بہار اسمبلی انتخاب: کیا ووٹر اس بار بھی بی جے پی کے جھانسے کو ٹھینگا دکھائیں گے؟

کیا نتیش کمار کے گاؤں میں اِنڈور شوٹنگ رینج اب بھی ہے؟ کیا 2015 کے مقابلے ووٹرس زیادہ غصے میں ہیں؟ اور کیا گزشتہ انتخاب کے برعکس بی جے پی کو اس بار دوہری اقتدار مخالف لہر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے؟

2015 اسمبلی انتخاب کے دوران بہار میں لگے پوسٹر
2015 اسمبلی انتخاب کے دوران بہار میں لگے پوسٹر
user

اتم سین گپتا

میں پانچ سال قبل 2015 میں مشکل سے تین دن بہار میں تھا، تبھی مجھے واپس لوٹنا پڑا کیونکہ میری بیوی کو ڈینگو ہو گیا تھا۔ حالانکہ دیگر لوگوں کی طرح میں بھی بہار جانے کا خواہشمند نہیں تھا کیونکہ دوسروں کی طرح مجھے بھی لگتا تھا کہ بی جے پی اور نریندر مودی بہار انتخاب جیت رہے ہیں۔ لیکن صرف تین دن کے دورہ نے میری آنکھیں کھول دی تھیں۔ اور اب پانچ سال بعد یہ سوال سامنے ہے کہ کیا بہار بی جے پی کے جھانسے میں نہیں آئے گا۔

2015 میں جن تین دنوں کے لیے میں بہار میں تھا، اس میں سے ایک دن وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے گاؤں کلیان بیگھا بھی گیا تھا تاکہ ماحول کا اندازہ لگا سکوں۔ اگلے دن میں نے نتیش کمار کی ایک ریلی کو دیکھا اور تیسرے دن میں واپس دہلی آ گیا تھا۔ گاؤں میں بھلے ہی نتیش کمار کا پشتینی گھر مخدوش حالت میں تھا، لیکن گاؤں میں آئی تبدیلی صاف نظر آ رہی تھی۔ کم از کم چار پختہ راستے گاؤں کی سبھی سمت میں بنے ہوئے تھے۔ ایک پانی کی اونچی ٹنکی تھی، ٹیوب ویل تھے اور ترقی کے مزید کئی نشانات نظر آ رہے تھے۔ گاؤں کے پرائمری ہیلتھ سنٹر میں ایک ایمبولنس بھی تھی اور دواؤں کا اسٹاک بھی۔ ہیلتھ سنٹر کے زچہ بچہ وارڈ میں تین حاملہ خواتین داخل تھیں۔ اسکول ٹیچر بھی تھے اور طلبا بھی۔ یہ بات الگ ہے کہ جب میں نے ایک طالب علم سے پوچھا کہ وہ کون سا سبجیکٹ پڑھتا ہے تو وہ مجھے حیرت سے دیکھ کر یہ بول کر بھاگ گیا کہ اس کے پیٹ میں درد ہے۔

مجھے جس چیز نے سب سے زیادہ حیران کیا وہ بھی گاؤں کے اندر بنی ایک اِنڈور شوٹنگ رینج تھی۔ جب مجھے کسی نے اس کے بارے میں بتایا تو میں وہاں جانے کا خواہاں ہوا۔ وہاں حالانکہ اس وقت کوئی نہیں تھا لیکن گاؤں والوں نے کسی کو پیغام بھیجا اور جلد ہی کوئی وہاں کی چابیاں لے کر آ گیا۔ یہ بالکل صاف ستھری انڈور شوٹنگ رینج تھی۔ الماریوں میں ائیر رائفل اور پستول وغیرہ رکھے ہوئے تھے۔ گاؤں نے اس کا ڈیمو نہ دے پانے کے لیے معافی بھی مانگی، کیونکہ جن الماریوں میں شوٹنگ کے لیے گولیاں رکھی تھیں ان کی چابیاں کوچ اور انسٹرکٹر کے پاس رہتی تھیں، اور وہ کہیں گئے ہوئے تھے۔

