اسرارالحق مجاز: اپنا گریباں بھول کر سب کا گریباں سینے والا شاعر... برتھ ڈے اسپیشل

اسرارالحق مجاز نے جب ہوش سنبھالا تو وہ دور کئی طرح کی تبدیلیوں کا دور تھا۔ ایک طرف ہندوستان غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہونے کی کوشش کر رہا تھا، اور دوسری طرف ادب گوناگوں تبدیلیوں سے گزر رہا تھا۔

اسرارالحق مجاز
اسرارالحق مجاز
user

تنویر احمد

محض 44 سال کی عمر اور تقریباً 25 سال کی شاعری میں ادب کے آسمان پر اپنی ایک خاص اور علیحدہ شناخت بنانے والے اسرارالحق مجاز کی شعری دنیا کسی کو بھی سحر انگیز کرنے کے لیے کافی ہے۔ رومانیت ہو یا انقلابی روش، سیاست ہو یا مذہبی فکر اور سیاسی ہیجان ہو یا زندگی کی جدوجہد، مجاز کی شعری دنیا میں ہر طرح کے رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ان کی شاعری کے تعلق سے بات کی جائے تو معروف ادیب ڈاکٹر عبدالاحد خاں جلیل کے مضمون 'مجاز مرحوم: ایک تاثر' کا یہ اقتباس کافی اہم معلوم پڑتا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ "مجاز ایک ایسا ترقی پسند اور جدید انداز فکر و نظر کا شاعر تھا کہ جس کی رگ و پے میں قدیم روایات اور ادبی اقدار سرایت کیے ہوئے تھیں۔ اس کے کلام میں درد دل اور سوز دروں کے علاوہ ایک خوب سے خوب تر کی متلاشی روح بے چین و بے قرار تھی اور اس کی ادبی صلاحیتیں اس کی خودداریوں کے زیر سایہ پناہ گیر رہتی تھیں۔" (سوینیر بیاد اسرارالحق مجاز -دسمبر 1974)

ترقی پسند فکر کی ایک بہترین مثال اور نمائندہ ادیب اسرارالحق مجاز نے آج ہی کے دن یعنی 19 اکتوبر 1911 کو اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی واقع ردولی قصبہ میں آنکھیں کھولی تھیں، اور پھر اس کے بعد جب ہوش سنبھالا تو اپنی شاعری کے ذریعہ لوگوں کی آنکھیں کھولنے کا ذمہ سنبھال لیا۔ کبھی اپنے تجربات کے ذریعہ لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی، تو کبھی اپنا غم بھول کر دوسروں کے غم کا مداوا کرنے پر توجہ دی اور اس طرح اپنی شاعری کو لازوال بنا دیا:


کیا کیا ہوا ہے ہم سے جنوں میں نہ پوچھیے

الجھے کبھی زمیں سے کبھی آسماں سے ہم

---

سب کا تو مداوا کر ڈالا اپنا ہی مداوا کر نہ سکے

سب کے تو گریباں سی ڈالے اپنا ہی گریباں بھول گئے

---

ہندو چلا گیا نہ مسلماں چلا گیا

انساں کی جستجو میں اک انساں چلا گیا

---

پھر مری آنکھ ہو گئی نمناک

پھر کسی نے مزاج پوچھا ہے

اسرارالحق مجاز نے جب ہوش سنبھالا تو وہ دور کئی طرح کی تبدیلیوں کا دور تھا۔ ایک طرف تو ہندوستان غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہونے کی کوششوں میں مبتلا تھا، اور دوسری طرف ادب میں گوناگوں تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی تھیں۔ ان سبھی کا اثر مجاز کی شاعری میں دیکھنے کو ملا۔ جہاں تک انقلابی شاعری کی بات ہے، خصوصاً 40-1930 کی دہائی میں انھوں نے اپنی نظموں سے لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ جب انقلابی شاعری کی بات آتی ہے تو فیض احمد فیض، سردار جعفری اور کیفی اعظمی جیسے شعراء کا نام زبان پر آتا ہے، لیکن مجاز کی انقلابی شاعری ان لوگوں سے ذرا مختلف ہے۔ مجاز کی شاعری میں بلند آہنگی کم اور خیال و فکر میں پختگی زیادہ ہے۔ مشہور ادیب شارب ردولوی نے ساہتیہ اکادمی کے کتابی سلسلہ 'ہندوستانی ادب کے معمار: اسرارالحق مجاز' میں لکھا ہے "ان کی تقریباً 60 نظموں میں صرف 19-18 نظمیں ایسی ہیں جن کا آہنگ سیاسی یا انقلابی ہے۔ ان میں بھی صرف 8 نظمیں 'انقلاب'، 'سرمایہ داری'، ہمارا جھنڈا'، 'مزدوروں کا گیت'، 'آہنگ نو'، 'بول اری او دھرتی بول'، 'بدیشی مہمان سے' اور 'آہنگ جنوں' ایسی نظمیں ہیں جو بلند آہنگ ہیں اور ان میں انقلاب لانے، سرمایہ داری کے خلاف لڑنے اور قصر سلطاں پھونک دینے کی بات کی گئی ہے۔" ویسے مجاز کے بلند آہنگ انقلابی اشعار بھلے ہی کم ہوں، لیکن انھیں سرکردہ شعراء کی فہرست میں کھڑا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں:


ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن

تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا

--

اٹھو نقارۂ افلاک بجا دو اٹھ کر

ایک سوئے ہوئے عالم کو جگا دو اٹھ کر

--

یہ وہ آندھی ہے جس کی رو میں مفلس کا نشیمن ہے

یہ وہ بجلی ہے جس کی زد میں ہر دہقاں کا خرمن ہے

--

کب بھلا دھمکی سے گھبراتے ہیں ہم

دل میں جو ہوتا ہے کہہ جاتے ہیں ہم

آسماں ہلتا ہے جب گاتے ہیں ہم

آج جھنڈا ہے ہمارے ہاتھ میں

انقلابی شاعری ہو یا رومانی شاعری، مجاز کے کلام کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے، اور اس کی وجہ ان کی قلیل عمر ہے۔ کم کلام ہونے کے باوجود انھوں نے جو مرتبہ ادبی افق پر حاصل کیا ہے، وہ کم ہی لوگوں کو نصیب ہے۔ اگر مجاز کی رومانی شاعری کی بات کی جائے تو اس میں ایک الگ کشش و سحرانگیزی نظر آتی ہے۔ محبوب کی زلف کی بات ہو یا نگاہ کی، دل کی بات ہو یا نقاب کی، مجاز کی شاعری ایک بے قراری پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ سرد آہ بھرنے کو بھی مجبور کرتی ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مجاز نے عورت کو آسمانی مخلوق کے طور پر پیش کرنے کی کوشش نہیں کی، اور نہ ہی اس کے تعلق سے ایسی باتیں کیں جو اس زمین پر موجود عورت میں ناپید ہو۔ انھوں نے ہمیشہ حقیقت پسندانہ رجحان اختیار کرتے ہوئے اپنی شاعری میں صنف نازک کو ایک خاص ادا کے ساتھ پیش کیا۔ مثلاً...


بتاؤں کیا تجھے اے ہم نشیں کس سے محبت ہے

میں جس دنیا میں رہتا ہوں وہ اس دنیا کی عورت ہے

--

بہت مشکل ہے دنیا کو سنورنا

تری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے

--

مجھ کو یہ آرزو وہ اٹھائیں نقاب خود

ان کو یہ انتظار تقاضا کرے کوئی

--

آنکھ سے آنکھ جب نہیں ملتی

دل سے دل ہم کلام ہوتا ہے

--

کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی

کچھ مجھے بھی خراب ہونا تھا

مجاز کی سب سے اچھی بات یہ تھی کہ وہ لوگوں کے درد اور تکلیف کو محسوس کرتے تھے۔ اپنے معاشرے کو بہترین بنانے کی خواہش میں لگے رہتے تھے اور اس کوشش میں اپنی پریشانیوں اور تکلیفوں کو بھی اکثر بھول جایا کرتے تھے۔ ویسے اسرارالحق مجاز کی زندگی کسی درد بھری داستان سے کم نہیں ہے۔ انھوں نے محض 44 سال کی زندگی گزاری اور اس میں عشق کی ناکامی کی تکلیف تو برداشت کرنی ہی پڑی، تین دماغی دورے بھی پڑے۔ 1940 میں پہلی مرتبہ نروس بریک ڈاؤن کا حملہ ہوا، جس کے بارے میں کئی ادباء نے لکھا ہے کہ ایسا عشق میں ناکامی کے سبب ہوا، حالانکہ اس میں کچھ دوسری وجوہات کا بھی عمل دخل معلوم پڑتا ہے۔ بہر حال، دوسرا دماغی دورہ 1945 میں اور پھر تیسرا دورہ 1952 میں پڑا۔ یہ وہ وقت تھا جب ان کی طبیعت انتہائی خراب ہو گئی تھی اور کئی مہینوں کے علاج کے بعد حالات کچھ بہتر ہوئے۔ لیکن اپنا گریباں بھول کر سبھی کا گریباں سینے والا یہ انسان دوست شاعر 5 دسمبر 1955 کو ہمیشہ کی نیند سو گیا۔

وقت کی سعیٔ مسلسل کارگر ہوتی گئی

زندگی لحظہ بہ لحظہ مختصر ہوتی گئی

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