2015 کے انتخاب میں بی جے پی کو ریاست کی عوام نے بھرپور پٹخنی دی تھی اور اس کی سیٹیں 91 سے کم ہوکر 53 ہوگئی تھیں۔

اسی طرح 2015 کے انتخاب میں کانگریس جس کے پاس 2010 کے انتخاب میں کل 4 سیٹیں ہی تھیں، اس نے 27 سیٹیں حاصل کرلی تھیں۔ اور یہ کامیابی اسے اس صورت میں حاصل ہوئی تھی کہ ہمارے پردھان سیوک جی اور شاہ صاحب ملک میں ہرجانب کانگریس مکت کا نعرہ لگا رہے تھے۔ اس الیکشن میں کانگریس کو 23 سیٹوں کا فائدہ ہوا تھا۔ آر جے ڈی جس کے پاس 2010 میں 22 سیٹیں تھیں، وہ 2015 میں بڑھ کر 80 ہوگئی تھیں اور جے ڈی یو جس کے پاس 115سیٹیں تھیں، وہ کم ہوکر 71 ہوگئی تھیں۔ اس بار کے الیکشن میں اگر بی جے پی کو حاصل شدہ 74سیٹوں کا موازنہ 2010 کے 91 سیٹوں سے کیا جائے تو یہ بات بلا تردد کہی جاسکتی ہے کہ بی جے پی اپنی مرکزی حکومت، پردھان سیوک کی مقبولیت(خودساختہ)، تفتیشی ایجنسیوں اور بے تحاشا پیسوں اور وسائل کے باوجود 2010 والے الیکشن والی کامیابی بھی حاصل نہیں کرسکی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس الیکشن میں بھلے ہی بی جے پی اور جے ڈی یو حکومت سازی کی تیاری کر رہی ہوں، مگر سچائی یہ ہے کہ ان کی یہ کامیابی گزشتہ انتخابات میں حاصل شدہ سیٹوں کے مقابلے میں کم ہے۔

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صرف کانگریس پر ہی نیوز چینل کے یوددھاؤں کا نزلہ کیوں اتر رہا ہے؟ تو اس کا واضح جواب یہی ہے کہ اس کے ذریعے کانگریس کی حوصلہ شکنی مطلوب ہے کہ وہ پہلے کی حاصل شدہ سیٹوں پر بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔ جبکہ سچائی یہ ہے کہ اگر کانگریس کو حاصل شدہ ووٹ شیئر سے اس کی مقبولیت طے کی جائے تو کانگریس بہرحال ایک کامیاب پارٹی قرار پائے گی۔ ایک دلچسپ بات یہ بھی دیکھی جارہی ہے کہ کانگریس پر کم سیٹیں حاصل کرنے کا لعن طعن کرنے والے جے ڈی یو، ایل جے پی ودیگر پارٹیوں کو بھول جاتے ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ جے ڈی یو کو کم سیٹیں حاصل کرنے کے بعد بھی این ڈی اے کی بیساکھی مل گئی ہے۔ لیکن اس بیساکھی کے سہارے خرگوش وکچھوے کا ساتھ کہاں تک رہتا ہے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا، کیونکہ بہار چانکیائی ذہنیت کے لیے بڑی ذرخیز ریاست مانی جاتی ہے۔

next