مجھے تقریباً یقین ہے کہ وہ شوٹنگ کلب بند ہو گیا ہوگا۔ شوٹنگ ایک مہنگا کھیل ہے اور بہار کے ایک گاؤں میں اسے فروغ دینے کا کوئی مطلب مجھے سمجھ نہیں آتا۔ لیکن اس سے ایک بات صاف ہو گئی کہ بہار میں سرکاری پیسہ کس طرح خرچ ہو رہا تھا جو کہ کہیں اور خرچ ہونا چاہیے تھا۔

بیشتر سیاسی لیڈروں کے لیے تعمیر کرانا ہی ترقی ہے اور ساتھ ہی اس سے اس کام کا ٹھیکہ دینے میں اپنے لیے اور پارٹی کے لیے پیسہ بنانے کا موقع بھی مل جاتا ہے۔ نتیش کمار نے بھی تعمیر پر کافی پیسہ خرچ کیا۔ پٹنہ میں ریلوے اسٹیشن کے سامنے بدھ پارک بنا ہے جہاں کبھی بانکی پور جیل ہوا کرتی تھی۔ اس پر سینکڑوں کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ اسی طرح پٹنہ میں ایک میوزیم اور راجگیر میں ایک انٹرنیشنل کنونشن سنٹر کی تعمیر پر بھی سینکڑوں کروڑ خرچ کیے گئے۔ میں ہمیشہ تعجب کرتا ہوں کہ کیا اس سے بہاریوں کا فخر بڑھا یا پھر اتنا پیسہ یوں ہی بہا دیا گیا۔

ابھی گزشتہ دنوں جب صحافی پشیہ متر کا انٹرویو سنا تو یہی سوال ایک بار پھر ذہن میں گردش کرنے لگا۔ پشیہ متر کی حال ہی میں بہار پر مبنی ایک کتاب آئی ہے جسے رُکتاپور کے نام سے راج کمل پرکاشن نے شائع کیا ہے۔ پشیہ متر نے بتایا کہ ان کی کتاب کا عنوان دراصل ایک ایسی جگہ سے ہے جہاں ہر چیز رکی ہوئی ہو۔ انھوں نے اپنی کتاب کے بارے میں بتایا کہ اگر پل، سڑک یا کوئی عمارت بنانا ہی بہار کی ترقی ہے تو پھر تو بہار کی ترقی ہوئی ہے۔ لیکن 13 کروڑ کی آبادی کے لیے سرکاری اسپتالوں میں صرف 2800 ڈاکٹروں کی موجودگی الگ کہانی سامنے رکھتے ہیں، کیونکہ ان اسپتالوں کے لیے کل منظور شدہ عہدوں کی تعداد 12 ہزار ہے۔ تو کیا اسے ترقی کہیں گے؟ انھوں نے ایک اور اہم بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ بہار ہر سال یا پھر ہر دوسرے سال سیلاب کی آفت برداشت کرتا ہے، لیکن آج تک سیلاب متاثرین کے لیے مستقل پناہ گاہ کا انتظام نہیں کیا گیا۔ اس سال بھی سیلاب سے تقریباً ڈھائی لاکھ لوگ اپنا گھر چھوڑنے کو مجبور ہوئے تھے۔ لیکن ان میں سے زیادہ تر ہائی وے اور سڑکوں پر ہی ڈیرا ڈالے ہوئے نظر آئے۔

مجھے یاد ہے کہ بہار کے لیے یہ ایک لگاتار سامنے آنے والا ایشو ہے۔ 1987 میں بھی میں نے سیلاب آنے پر ہزاروں لوگوں کو ندیوں کے کنارے سڑکوں پر ڈیرا ڈالے دیکھا تھا۔ بارش میں بھی وہ کھلے میں رہتے تھے، خواتین و مرد کھلے میں ہی رفع حاجت کے لیے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ کھلے میں ہی خواتین بچوں کو جنم دے رہی تھیں، لوگوں کے ساتھ مویشی بھی وہیں رہتے تھے۔ میں نے یہ بھی دیکھا تھا کہ ان کے لیے کشتی، پینے کا پانی، کھانے اور مویشیوں کے لیے چارہ ملنا کتنا مشکل تھا۔ پشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے ٹھیکیداروں کو ریت کی بوریوں کو وہاں لگانے کے ٹھیکے ملتے، کرایہ پرا کشتیاں لی جاتیں، لوگوں کو ترپال وغیرہ دے کر جھونپڑی بنانے کی سہولت دی جاتی۔ اس طرح کروڑوں روپے خرچ ہوتے، لیکن کوئی مستقل حل اس کا نہیں نکالا گیا۔

لیکن صرف سرکاری سطح پر ترقی نہ ہونا مجھے 2015 میں اٹپٹا نہیں لگا تھا۔ مجھے حیرت ہوئی تھی گاؤں والوں کے اس لہجے پر جو وہ مودی اور امت شاہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے اختیار کرتے تھے۔ گاؤں والے مذاق کرتے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی وزیر اعظم کو بلاک سطح پر جلسہ کرتے نہیں دیکھا۔ وہ امت شاہ کی اس تنبیہ کا بھی مذاق اڑاتے تھے کہ اگر مہاگٹھ بندھن جیت گیا تو پاکستان میں پٹاخے پھوڑے جائیں گے۔ دھیان رہے کہ یہ 2014 کے بعد کا سال تھا۔

اسی دوران کچھ مزید باتیں اور اشارے بھی ایسے تھے جن سے مجھے لگا تھا کہ 2015 کا الیکشن بی جے پی اور این ڈی اے نہیں جیت سکیں گے۔ جب میں دہلی واپس آیا تو پہلے مرحلہ کا ووٹنگ ہونے میں 10 دن باقی تھے۔ لیکن جب آؤٹ لک کے مدیر کرشنا پرساد نے مجھ سے پوچھا کہ بہار کے بارے میں میرا کیا اندازہ ہے، تو میں نے لاپروائی میں کہا کہ 240 سیٹوں والی بہار اسمبلی میں بی جے پی کو بمشکل 70 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ میری یہ بات سن کر انھوں نے اپنا اسمارٹ فون نکالا اور کہا کہ یہ بات ریکارڈ کر دو۔

میں نے تفصیل سے سمجھایا کہ آخر کیوں این ڈی اے کمزور نظر آ رہا ہے اور مہاگٹھ بندھن کی حالت مضبوط ہے۔ لیکن کرشنا پرساد نے زور دیا کہ ایسے کام نہیں چلے گا اور مجھے یہ بتانا ہوگا کہ این ڈی اے کو کتنی سیٹیں مل سکتی ہیں۔ حالانکہ میں نے آنا کانی کی، لیکن آخر کار مجھے کہنا پڑا کہ میرے اندازے کے مطابق این ڈی اے کو 70 سے زیادہ سیٹیں نہیں ملنے والیں۔

میرے اس اندازے کو ویب سائٹ کی پوڈکاسٹ پر پوسٹ کیا گیا اور کئی لوگوں کا اس کی طرف دھیان گیا کیونکہ اس کی سرخی ہی کہہ رہی تھی کہ بہار میں این ڈی اے کو 70 سے زیادہ سیٹیں نہیں ملنے والیں۔ میں محسوس کر سکتا تھا کہ دفتر میں لوگ مجھے کیسے دیکھ رہے ہیں۔ ساتھ میں کام کرنے والے کچھ کہہ تو نہیں رہے تھے لیکن انھیں لگ رہا تھا کہ میں نے جو کچھ کہا وہ بغیر سوچے سمجھے ہی کہہ دیا۔ عام طور پر اس انتخاب میں سوچ یہ تھی کہ بی جے پی تو آرام سے انتخاب جیت جائے گی۔ کئی ہمدرد ساتھیوں نے مجھے مشورہ دیا کہ ووٹوں کی گنتی کے دن گھر پر ہی رہوں۔

ووٹوں کی گنتی اتوار کو تھی اور میں بال کٹوانے جا رہا تھا تبھی صبح 10 بجے کے قریب کسی کا فون آیا کہ سب کچھ ہو چکا اور بی جے پی نے بہار جیت لیا ہے۔ گنتی اتنی جلدی پوری ہو گئی، میں نے حیرت ظاہر کی، لیکن فون کرنے والے نے کہا کہ ٹی وی چینلوں نے تو نتائج کا اعلان کر دیا۔ میں بھاگا بھاگا گھر پہنچا اور دیکھا کہ این ڈی ٹی وی نے پوسٹل بیلٹ کو اصلی گنتی مان کر بہار میں بی جے پی کی جیت کا اعلان کر دیا تھا۔

یہ ایک بڑی غلطی تھی، حالانکہ عام سوچ بھی یہی تھی کہ بی جے پی بڑے فرق سے بہار الیکشن جیت لے گی۔ کیونکہ نریندر مودی نے انتخابی تشہیر کے دوران اپوزیشن پر خوب چھینٹا کشی کی تھی اور امت شاہ تو پٹنہ میں ہی ڈیرا ڈالے ہوئے تھے۔ پیسہ پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔ ایسے میں لالو پرساد اور نتیش کمار کے پاس موقع ہی کہاں تھا؟ لیکن نتیش اور لالو پرساد کے پاس الیکشن پالیسی میکر پرشانت کشور تھے، جنھوں نے 2014 کی انتخابی تشہیر میں مودی کی مدد کی تھی۔ پرشانت کشور نے مہاگٹھ بندھن کو اپنے وسائل کا سمجھداری سے استعمال کرنے کا منتر دیا تھا۔ سائیکل اور سائیکل رکشہ کے ذریعہ تشہیری عمل انجام دیا گیا تھا، اور بہار کے دیہی علاقوں میں یہ بہت کارگر ثابت ہوا تھا۔

رواں سال یعنی 2020 میں مودی اتنے مقبول نہیں ہیں جتنے 2015 میں تھے۔ معاشی بحران سے ہر کوئی پریشان ہے۔ بہار کے لیے ڈبل انجن کی بات کرنے والے پی ایم کو اس بار ڈبل اینٹی انکمبنسی یعنی دوہری اقتدار مخالف لہر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جیسی کہ کوشش کی جا رہی تھی، ویسا کچھ نہیں ہو پا رہا ہے اور یہ ظاہر بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر مملکت برائےد اخلہ کہہ رہے ہیں کہ اگر آر جے ڈی جیتی تو بہار پر کشمیری دہشت گردوں کا قبضہ ہوجائے گا۔ اسی طرح بی جے پی لیڈر بھوپیندر یادو بھی آر جے ڈی کو بایاں محاذ شدت پسندوں کے ساتھ ہاتھ ملانے کے الزام لگا رہے ہیں۔

بہار انتخاب میں کچھ ڈرامائی کبھی بھی ہو سکتا ہے، نئی سازشیں سامنے آ سکتی ہیں، ہو سکتا ہے تشدد ہو، گرفتاریاں ہوں، اور یہ سب ہوگا لہر کا رخ موڑنے کے لیے۔ لیکن فی الحال پہلے دور کی ووٹنگ سے ہفتہ بھر پہلے تک بہار کے لوگ بی جے پی کے جھانسے کا طلسم توڑنے کے موڈ میں لگ رہے ہیں۔

next